نگران وفاقی وزیر خزانہ ڈاکٹر شمشاد اختر کا نیشنل ڈیزاسٹر رسک مینجمنٹ فنڈ کے اجراءکی تقریب سے خطاب

اسلام آباد ۔ 16 جولائی (اے پی پی) نگران وفاقی وزیر خزانہ ڈاکٹر شمشاد اختر نے کہا ہے کہ پاکستان کا ماحولیاتی آلودگی کا سبب بننے والی گیسوں کے اخراج میں حصہ نہ ہونے کے برابر ہے تاہم یہ عالمی سطح پر رونما ہونے والی موسمیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ممالک میں شامل ہے، عالمی برادری اور ڈونرز پاکستان کی موسمیاتی تبدیلیوں کے خطرات سے …

اسلام آباد ۔ 16 جولائی (اے پی پی) نگران وفاقی وزیر خزانہ ڈاکٹر شمشاد اختر نے کہا ہے کہ پاکستان کا ماحولیاتی آلودگی کا سبب بننے والی گیسوں کے اخراج میں حصہ نہ ہونے کے برابر ہے تاہم یہ عالمی سطح پر رونما ہونے والی موسمیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ممالک میں شامل ہے، عالمی برادری اور ڈونرز پاکستان کی موسمیاتی تبدیلیوں کے خطرات سے نمٹنے کی کوششوں میں معاونت کریں۔ وہ پیر کو یہاں نیشنل ڈیزاسٹر رسک مینجمنٹ فنڈ (این ڈی آر ایم ایف) کے اجراءکی تقریب سے خطاب کر رہی تھیں۔ نیشنل ڈیزاسٹر رسک مینجمنٹ فنڈ کے سی ای او لیفٹیننٹ جنرل (ر) ندیم احمد، ایشیائی ترقیاتی بنک کی کنٹری ڈائریکٹر ژیاﺅ ہونگیانگ، وزارت موسمیاتی تبدیلی، منصوبہ بندی کمیشن اور اقتصادی امور ڈویژن کے وفاقی سیکرٹریز اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے اداروں کے حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔ وزیر خزانہ نے نیشنل ڈیزاسٹر رسک مینجمنٹ فنڈ کے اجراءکو سراہتے ہوئے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں اور آلودگی جیسے عوامل کے باعث دنیا میں ناگہانی آفات کے تواتر سے رونما ہونے والے واقعات کے پیش نظر آفات کے خطرات میں کمی لانے کا شعبہ ڈی آر آر بڑی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ خطے میں ناگہانی آفات سے ہونے والے جانی و مالی نقصانات بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی آلودگی کا سبب بنے والی گرین ہاوس گیسوں کے اخراج میں پاکستان کا حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے لیکن دیگر ممالک کے مقابلے میں اسے قدرتی آفات کے باعث بہت زیادہ نقصانات کا سامنا ہے، ان نقصانات سے بچنے کی کوششوں کے سلسلے میں نیشنل ڈیزاسٹر رسک مینجمنٹ فنڈ قائم کیا گیا ہے۔

مزید خبریں