اسلام آباد ۔ 19 اکتوبر (اے پی پی) چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ پانی زندگی کا لازمی حصہ ہے، پانی کی قلت جیسے مسائل سے فوری نمٹنے کی ضرورت ہے، اس سلسلے میں واٹر پرائسنگ سسٹم کی تشکیل، مناسب اداروں کے قیام، فضلہ اور آلودگی کے انتظام کے لئے ریگولیشنز، دیامر بھاشا اور مہمند ڈیموں کے لئے فنڈنگ کی رفتار کو برقرار رکھنے …
چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کا ”آبی طور پر محفوظ پاکستان کی تشکیل“ کے موضوع پر 2 روزہ عالمی سمپوزیم کی افتتاحی تقریب سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 19 اکتوبر (اے پی پی) چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ پانی زندگی کا لازمی حصہ ہے، پانی کی قلت جیسے مسائل سے فوری نمٹنے کی ضرورت ہے، اس سلسلے میں واٹر پرائسنگ سسٹم کی تشکیل، مناسب اداروں کے قیام، فضلہ اور آلودگی کے انتظام کے لئے ریگولیشنز، دیامر بھاشا اور مہمند ڈیموں کے لئے فنڈنگ کی رفتار کو برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ عوام کو پانی کے درست و منصفانہ استعمال اور بچت کے طریقوں سے آگاہی دینے کے لئے اقدامات کرنے چاہئیں۔ انہوں نے یہ بات جمعہ کو ”آبی طور پر محفوظ پاکستان کی تشکیل“ کے موضوع پر 2 روزہ عالمی سمپوزیم کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی بھی موجود تھے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ پانی زندگی کا لازمی حصہ ہے، پاکستان کے لئے بطور زرعی معیشت پانی کی انتہائی اہمیت ہے۔ ورلڈ ریسورسز انسٹی ٹیوٹ نے کے مطابق کے 2040ءتک پاکستان کے پانی کے سنگین دباﺅ کے شکار 33 ممالک میں سے 23 ویں نمبر پر ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ عالمی حدت میں اضافے کے باعث ہمیں وسائل کی قلت، خشک سالی، قدرتی آفات، شدید موسمی حالات، سیلابوں، بیماریوں اور دیگر مسائل کا سامنا ہو سکتا ہے۔








