پاکستان کی پائیدار معاشی ترقی کے لیے ایک جامع، طویل المدتی اور واضح معاشی روڈ میپ تشکیل دینے کی ضرورت ہے، سردار طاہر محمود
پاکستان کی پائیدار معاشی ترقی کے لیے ایک جامع، طویل المدتی اور واضح معاشی روڈ میپ تشکیل دینے کی ضرورت ہے، سردار طاہر محمود

مزید خبریں
اسلام آباد۔18ستمبر (اے پی پی):اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی سی سی آئی) کے صدر سردار طاہر محمود نے پاکستان کی پائیدار معاشی ترقی کے لیے ایک جامع، طویل المدتی اور واضح معاشی روڈ میپ تشکیل دینے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کو پالیسیوں میں تسلسل، مستقل مزاجی اور ایک متفقہ قومی معاشی وژن کی ضرورت ہے جس کے تحت حکومتی ادارے، نجی شعبہ اور دیگر سٹیک ہولڈرز مل کر پاکستان کی معیشت کو پیداواری، مسابقتی اور برآمدات پر مبنی معیشت میں تبدیل کریں۔
انہوں نے یہ بات جمعہ کو یہاں مختلف کاروباری وفود سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ سردار طاہر محمود نے کہا کہ برآمدات کو پاکستان کی معاشی حکمت عملی کا محور بنانا ہوگا۔ انہوں نے برآمدی شعبے کو وسعت دینے، برآمدی مصنوعات میں تنوع پیدا کرنے، نئی عالمی منڈیوں تک رسائی بہتر بنانے، مصنوعات کے معیار اور برانڈنگ کو فروغ دینے اور پاکستانی برآمد کنندگان کو اعلیٰ قدر کی عالمی منڈیوں میں داخل ہونے کے لیے موثر سہولیات فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔آئی سی سی آئی صدر نے کہا کہ آئی ٹی اور ڈیجیٹل سروسز، انجینئرنگ مصنوعات، فارماسیوٹیکلز، پراسیسڈ فوڈ، ٹیکسٹائل اور ویلیو ایڈڈ زراعت جیسے شعبوں پر خصوصی توجہ دی جائے جبکہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں (ایس ایم ایز) کو ٹیکنالوجی، ہنرمندی اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے عالمی سپلائی چینز کا حصہ بنایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ صنعتی مسابقت برآمدی ترقی کی بنیادی شرط ہے لہٰذا پاکستان کو فوری طور پر توانائی کی بلند قیمتوں، ٹیکس سے متعلق مسائل، پیچیدہ ضوابط، مہنگی فنانسنگ، کمزور لاجسٹکس اور کاروبار کی لاگت میں اضافے والی دیگر ساختی رکاوٹوں کو دور کرنا ہوگا۔ حکومت کو قابل پیش گوئی ٹیکس نظام، مسابقتی بجلی و گیس کے نرخ، آسان ریگولیٹری طریقہ کار، تیز رفتار ٹیکس ریفنڈز اور کلیئرنس کا موثر نظام وضع کرنا چاہیے تاکہ کاروباری ادارے سرمایہ کاری، پیداوار اور برآمدات میں اضافہ کر سکیں۔انہوں نے کہا کہ ہمارا مقصد یہ ہونا چاہیے کہ پاکستان میں مقامی مارکیٹ کے لیے پیداوار کے مقابلے میں دنیا کے لیے پیداوار کرنا زیادہ آسان ہو۔
سردار طاہر محمود نے تجویز پیش کی کہ حکومت چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری اور نجی شعبے کی مشاورت سے 10 سالہ قومی معاشی و برآمدی روڈ میپ تشکیل دے جس میں سرمایہ کاری، برآمدات، صنعتی پیداوار، روزگار، پیداواری صلاحیت اور براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کے سالانہ قابل پیمائش اہداف مقرر کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ اس روڈ میپ میں ترجیحی شعبوں، برآمدی منڈیوں اور سرمایہ کاری کے مواقع کی واضح نشاندہی، متعلقہ اداروں کی ذمہ داریوں کا تعین اور پیش رفت کی شفاف نگرانی کا موثر نظام بھی شامل ہونا چاہیے۔آئی سی سی آئی صدر نے کہا کہ معاشی پالیسیوں کو وسیع تر ادارہ جاتی حمایت اور سیاسی و انتظامی ادوار سے بالاتر تسلسل حاصل ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو درآمدات پر انحصار اور کھپت پر مبنی ماڈل سے نکل کر پیداوار، جدت اور سرمایہ کاری پر مبنی معیشت کی طرف بڑھنا ہوگا۔انہوں نے مقامی و غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے مزید سہولیات فراہم کرنے، خصوصی اقتصادی زونز اور صنعتی کلسٹرز کو فعال بنانے، بنیادی ڈھانچے کو جدید بنانے، قابل تجدید توانائی کو فروغ دینے، تکنیکی و پیشہ ورانہ تربیت میں سرمایہ کاری بڑھانے اور جامعات، تحقیقی اداروں اور صنعت کے درمیان مضبوط روابط قائم کرنے پر بھی زور دیا۔سردار طاہر محمود نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے پرکشش، شفاف اور قابل اعتماد سرمایہ کاری کے مواقع پیدا کیے جائیں تاکہ ان کا سرمایہ، تجربہ، مہارت اور عالمی کاروباری روابط پاکستان کی پیداواری صلاحیت بڑھانے میں موثر کردار ادا کر سکیں۔







