وزیراعظم عمران خان سے افتخار علی ملک کی قیادت میں کارروباری برادری کے وفد کی ملاقات

اسلام آباد ۔ 19 اکتوبر (اے پی پی) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ماضی کے حکمرانوں کی غلط پالیسیوں کا خمیازہ قوم کو بھگتنا پڑ رہا ہے، بلاشبہ قوم پر ایک مشکل وقت ہے لیکن ہم جلد موجودہ بحران سے نکل جائیں گے، پاکستان میں ایسے شعبے موجود ہیں جہاں ایک ایک شعبہ میں اربوں ڈالر کا زرمبادلہ کمانے کی صلاحیت ہے۔ انہوں نے یہ بات جمعہ کو …

اسلام آباد ۔ 19 اکتوبر (اے پی پی) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ماضی کے حکمرانوں کی غلط پالیسیوں کا خمیازہ قوم کو بھگتنا پڑ رہا ہے، بلاشبہ قوم پر ایک مشکل وقت ہے لیکن ہم جلد موجودہ بحران سے نکل جائیں گے، پاکستان میں ایسے شعبے موجود ہیں جہاں ایک ایک شعبہ میں اربوں ڈالر کا زرمبادلہ کمانے کی صلاحیت ہے۔ انہوں نے یہ بات جمعہ کو کاروباری برادری کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہی جس نے چیئرمین یونائیٹڈ بزنس گروپ اور سینئر نائب صدر سارک چیمبر آف کامرس افتخار علی ملک کی قیادت میں وزیرِاعظم آفس میں ان سے ملاقات کی۔ اس موقع پر وزیراعظم کو سپریم کورٹ آف پاکستان اور وزیرِاعظم پاکستان دیامیر بھاشا و مہمند ڈیمز فنڈکےلئے کاروباری برادری کی جانب سے 9 کروڑ 19 لاکھ روپے کا چیک پیش کیا گیا۔ کاروباری برادری کی جانب سے چیک پیش کرنے والوں میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری، راولپنڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری، سرحد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری، اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری، فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری، سیالکوٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری اور سیالکوٹ انٹرنیشنل ایئرپورٹ، لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری، اورینٹ الیکٹرونکس، کورنگی ایسوسی ایشن، گارڈ گروپ، محمد عارف یوسف جیوا، انجینئر حاجی دارو، دین گروپ اور ستارہ گروپ کے عہدیدار اور نمائندگان شامل تھے۔ اس موقع پر کاروباری برادری کے وفد نے وزیرِاعظم عمران خان کو یقین دلایا کہ وہ نیا پاکستان بنانے کی مہم میں حکومت کے ساتھ ہیں اور مشکل معاشی حالات سے نبرد آزماءہونے میں حکومت کا بھرپور ساتھ دیں گے۔ وفد سے بات چیت کرتے ہوئے وزیرِاعظم عمران خان نے کہا کہ ملک اس وقت مشکل معاشی حالات سے دوچار ہے، ماضی کی حکومتوں نے جہاں ملک کو ایک طرف اندرونی اور بیرونی قرضوں کی دلدل میں دھکیل دیا وہاں اداروں کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا اور آج حالت یہ ہے کہ بڑے بڑے قومی ادارے خساروں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