نگران وفاقی وزیر بیرسٹر سیّد علی ظفر کا نیشنل واٹر ٹاسک فورس کے پہلے اجلاس سے خطاب

ملک میں پانی کی بحرانی صورتحال سے نمٹنے کیلئے قومی آبی پالیسی پر عملدرآمد کیلئے رہنما اصولوں پر مشتمل مسودہ مرتب کیا جائے، ماہرین قومی واٹر پالیسی کی روشنی میں روڈ میپ کیلئے تجاویز دیں نگران وفاقی وزیر بیرسٹر سیّد علی ظفر کا نیشنل واٹر ٹاسک فورس کے پہلے اجلاس سے خطاب اسلام آباد ۔ 18 جولائی (اے پی پی) نگران وفاقی وزیر برائے آبی وسائل بیرسٹر سیّد علی ظفر …

ملک میں پانی کی بحرانی صورتحال سے نمٹنے کیلئے قومی آبی پالیسی پر عملدرآمد کیلئے رہنما اصولوں پر مشتمل مسودہ مرتب کیا جائے، ماہرین قومی واٹر پالیسی کی روشنی میں روڈ میپ کیلئے تجاویز دیں
نگران وفاقی وزیر بیرسٹر سیّد علی ظفر کا نیشنل واٹر ٹاسک فورس کے پہلے اجلاس سے خطاب

اسلام آباد ۔ 18 جولائی (اے پی پی) نگران وفاقی وزیر برائے آبی وسائل بیرسٹر سیّد علی ظفر نے کہا ہے کہ ملک میں پانی کی بحرانی صورتحال سے نمٹنے کیلئے قومی آبی پالیسی پر عملدرآمد کیلئے رہنما اصولوں پر مشتمل مسودہ مرتب کیا جائے۔ وہ بدھ کو یہاں نیشنل واٹر ٹاسک فورس کے پہلے اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔ اجلاس میں حکومتی محکموں کے واٹر سیکٹر کے اعلیٰ حکام اور آبی شعبہ میں وسیع تجربہ کے حامل ماہرین تعلیم نے بھی شرکت کی۔ اس موقع پر نگران وفاقی وزیر نے اعلیٰ سطح کی قومی ٹاسک فورس کے قیام کے احکامات جاری کئے جو ملک میں پانی کے تحفظ کیلئے روڈ میپ تیار کرے۔ واضح رہے کہ 1947ءمیں پاکستان میں فی کس سالانہ پانی کی دستیابی 5 ہزار 260 کیوبک میٹر تھی جو 2018ءمیں ایک ہزار کیوبک میٹر سے بھی کم سطح پر آ گئی ہے۔ نیشنل ٹاسک فورس کو ڈائریکٹر یونیسکو ریجنل سائنس بیورو برائے ایشیاءو پیسفک ڈاکٹر شہباز خان نے روڈ میپ کے مسودہ کے بنیادی نکات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ پانی ذخیرہ کرنے کیلئے فوری طور پر آبی ذخائر کی تعمیر اور مصنوعی طریقہ سے انہیں بھرنے کی ضرورت ہے تاہم پاکستان کی پانی ذخیرہ کرنے کی استعداد میں اضافہ اکیلے اس مسئلہ کو حل نہیں کر سکتا، اس کے ساتھ ساتھ گورننس اور موسمی پانی کے نقصان سے بچاﺅ، صوبائی سطح پر پانی کی دستیابی اور ضرورت کو بھی مدنظر رکھنا ہو گا۔ انہوں نے ملک میں پانی کے تحفظ کیلئے تین درجاتی 10 سالہ ڈرافٹ پلان بھی پیش کیا۔ اس میں واٹر انفراسٹرکچر، گورننس اور پانی کے مناسب استعمال کیلئے ٹیکنالوجی شامل ہے۔ مشاورتی اجلاس کا انعقاد وزارت آبی وسائل اور وفاقی فلڈ کمیشن نے یونیسکو کے تعاون سے کیا تھا جس کا مقصد قومی واٹر پالیسی پر عملدرآمد کیلئے روڈ میپ کا مسودہ تیار کرنا تھا جس کی منظوری مشترکہ مفادات کونسل سے دی جا چکی ہے۔ انہوں نے ماہرین سے کہا کہ وہ ملک کو درپیش پانی کے مسئلہ سے نمٹنے کیلئے قومی واٹر پالیسی کی روشنی میں روڈ میپ کیلئے تجاویز دیں۔

مزید خبریں