سپریم کورٹ کے زیر اہتمام دو روزہ انٹرنیشنل سمپوزیم نے پاکستان کودرپیش پانی کی قلت کے چیلنج سے نمٹنے کیلئے 20 نکاتی اعلامیہ جاری کردیا

اسلام آباد ۔ 20 اکتوبر (اے پی پی)سپریم کورٹ کے زیر اہتمام دو روزہ انٹرنیشنل سمپوزیم نے پاکستان کودرپیش پانی کی قلت کے چیلنج سے نمٹنے کیلئے 20 نکاتی اعلامیہ جاری کرتے ہوئے قراردیا ہے کہ انڈس باسین سے متعلق پاکستان کے کردار کو فوری طورپر تسلیم کیا جائے،انڈس باسین کی ساکھ کو برقرار رکھنے کیلئے وفاق ، صوبوں اور دیگر انتظامی یونٹس کے ساتھ پاکستانی عوام کو بھی ایک …

اسلام آباد ۔ 20 اکتوبر (اے پی پی)سپریم کورٹ کے زیر اہتمام دو روزہ انٹرنیشنل سمپوزیم نے پاکستان کودرپیش پانی کی قلت کے چیلنج سے نمٹنے کیلئے 20 نکاتی اعلامیہ جاری کرتے ہوئے قراردیا ہے کہ انڈس باسین سے متعلق پاکستان کے کردار کو فوری طورپر تسلیم کیا جائے،انڈس باسین کی ساکھ کو برقرار رکھنے کیلئے وفاق ، صوبوں اور دیگر انتظامی یونٹس کے ساتھ پاکستانی عوام کو بھی ایک سنجیدہ اور اہم ترین ذمہ داری کے طور پر اس معاملے کودیکھنا ہوگا، اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کیلئے یہ ناگزیر ہے کہ سرمایہ کاری کرکے ڈیم تعمیر اور زیر زمین پانی کے مناسب استعمال کو یقینی بنایا جائے اس کے ساتھ پانی صاف کرنے کے حوالے سے مناسب ٹیکنالوجی کو بروئے کارلاکر ری سائیکلنگ کے ذریعے صاف پانی کی دستیابی پر توجہ دی جائے جبکہ پانی کی طلب اوررسد کو باہمی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے انتہائی متوازن رکھا جائے، اعلامیہ میں کہا گیاہے کہ پاکستان کی موجودہ صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے مختلف عالمی فورم پر جانے سے قبل عالمی قوانین کو فوقیت دی جائے ، پاکستان کی حکمت عملی کومد نظررکھتے ہوئے سندھ طاس معاہدہ پر نظر ثانی کی جائے اور اس معاملے کو دوبارہ زیر غور لایا جائے، حکومت پاکستان کو جدید ترین ڈیٹا کلیکشن کے طریقہ کار پرعمل کرتے ہوئے پانی کی مقدار کا باضابطہ تعین کیا جائے، اس کے ساتھ صوبوں میں مفاہمتی عمل کو فروغ دینے کیلئے فی کس پانی کی دستابی کو مناسب سطح پر یقینی بنایاجائے، اس ضمن میں خصوصاً انڈس ڈیلٹا والے علاقوں کو بھی مناسب حصہ فراہم کیا جائے، پاکستان کی زرعی اراضی کو محفوظ بنانے کیلئے موثر طریقہ کار اور ٹیکنیکس کے استعمال کو یقینی بنانے کے ساتھ پانی کے ذخائر بڑھانے پر توجہ دی جائے، پاکستان کے مختلف حصوں میں ترجیحی بنیادوں پر اور تیزی کے ساتھ لاتعداد چھوٹے بڑے ڈیم بنائے جائیں ، انڈس باسین کے آبپاشی کے نیٹ ورک کو مزید توسیع دی جائے جس سے کئی ملین ایکڑ اراضی زیر کاشت آ جائے گی اس کے ساتھ پاکستان کے زیریں علاقوں تک پانی کی رسائی کیلئے بھی اقدامات کئے جائیں۔