وفاقی وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان علی امین گنڈاپور کا پریس کانفرنس

اسلام آباد ۔ 4 فروری (اے پی پی) وفاقی وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ کشمیر کا مسئلہ ہمارے دور حکومت میں اور کشمیری عوام کی خواہشات اور امنگوں کے مطابق حل ہو گا، بھارت ہماری مذاکرات کی پیشکش کو کمزوری نہ سمجھے، مودی کا ڈرامہ ناکام ہو گیا، مقبوضہ کشمیر کے عوام نے ان کا دورہ مسترد کر دیا، عالمی برادری کشمیر …

اسلام آباد ۔ 4 فروری (اے پی پی) وفاقی وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ کشمیر کا مسئلہ ہمارے دور حکومت میں اور کشمیری عوام کی خواہشات اور امنگوں کے مطابق حل ہو گا، بھارت ہماری مذاکرات کی پیشکش کو کمزوری نہ سمجھے، مودی کا ڈرامہ ناکام ہو گیا، مقبوضہ کشمیر کے عوام نے ان کا دورہ مسترد کر دیا، عالمی برادری کشمیر میں بھارتی مظالم کا نوٹس لے، ہر فورم پر کشمیریوں کی آواز بلند کریں گے۔ پیر کو یہاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پورے پاکستان اور یورپ میں مقیم پاکستانی اور کشمیری عوام (آج) منگل کو کشمیریوں سے یکجہتی کا دن منا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام کو پاکستان کے عوام اور حکومت کی طرف سے اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت کا یقین دلاتے ہیں، وزیر خارجہ لندن میں کشمیر پر ہونے والے کانفرنس میں شریک ہیں جبکہ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی اظہار یکجہتی کیلئے مظفرآباد جائیں گے، پورے ملک میں کشمیریوں سے یکجہتی کے اظہار کیلئے تقریبات، اجتماعات اور پروگراموں کا انعقاد کیا جائے گا اور انسانی ہاتھوں کی زنجیریں بنائی جائیں گی، ڈی چوک اسلام آباد میں بھی انسانی ہاتھوں کی زنجیر بنائی جائے گی۔ اس کے علاوہ سکولوں میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کو اجاگر کرنے کیلئے تقریری مقابلے اور ڈراموں سمیت مختلف پروگراموں کا انعقاد کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کو کشمیر میں بھارتی مظالم سے آگاہ کیا جائے گا، بھارت جس طرح مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کر رہا ہے اس کی شدید مذمت کرتے ہیں، اقوام متحدہ یہ مظالم بند کرائے۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے باوجود مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے پیشرفت نہ ہونا افسوسناک ہے، ہم ہر فورم پر کشمیریوں کی آواز بنیں گے اور ان کی نمائندگی کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ پوری دنیا نہتے اور معصوم شہریوں پر مظالم دیکھ رہی ہے لیکن عالمی اداروں کی کارکردگی سوالیہ نشان بن گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق کمیشن نے بھارت کا اصل چہرہ دنیا کو دکھا دیا ہے اور ہم بھارت کا اصل چہرہ بے نقاب کرنے کیلئے عالمی عدالت سے رجوع کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ جدوجہد آزادی میں ایک لاکھ کے قریب کشمیری اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر چکے ہیں، بڑی تعداد میں لوگوں کو قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنا پڑیں، خواتین کے ساتھ زیادتیوں کے واقعات ہوئے لیکن بھارت کشمیریوں کا جدوجہد آزادی کا جذبہ ماند نہیں کر سکا۔ انہوں نے مقبوضہ کشمیر کے عوام کو خراج تحسین پیش کیا جو پاکستان کا جھنڈا اٹھا کر اپنی جدوجہد کر رہے ہیں اور قربانیاںدے رہے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے اپنی پہلی تقریر میں بھارت کو مذاکرات کی دعوت دی لیکن انہوں نے واضح کیا کہ بھارت سے مسئلہ کشمیر پر بات ہو گی، اس سے ہماری ترجیح واضح ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے مختلف ممالک سے ہم رابطہ میں ہیں اور ان کو بھارتی مظالم سے آگاہ کر رہے ہیں، مقبوضہ کشمیر میں مظالم بند کرانے کیلئے بھارت پر دباﺅ ڈال رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی وزیراعظم مودی کا ڈرامہ ناکام ہو گیا ہے، مقبوضہ کشمیر کے عوام نے ان کے دورہ کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے بھارتی عوام پر زور دیا کہ وہ اپنے ملک میں ایسی قیادت لے کر آئیں جو بھارت کا بہتر چہرہ دنیا کے سامنے پیش کر سکے، موجودہ قیادت نے انتہاءپسندی کے راستے کا انتخاب کیا ہے، دونوں ملکوں کے عوام میں کوئی جنگ نہیں لیکن پاکستان کی مذاکرات کی پیشکش پر بھارتی قیادت کا رویہ نامعقول ہے۔ انہوں نے اس توقع کا اظہار کیا کہ بھارت میں آئندہ عام انتخابات میں تبدیلی آئے گی اور ایسی قیادت آئے گی کہ مذاکرات ممکن ہو سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر پر عالمی اداروں کی کارکردگی سوالیہ نشان ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ماضی میں گلگت بلتستان کے عوام کو ان کے حقوق سے محروم رکھا گیا، سپریم کورٹ کا فیصلہ آ گیا ہے، اب پارلیمان میں ایکٹ منظور کرکے وہاں کے عوام کی محرومی دور کی جائے گی اور ان کو ان کے حقوق دیئے جائیں گے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر ہماری حکومت میں حل ہو گا۔