نیویارک۔ 3 مارچ (اے پی پی) امریکی موئقر اخبار میں شائع ہونے والے آرٹیکل میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے منگل کے حملے میں ناکامی کے بعد پاکستان کے خلاف مزید کارروائی کی دھمکی پر شدید تنقید کی گئی اور تجویز دی گئی ہے کہ بھارت مسئلہ کشمیر کو حل کرنے اور دونوں ممالک کے درمیان کشیدہ صورتحال کو معمول پر لانے پر توجہ مرکوز کرے۔ نیویارک میں …
امریکی موئقر اخبار نیویارک ٹائمز میں نریندر مودی کی پاکستان کے خلاف جنگ کی دھمکیوں پر شدید تنقید

مزید خبریں
نیویارک۔ 3 مارچ (اے پی پی) امریکی موئقر اخبار میں شائع ہونے والے آرٹیکل میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے منگل کے حملے میں ناکامی کے بعد پاکستان کے خلاف مزید کارروائی کی دھمکی پر شدید تنقید کی گئی اور تجویز دی گئی ہے کہ بھارت مسئلہ کشمیر کو حل کرنے اور دونوں ممالک کے درمیان کشیدہ صورتحال کو معمول پر لانے پر توجہ مرکوز کرے۔ نیویارک میں مقیم کشمیری صحافی بشارت پیرنے اتوارکو نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والے اپنے آرٹیکل میں لکھا ہے کہ بھارت کی طرف سے مزید کارروائی کی دھمکیوں، بدلہ لینے اور جنگ کی گیدڑ بھبکیوں سمیت فوجیوں کی تعیناتی میں اضافے کا سلسلہ جاری ہے،جبکہ پاکستان اور بیرونی دنیا کے ساتھ ساتھ ہر فرد اس بات پر زور دے رہا ہے کہ بحران پیدا کرنے والے اقدامات سے اجتناب کیا جائے، طویل خونریزی اور کشمیریوں کا قتل عام بند کیا جائے،آرٹیکل میں لکھا گیا ہے کہ نریندر مودی کا جمعرات کا بیان پاکستان پر فضائی حملے اور مزید کارروائی کا اشارہ ہے۔بیان میں نریندری مودی نے کہا ہے کہ یہ ایک پریکٹس تھی، اصل کام ابھی ہونا باقی ہے،آرٹیکل میں کہا گیا کہ نریندر موودی کے دھمکی آمیز الفاظ کی مثال ایسے ہے جیسے کوئی طاقت وراور نفرت پسند شخص اپنی ناکامی کو قبول نہ کرتا ہو ۔بشارت پیر نے جو نیویارک ٹائمز سے منسلک ہیں اوربھارتی مقبوضہ کشمیر میں ریاستی تشدد اور سیاسی مظالم کے حوالے سے کئی برسوں سے آرٹیکل لکھ رہے ہیں لکھتے ہیں کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ کشیدگی کا سبب پلوامہ میں خود کشس حملہ تھا جس میں کشمیری نوجوان عادل احمد ڈار نے پیرا ملٹری فوجی قافلے کو نشانہ بنایا ۔انہوں نے آرٹیکل میں لکھا ہے کہ اس حملے کے بعد بھارتی ذرائع ابلاغ نے اس نفرت کو بڑھاوا دیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے انتہا پسندوں کی طرف سے جنگ اور بدلہ لینے کا شور مچایا گیا،پورے بھارت میں بھارتی قوم پرست کشمیریوں کے خون کے پیاسے ہوگئے ۔ کالجوںمیں کشمیری طلباء کومشتعل مظاہرین نے نشانہ بنایا ،ان کی سلامتی کو خطرات لاحق ہوگئے اور دو ہزار سے زائد طلباء گھروں میں محصور ہوکر رہ گئے۔