وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین کی نجی نیوز چینل سے بات چیت

اسلام آباد ۔ 29 جنوری (اے پی پی) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین نے کہا ہے کہ کرپشن کے مقدمات میں ملوث آصف علی زرداری، نواز، شہباز اور دیگر عناصر موجودہ حکومت سے قومی مصالحتی آرڈیننس (این آر او) لینے کے خواہاں ہیں جبکہ آنے والے دنوں میں پاکستان پیپلز پارٹی کے کئی افراد گرفتار ہوں گے۔ انہوں نے منگل کو نجی نیوز چینل سے بات چیت …

اسلام آباد ۔ 29 جنوری (اے پی پی) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین نے کہا ہے کہ کرپشن کے مقدمات میں ملوث آصف علی زرداری، نواز، شہباز اور دیگر عناصر موجودہ حکومت سے قومی مصالحتی آرڈیننس (این آر او) لینے کے خواہاں ہیں جبکہ آنے والے دنوں میں پاکستان پیپلز پارٹی کے کئی افراد گرفتار ہوں گے۔ انہوں نے منگل کو نجی نیوز چینل سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ فریال تالپور اور زرداری کو مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی طرف سے کی گئی تحقیقات کا سامنا ہے۔ قومی اسمبلی میں چپقلش پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حزب اختلاف کے کچھ عناصر کی طرف سے گھٹیا زبان استعمال کی گئی جبکہ ایوان زیریں، موجودہ حکومت کے رہنماﺅں کو ہر قیمت پر احترام کیا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ہم پارلیمنٹ اور وزیراعظم کی عزت چاہتے ہیں۔ حزب اختلاف نے ہمیشہ قومی احتساب بیورو کے بارے میں بات کی تاہم اس نے بیروزگاری اور کراچی میں پانی جیسے مسائل پر کبھی بھی بات کرنے کی زحمت گوارا نہیں کی۔ ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین نے کہا کہ پنجاب میں گزشتہ حکومت کی قیادت نے مختلف منصوبوں کے نام پر قومی رقوم ضائع کیں اور پنجاب میں شہباز شریف کی سابقہ حکومت کے باعث فنڈز کا مسئلہ درپیش ہے۔ قیدیوں کیلئے دوہرے قوانین کے حوالہ سے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بااثرسیاسی افراد سے جیلوں میں خصوصی سلوک ہو رہا ہے جبکہ جیل حکام غریب قیدیوں کے معاملہ میں بے حسی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ میڈیا ریگولیٹری اداروں کے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پرنٹ میڈیا کے بہتر طورپر کام کرنے کیلئے طریقہ کار کے کچھ قواعد ہونے چاہئیں۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ پی ٹی وی کی مینجمنٹ میں بہتر کارکردگی نہ دکھانے والوں کو ہٹایا جانا چاہئے اور پورے نظام کو دھارے میں لانے کی بھی ضرورت ہے۔ ریگولیٹری اتھارٹی بارے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اس ضمن میں نظرثانی کیلئے تجاویز میڈیا، اے پی این ایس، سی پی این ای اور متعلقہ پریس کلبوں کو بھیجی گئی ہیں تاکہ لیبر قوانین پر مناسب طور پر عملدرآمد ہو اور صحافی برادری کے تحفظ کو بھی یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے میڈیا میں تحقیقاتی کام کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہم میرٹ پر مبنی نظام لانا چاہتے ہیں تاکہ مناسب طور پر مطلوبہ نتائج حاصل کئے جا سکیں۔ اٹھارہویں ترمیم کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ہمیں قوانین کا دوبارہ جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔

مزید خبریں