وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات مخدوم خسرو بختیار کی پریس کانفرنس

اسلام آباد ۔ 2 اکتوبر (اے پی پی)وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات مخدوم خسرو بختیار نے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) نے 18 سال تک پاکستان پر حکومت کی لیکن انہوں نے ملک کو قرضوں کے بوجھ تلے پہنچا دیا اور آج ملک 28 ہزار ارب کا مقروض ہے، 20 کروڑ عوام میں 70 ہزار لوگ ٹیکس دیتے ہیں، 5 سال کی حکومت نے جب دنیا …

اسلام آباد ۔ 2 اکتوبر (اے پی پی)وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات مخدوم خسرو بختیار نے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) نے 18 سال تک پاکستان پر حکومت کی لیکن انہوں نے ملک کو قرضوں کے بوجھ تلے پہنچا دیا اور آج ملک 28 ہزار ارب کا مقروض ہے، 20 کروڑ عوام میں 70 ہزار لوگ ٹیکس دیتے ہیں، 5 سال کی حکومت نے جب دنیا میں تیل کی قیمتیں کم ہوئیں تو اس نے عوام کو کوئی ریلیف نہیں دیا، 32 ارب ڈالر کا فائدہ ہوا یہ کہاں گیا اس کا جواب دے، پاکستانی عوام 12 سو ارب روپے کا گردشی قرضے کا مقروض ہے، (ن) لیگ نے آخری سال میں 450 نئی سکیمیں شروع کیں، قرضے لے کر ترقیاتی کام سیاسی بنیادوں پر شروع کئے جو کہ عارضی تھے، وزیراعظم نے بلاک ایلوکیشن اور صوابدیدی فنڈز ختم کئے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ دو جماعتیں پاکستان پر تین دہائیوں سے براجمان ہیں، (ن) لیگ نے 18 سال پنجاب پر حکومت کی، پیپلز پارٹی نے 15 سال تک سندھ پر حکومت کی اور اب ان دونوں صوبوں کے حالات دیکھو۔ انہوں نے کہا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی سے 32 ارب ڈالر کا ریلیف ملا، یہ 32 ارب ڈالر کہاں گئے۔ انہوں نے کہا کہ تین سال سے پرائیویٹ سیکٹر کی سرمایہ کاری کم ہے، جی ڈی پی گروتھ قرضے لے کر بڑھائی گئی، قرضے لے کر ترقیاتی منصوبے شروع کئے گئے، پرائیویٹ سیکٹر کے قرضے محدود کر دیئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ گردشی قرضہ 12 سو ارب تک پہنچ چکا ہے، اس سے بری گورننس کی مثال نہیں ملتی۔