بشارت پیر لکھتے ہیں کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اس نفرت اور اشتعال انگیزی کو آئندہ ماہ ہونے والے انتخابات میں ووٹ حاصل کرنے کیلئے استعمال کر رہا ہے۔ اس نے قوم پرستوں کے آنسوپوچھنے کا وعدہ کیا اور منگل کو بھارت کی طرف سے پاکستان شمال معربی علاقہ بالاکوٹ میں حملے کا دعویٰ کر دیا،1971ء کے بعدپہلی مرتبہ بھارتی طیاروں کی طرف سے پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی گئی۔بھارت کے اعلیٰ سفارتکاروں نے حملے کی تعریف اور مضحکہ خیز زبان استعمال کرتے ہوئے بیان بازی شروع کر دی،بھارتی ذرائع ابلاغ نے 300سے زائد عسکریت پسندوں کو ہلاک کرنے کا بھی دعویٰ کر دیا لیکن مودی کی خواہش پوری نہیں ہوئی اور خود مختار اطلاعات نے بھانڈا پھوڑ دیا کہ بھارتی طیاروں نے چند درختوں کو نشانہ بنانے کے سوا کچھ نہیں کیا۔اگلی صبح پاکستانی لڑاکا طیاروں نے بھارتی مقبوضہ علاقوں میں بمباری کی جس سے آبادی کوکوئی نقصان نہیں ہوا تاہم پاکستان کا قومی وقار بلند ہوااور جس عزم کا اظہار پاکستان کی طرف سے کیا گیا تھا کہ ہم قوم کی توقعات سے بڑھ کر کارروائی کریں گے وہ پوری ہوئی۔پاک فضائیہ نے ایک بھارتی طیارے کو پاکستانی حدود میں مار گرایا اور بھارتی ونگ کمانڈر ابھی نند کو گرفتار کر لیا گیا۔پاکستان کی طرف سے اس کی گرفتاری سمیت اس کی چائے سے تواضح اور تفتیش کے دوران گفتگو کی ویڈیو بھی جاری کی گئی ۔پائلٹ کی گرفتاری کے بعد مودی اور اس کے حواریوں کی دھمکیاںکچھ دیر کیلئے بند ہوگئیں۔ جمعرات کو وزیراعظم عمران خان کی طرف سے بھارتی پائلٹ کی رہائی کے فیصلے کا اعلان اور امن مذاکرات کی پیشکش کی گئی۔اس ساری صورتحال میں لڑاکا طیارے گشت کرتے رہے،ہزاروں کی تعداد میں بھارتی افواج کو کشمیر بھیجا گیا،سینکڑوں گرفتاریاں ہوئیں اور جنگ کے بادل منڈلاتے رہے لیکن پورے واقعہ میں ایک بنیادی سوال کو نظر انداز کر دیا گیا کہ کشمیری نوجوان عادل احمد ڈار خود کش بمبار کس وجہ سے بنا، جنوبی ایشیاء کو جنگ کی دھانے پر کون لایا؟ڈار کے والد نے رپورٹر کو بتایا کہ ہائی سکول چھوڑنے کے بعد ایک چھوٹے سے گاؤں میں عادل ایک پڑوسی کی دکان پر کام کرتا تھا اور اپنے خاندان کیلئے روٹی روزی کماتا تھا، وہ اکثر ایک قصہ سنایا کرتا تھا کہ ایک روز اسے پولیس والوں نے سکول سے گھر واپس آتے ہوئے روکا اور اپنی گاڑیوں سے گھیرا ڈالا ، اس وقت کشمیر میں 2016ء کے دوران بڑے پیمانے پر مظاہرے چل رہے تھے،بھارتی افواج لوگوں کو قتل کر رہی تھیں۔ انہوں نے اس کی ناک زمین پر رگڑائی، مظاہروں میں سو سے زائد مظاہرین زخمی اور سینکڑوں نابینا ہوئے، اس دوران ڈار کو بھی ٹانگ میں گولی لگی، جس کے بعد مارچ 2018ء وہ اس گروپ میں شامل ہو گیا، اس کے اہل خانہ نے بتایا کہ بھارتی فوجیوں نے ان کے گھر پر چھاپہ مارا اور ہمیںگھر میں بند کر کے گھر کو آگ لگا دی تھی۔








