وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی روسی صدر کے نمائندہ خصوصی برائے افغانستان سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو

اسلام آباد ۔ 29 جنوری (اے پی پی) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ افغان امن عمل ایک مشترکہ ذمہ داری ہے، اس سلسلہ میں خطہ کے تمام اہم ممالک کے ساتھ روابط کو فروغ دینا چاہتے ہیں، افغانستان میں امن و استحکام سے متعلق ہماری اور روس کی سوچ قریب تر ہے اور ہم نے باہمی تعاون کے ساتھ آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ منگل …

اسلام آباد ۔ 29 جنوری (اے پی پی) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ افغان امن عمل ایک مشترکہ ذمہ داری ہے، اس سلسلہ میں خطہ کے تمام اہم ممالک کے ساتھ روابط کو فروغ دینا چاہتے ہیں، افغانستان میں امن و استحکام سے متعلق ہماری اور روس کی سوچ قریب تر ہے اور ہم نے باہمی تعاون کے ساتھ آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ منگل کو یہاں روسی صدر کے نمائندہ خصوصی برائے افغانستان ایمبیسڈر ضمیر کابلوف سے ملاقات کے بعد وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج میری روسی صدر کے نمائندہ خصوصی برائے افغانستان ضمیر کابلوف سے ملاقات ہوئی، ہم نے افغان امن کے حوالہ سے تبادلہ خیال کیا، دوحہ میں ہونے والی نشست اور پاکستان کی سوچ سے انہیں آگاہ کیا اور روسی وزیر خارجہ نے جس گرمجوشی سے میرا استقبال کیا اس پر ان کا شکریہ بھی ادا کیا، ہم چاہتے ہیں خطہ میں جتنے اہم ممالک ہیں ان کے ساتھ روابط کو فروغ دیں کیونکہ افغان امن عمل ایک مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں قیام امن کا فائدہ سب کو یکساں ہو گا لیکن خدانخواستہ اگر حالات خراب ہوتے ہیں تو وہ بھی پورے خطہ کےلئے نقصان دہ ہو گا۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ مجھے یہ کہتے ہوئے خوشی محسوس ہو رہی ہے کہ ہماری اور روس کی سوچ قریب تر ہے اور ہم نے باہمی تعاون کے ساتھ آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سینیٹر لنڈسے گراہم ابھی کچھ دن پہلے میری دعوت پر پاکستان تشریف لائے اور ان کی وزیرِاعظم پاکستان عمران خان کے ساتھ بہت اچھی نشست ہوئی۔ انہوں نے جاتے ہوئے جن خیالات کا اظہار کیا وہ سب کے سامنے ہے۔ اس کے علاوہ میرا کل سینیٹر لنڈسے گراہم کے ساتھ ٹیلی فونک رابطہ ہوا، ہم نے افغانستان کے حوالہ سے نئی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا، ہمیں توقع ہے کہ اگلے چند دن دنوں میں مزید اچھی پیشرفت ہو گی، پاکستان کی کوشش ہے کہ خطہ کے تمام ممالک اور ملک کے جتنے معتبر ادارے ہیں وہ ایک پیج پر ہوں، ہمارے انٹلیکچوئلز کو اعتماد میں لیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری پوری کوشش ہے کہ خواہ کشمیر کا مسئلہ ہو، افغانستان کا ہو یا سی پیک کے مسائل ہوں پوری قوم ایک پیج پر دکھائی دے۔

مزید خبریں