اسلام آباد۔15 دسمبر (اے پی پی) قومی احتساب بیورو کے چیئرمین جسٹس (ر)جاوید اقبال نے کہا کہ بدعنوانی پرقابو پائے بغیر پاکستان ترقی کی منازل طے نہیں کرسکتا، پاکستان کی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ کرپشن ہے، میگا کرپشن مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے نیب کے تمام افسرا ن اپنی کوششیں دوگنا کریں اور اپنے قومی فرض کی ادائیگی کیلئے بلاامتیاز احتساب اور زیرو …
بدعنوانی پرقابو پائے بغیر پاکستان ترقی کی منازل طے نہیں کرسکتا، جسٹس (ر)جاوید اقبال
اسلام آباد۔15 دسمبر (اے پی پی) قومی احتساب بیورو کے چیئرمین جسٹس (ر)جاوید اقبال نے کہا کہ بدعنوانی پرقابو پائے بغیر پاکستان ترقی کی منازل طے نہیں کرسکتا، پاکستان کی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ کرپشن ہے، میگا کرپشن مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے نیب کے تمام افسرا ن اپنی کوششیں دوگنا کریں اور اپنے قومی فرض کی ادائیگی کیلئے بلاامتیاز احتساب اور زیرو ٹالرنس کی پالیسی پر عمل پیرا ہوں۔ ہفتہ کو اپنے ایک بیان میںانہوں نے کہا کہ بدعنوانی تمام برائیوں کی جڑ ہے، نیب پیشہ واریت، شفافیت اور قانون پر عمل کرتے ہوئے بدعنوانی کے خاتمہ کیلئے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب نے تمام علاقائی بیوروز کی خوبیوں اور خامیوں کے تناظر میں کارکردگی کے جائزہ سے متعلق جدید مقداری گریڈنگ نظام وضع کیا ہے، یہ نظام نیب کے علاقائی بیوروز کی کارکردگی کو بہتر بنانے کیلئے کامیاب رہا ہے اور اب نیب کے کام کا مستقل حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب کی آپریشنل میتھاڈالوجی شکایات کی جانچ پڑتال، انکوئری اور انوسٹی گیشن پر مبنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب کو 2017ءکے مقابلہ میں 2018ءمیں دوگنا شکایات موصول ہوئی ہیں۔ پلڈاٹ کی حالیہ رپورٹ کے مطابق نیب پر 42 فیصد لوگ، پولیس پر 30 فیصد اور سرکاری افسران پر 29 فیصد لوگ اعتماد کرتے ہیں۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کرپشن پرسپشن انڈیکس کی درجہ بندی میں 126ویں سے 116ویں نمبر پر آگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان جنوبی ایشیائی ممالک کیلئے رول ماڈل کی حیثیت رکھتا ہے اور پاکستان سارک ممالک کے اینٹی کرپشن فورم کا چیئرمین ہے، نیب کی کوششوں سے یہ پاکستان کی بڑی کامیابی ہے۔ عالمی اقتصادی فورم اور مشال پاکستان کے عالمی مسابقتی اشاریوں کے مطابق پاکستان 102 سے 99 ویں نمبر پر آ گیا ہے جو کہ پاکستان کی بڑی کامیابی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب بدعنوانی کے خاتمہ کیلئے نئے عزم سے کوششیں کر رہا ہے۔ آپریشن پراسیکیوشن، ہیومن ریسورس ڈویلپمنٹ، آگاہی و تدارک سمیت نیب کے تمام شعبوں کی ادارہ جاتی خامیوں کے تجزیہ کے بعد ان میں اصلاحات کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ معاشی ترقی، سرمایہ کاری اور سماجی استحکام کیلئے موثر احتساب کا نظام ضروری ہے۔ معاشی ترقی اور سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے شفافیت ناگزیر ہے۔انہوں نے کہا کہ ہر شخص بدعنوانی کا خاتمہ چاہتا ہے لیکن کہتا ہے کہ اس سے کوئی سوال نہ پوچھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو بدعنوانی سے پاک کرنے کے لئے نیب نے شخصیت کے بجائے کیس کو دیکھنے کی پالیسی اختیار کر رکھی ہے۔









