اسلام آباد ۔ 18 جولائی (اے پی پی)وفاقی وزیر اطلاعات، نشریات، قانون، انصاف و پارلیمانی امور بیرسٹر سیّد علی ظفر نے کہا ہے کہ فاٹا اور پاٹا کے انضمام سے قبل وفاقی ٹیکسز کی صورتحال کو برقرار رکھا گیا ہے، وفاقی کابینہ نے تمام نوعیت کے وفاقی ٹیکسز سے چھوٹ کی منظوری دی ہے، آنے والے چند دنوں میں فاٹا کیلئے لیگل فریم ورک کے حوالے سے وفاقی اور صوبائی …
وفاقی وزیر اطلاعات، نشریات، قانون، انصاف و پارلیمانی امور بیرسٹر سیّد علی ظفر کی میڈیا بریفنگ

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 18 جولائی (اے پی پی)وفاقی وزیر اطلاعات، نشریات، قانون، انصاف و پارلیمانی امور بیرسٹر سیّد علی ظفر نے کہا ہے کہ فاٹا اور پاٹا کے انضمام سے قبل وفاقی ٹیکسز کی صورتحال کو برقرار رکھا گیا ہے، وفاقی کابینہ نے تمام نوعیت کے وفاقی ٹیکسز سے چھوٹ کی منظوری دی ہے، آنے والے چند دنوں میں فاٹا کیلئے لیگل فریم ورک کے حوالے سے وفاقی اور صوبائی کمیٹیوں کے اتفاق رائے سے تیار ہونے والا آرڈیننس جاری ہو جائے گا، محمد نواز شریف سمیت کسی بھی قیدی کو پنجاب جیل مینوئل کے مطابق سہولیات فراہم ہونی چاہئیں، آئین کے آرٹیکل 10 اے کے تحت نگران حکومت نے محمد نواز شریف کے دو ریفرنسز کی سماعت کھلی عدالت میں کرنے کی منظوری دےدی ہے، اگر کسی بھی مرحلہ میں وزارت داخلہ سیکورٹی وجوہات کی بناءپر ٹرائل کورٹ کا مقام تبدیل کرنا چاہے تو وہ حکومت سے رجوع کر سکتی ہے، وفاقی کابینہ نے ایف اے ٹی ایف کے حوالہ سے متعدد پالیسی فیصلے کئے ہیں، اگر نگران حکومت اس ضمن میں فیصلے نہ کرتی تو ایف اے ٹی ایف پاکستان کو بلیک لسٹ کر دیتا، ڈالر کی قیمت میں مصنوعی استحکام کے باعث ڈالر کی قیمت میں ایک دم اضافہ ہوا ہے، پیمرا کو آزاد ریگولیٹری ادارہ بنا دیا ہے۔ وہ بدھ کو وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد پی آئی ڈی میں میڈیا کو بریفنگ دے رہے تھے۔ سینیٹر عطاءمحمد، سینیٹر حبیب اﷲ، سینیٹر خانزادہ خان، سینیٹر میاں عتیق اور دیگر بھی اس موقع پر موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی کابینہ نے سابقہ فاٹا/پاٹا کے علاقوں میں ابتدائی طورپر تین ماہ کے لئے وفاقی ٹیکسوں کی چھوٹ کی منظوری دےدی ہے، فاٹا اور پاٹا کے شہریوں کیلئے انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس، مینوفیکچرنگ ٹیکس سمیت وفاق کی جانب سے کسی قسم کا ٹیکس عائد نہیں کیا گیا کیونکہ فاٹا کے انضمام کے وقت اور اس سے پہلے بھی فاٹا کے لوگوں سے وعدہ کیا گیا تھا کہ ان سے جو ٹیکسز اس وقت وصول کئے جا رہے تھے وہی ٹیکسز بعد میں بھی وصول کئے جائیں گے، اسی حوالہ سے سینیٹ، قومی اسمبلی اور خیبر پختونخوا اسمبلی نے قراردادیں بھی منظور کی تھیں اس کی روشنی میں یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فاٹا کیلئے لیگل فریم ورک کے حوالہ سے وفاق اور صوبائی کمیٹیوں کے اتفاق رائے سے صوبائی آرڈیننس کو حتمی شکل دےدی گئی ہے جو آنے والے چند دنوں میں وزیراعلیٰ کے پی کے کی ایڈوائس پر گورنر کے پی کے جاری کریں گے۔








