نیویارک ۔ 5 مارچ (اے پی پی)اقوام متحدہ میں پاکستان کی مسقتل مندوب ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے کہا کہ بھارت کے ساتھ جاری بحران کے افغان امن عمل پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، پاکستان اوربھارت کے درمیان موجودہ کشیدگی کے باعث پاکستان کی پوری توجہ اب مشرقی سرحد پر مرکوز ہوگی۔ امریکی ٹی وی چینل فاکس نیوز کو انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ہماری توجہ اس جانب …
اقوام متحدہ میں پاکستان کی مسقتل مندوب ڈاکٹر ملیحہ لودھی کا امریکی ٹی وی چینل کو انٹرویو

مزید خبریں
نیویارک ۔ 5 مارچ (اے پی پی)اقوام متحدہ میں پاکستان کی مسقتل مندوب ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے کہا کہ بھارت کے ساتھ جاری بحران کے افغان امن عمل پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، پاکستان اوربھارت کے درمیان موجودہ کشیدگی کے باعث پاکستان کی پوری توجہ اب مشرقی سرحد پر مرکوز ہوگی۔ امریکی ٹی وی چینل فاکس نیوز کو انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ہماری توجہ اس جانب ہو گی جس جانب سے ہم یہ محسوس کریں کہ ہمیں فوجی خطرہ لاحق ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو موجودہ خطرہ بھارت سے درپیش ہے، افغان امن عمل کےلئے امریکا کے خصوصی نمائندے زلمے خلیل زاد اور طالبان کے ڈپٹی لیڈر ملا عبدالغنی برادر کے درمیان مذاکرات قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہو رہے ہیں۔ یہ مذاکرات فریقین کے درمیان پہلی بار ہو رہے ہیں۔ ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے کہا کہ افغانستان اور کشمیر دونوں مسائل انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ مشرقی سرحد ہے جہاں سے بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا۔ انہوں نے اپنے طیارے پاکستانی علاقے میں بھیجے ، یہ سرحد کشیدہ رہی ہے جبکہ اس کے برعکس افغانستان کی صورتحال مختلف ہے۔ ہماری خواہش ہے کہ وہ جنگ بند ہو اور ہمیں مغربی سرحد سے کوئی خطرہ نظر نہیں آ رہا ہے۔ یہ ہماری مشرقی سرحد ہے جہاں سے پاکستان کو مسلسل خطرات لاحق ہیں۔ پاکستان اس وقت ایک کشیدہ صورتحال کے درمیان پھنسا ہوا ہے۔ ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے کہا کہ بھارتی قیادت وزیراعظم عمران خان کی جانب سے بار بار امن کی پیشکش کا جواب دینے میں مسلسل ناکام رہی ہے جن میں بھارتی پائلٹ کی رہائی بھی شامل ہے۔ پاکستانی مندوب نے کہا کہ پاکستان بھارت سے یہ کہتا رہا ہے کہ وہ ہمیں پلوامہ حملے کے ثبوت فراہم کرے تاکہ ہم اس پر کوئی کارروائی کرسکیں۔ انہوں نے کہا کہ چند دن قبل بھارت میں پاکستان کو اس حوالے سے ایک ڈوزیئر بھی دیا ہے جس کا ہم جائزہ لے رہے ہیں اور اگر اس میں سے کوئی چیز نکلتی ہے تو ہم اس پر کارروائی کریں گے اور ہم یہ دیکھیں گے کہ آیا اس میں کوئی ٹھوس ثبوت ہے یا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ صرف الزامات کی بنیاد پر کوئی کارروائی نہیں ہوسکتی۔ کشمیر کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں پاکستانی سفیر نے کہا کہ یہ تنازعہ گزشتہ 70 سال سے حل طلب ہے اور اس کا حل تلاش کیا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک اس مسئلے کو حل نہیں کیا جاتا بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی اور تناﺅ برقرار رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے میں مسئلہ کشمیر موجود ہے اور اس کے حل کےلئے ابھی تک کوئی کوششیں نہیں کی گئی ہیں۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں14 فروری کو ہونے والے خودکش حملے میں 40 سے زیادہ بھارتی پیرا ملٹری فورسز کے اہلکار مارے گئے تھے جس کا الزام بھارت نے پاکستان پر عائد کیا تھا تاہم پاکستان نے واضح کیا تھا کہ اس کا اس حملے میں کوئی ہاتھ نہیں ہے اور پاکستان نے اس کی تحقیقات میں مدد کی پیشکش کی تھی لیکن اس کے باوجود بھارت نے پاکستانی علاقے میں طیاروں کے ذریعے بم گرائے۔








