وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین کی پارلیمنٹ ہاﺅس کے باہر صحافیوں سے گفتگو

اسلام آباد ۔ 8 اکتوبر (اے پی پی) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے واضح کر دیا ہے کہ اپوزیشن روئے ،دھوئے ،واک آﺅٹ کرے یا کچھ اور، اب احتساب کا عمل رکنے والا نہیں ہے، اپوزیشن کا نام کبھی نہیں لیا، صرف چوروں اور ڈاکوﺅں کے خلاف کارروائی کی بات کریں تو اپوزیشن کے چہرے فق ہو جاتے ہیں …

اسلام آباد ۔ 8 اکتوبر (اے پی پی) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے واضح کر دیا ہے کہ اپوزیشن روئے ،دھوئے ،واک آﺅٹ کرے یا کچھ اور، اب احتساب کا عمل رکنے والا نہیں ہے، اپوزیشن کا نام کبھی نہیں لیا، صرف چوروں اور ڈاکوﺅں کے خلاف کارروائی کی بات کریں تو اپوزیشن کے چہرے فق ہو جاتے ہیں اور وہ ناراض ہو کر بیٹھ جاتی ہے، جمہوریت کا لبادہ اوڑھ کر اپوزیشن غیر جمہوری رویئے اپنائے ہوئے ہے، مخصوص سینیٹر سمجھتے ہیں کہ فوج پر تنقید کا نام جمہوریت ہے لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہے، ہم شہیدوں کی تضحیک کسی صورت برداشت نہیں کرینگے ،اداروں کی تضحیک سے آگے نہیں چل سکتے، آئین میں درج ہے کہ آئین ،فوج ،عدلیہ کی تضیحک نہیں ہوسکتی، شہباز شریف کے خلاف مقدمہ نواز شریف حکومت میں بنا، ان کی گرفتاری سے حکومت کا کوئی تعلق نہیں ہے ۔وہ پیر کو پارلیمنٹ ہاﺅس کے باہر صحافیوں سے گفتگو کر رہے تھے۔ وفاقی وزیر چوہدری فواد حسین نے کہا کہ جب سے وزیراعظم عمران خان نے اعلان کیا ہے کہ چوروں اور ڈاکوﺅں کا احتساب ہوگا تو قدرت بھی پاکستان پر مہربان ہوگئی ہے، بارش کے ساتھ موسم بدل رہا ہے اور اچھے موسم پاکستان میں آرہے ہیں۔ وفاقی وزیر چوہدری فواد حسین نے کہا کہ آج بھی سینیٹ میں ہم نے اپوزیشن کی تمام تقاریر سنیں لیکن ان میں یہ حوصلہ نہیں کہ وہ ہمارا جواب بھی سن لیں، اپوزیشن صرف حیلوں بہانوں کا سہارا لیکر واک آﺅٹ کررہی ہے، اپوزیشن کے رویئے جمہوری نہیں ہیں، جہموریت کا لبادہ اوڑھتے ہیں ،ایک سینیٹر بات شروع کرینگے تو صوبیدار ،حوالدار ،لانس نائیک سے شروع کرتے ہیں دراصل وہ فوج کی تضیحک کرتے ہیں، میرا تعلق شہیدوں کے شہر سے ہے،جہلم کا کوئی علاقہ ایسا نہیں جہاں شہید اور غازی نہ ہوں، ہم یہاں تضیحک سننے نہیں آئے ،ان لوگوں کو جو راتوں کو انتہائی سخت موسم میں پاکستان کی سرحدوں پر اپنی جانوں کی قربانی دیتے ہیں ہم ان کے خلاف اور اداروں کی تضیحک نہیں سنیں گے،آئین میں درج ہے کہ آئین ،فوج اور عدلیہ کی تضیحک نہیں کی جائے گی لیکن سینیٹ میں چند سینٹرز نے یہ رویہ اپنا رکھا ہے کہ وہ آتے ہی سپاہی، حوالدار اورجرنیل کی تضیحک کرینگے، یہ رویہ ناقابل قبول ہے ،ان کو اپنے رویوں میں بہتری لانا پڑے گی ،ایسا نہیں چلنے دیں گے کہ یہ تماشا بن جائے ،اچکزئی کی پارٹی نے بلوچستان میں اس طرح حکومت کی ہے کہ فوج پر تنقید کرنے کا نام جمہوریت ہے، ایک ذمہ دار حکومت میں ایسا نہیں ہوتا۔