اسلام آباد ۔ 22 اکتوبر (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے دوٹوک مو¿قف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سی پیک سے متعلق پاکستان کی غیر سنجیدگی کی باتیں مضحکہ خیز ہیں، حکومت اربوں ڈالر کے چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبہ پر عملدرآمد کیلئے پرعزم ہے، حکومت محنت کش خواتین کے حقوق کے تحفظ اور محفوظ ماحول فراہم کرنے کیلئے قانون سازی کیلئے اقدامات …
وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری کا ”سی پیک میں خواتین کے کردار“ کے مونوگراف کے اجراءکے موقع پر خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 22 اکتوبر (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے دوٹوک مو¿قف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سی پیک سے متعلق پاکستان کی غیر سنجیدگی کی باتیں مضحکہ خیز ہیں، حکومت اربوں ڈالر کے چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبہ پر عملدرآمد کیلئے پرعزم ہے، حکومت محنت کش خواتین کے حقوق کے تحفظ اور محفوظ ماحول فراہم کرنے کیلئے قانون سازی کیلئے اقدامات کر رہی ہے، سی پیک منصوبوں میں خواتین کی فعال شمولیت سے ہی اسے گیم چینجر بنانے کا خواب شرمندہ¿ تعبیر ہو سکتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو ”سی پیک میں خواتین کے کردار“ کے مونوگراف کے اجراءکے موقع پر پاکستان انسٹیٹیوٹ آف پارلیمنٹری افیئرز میں پاکستان چائنہ انسٹیٹیوٹ کے زیر اہتمام منعقدہ تقریب میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک میں خواتین کے کردار پر رپورٹ کا اجراءبروقت ہوا ہے، رپورٹ میں مستقبل میں خواتین کےلئے سی پیک میں یکساں مواقع پر جامع حقائق اور اعداد و شمار دیئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گھریلو اور محنت کش خواتین کےلئے محفوظ اور مناسب ماحول کی فراہمی کے مو¿ثر قانون سازی کی ضرورت ہے، آئی ایل او کے ساتھ اس حوالہ سے سات کنونشن پر دستخط کئے ہیں، موجودہ حکومت آئی ایل او کنونشن پر عملدرآمد سمیت محنت کش خواتین کے حقوق کے تحفظ پر قانون سازی کر رہی ہے، سابق حکومتوں نے اس حوالہ سے کوئی اقدامات نہیں کئے۔








