چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کا سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی سلور جوبلی کے موقع پر ”قانون کے نئے افق“ کے موضوع پرسیمینار سے خطاب

لاہور۔12 اکتوبر(اے پی پی )چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ عوام کو انصاف کی بروقت فراہمی کیلئے قوانین کو اپ ڈیٹ کرنے کے ساتھ ساتھ نئی ڈیوائسز اور ٹولز کے استعمال سے انہیں آسان بنانے کی ضرورت ہے‘ انصاف کی فراہمی میں عدلیہ نے اپنا اعتبار قائم نہ کیا تو آنیوالی نسل اسے معاف نہیں کریگی‘ عدلیہ پر عوام اس وقت اعتبار کریگی جب عوام …

لاہور۔12 اکتوبر(اے پی پی )چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ عوام کو انصاف کی بروقت فراہمی کیلئے قوانین کو اپ ڈیٹ کرنے کے ساتھ ساتھ نئی ڈیوائسز اور ٹولز کے استعمال سے انہیں آسان بنانے کی ضرورت ہے‘ انصاف کی فراہمی میں عدلیہ نے اپنا اعتبار قائم نہ کیا تو آنیوالی نسل اسے معاف نہیں کریگی‘ عدلیہ پر عوام اس وقت اعتبار کریگی جب عوام انصاف کو قبول کرنا شروع کریں گے‘ ہمیں یہ دیکھنا ہو گا کہ ملک میں”رائٹ ٹو پرسن“ اور ”رائٹ ٹو پراپرٹی“ دونوں محفوظ ہیں‘ عدالتوں میں کیسز کا بوجھ کم کرنے کیلئے اے ڈی آر سسٹم لانے کی ضرورت ہے۔ وہ جمعہ کے روز مقامی ہوٹل میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی سلور جوبلی کے موقع پر ”قانون کے نئے افق“ کے موضوع پرمنعقدہ سیمینار سے خطاب کر رہے تھے‘ اس موقع پر چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس یاور علی‘ جسٹس انوار الحق‘ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب احمد اویس‘ صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن پیر کلیم خورشید‘ سیکرٹری بار صفدر حسین تارڑ‘ ممبر پاکستان بار کونسل احسن بھون‘ سید علی ظفر سمیت وکلاءکی کثیر تعداد موجود تھی۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا کہ پاکستان ایسا ملک ہے جو نصیب والوں کو ملتا ہے یہ ملک کسی نے خیرات یا تحفہ میں نہیں دیا بلکہ اس کے پیچھے تحریک اور بزرگوں کی قربانیاں شامل ہیں، آج ہمیں دیکھنا ہو گا کہ ہم نے اس کی کیا قدر کی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ میں پورے وثوق سے کہتا ہوں کہ آج یہ ملک نہ ہوتا تو میں اس کا چیف جسٹس نہ ہوتا۔