اسلام آباد ۔ 6 مارچ (اے پی پی) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ امریکا ،روس،چین سمیت کئی ممالک نے پرائیویٹ ڈپلومیسی کے ذریعے پاک بھارت کشیدگی کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔دنیا نے ہمارے نقطہ نظر کو تسلیم کیا اور سراہا ہے۔ بھارت کے اشتعال انگیز اور جارحانہ بیانات کے باوجود صبرو تحمل اور برداشت کا مظاہرہ کیا اور ہمارا رد عمل محتاط تھا۔پاکستان بھارت …
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا اسلام آباد انسٹی ٹیوٹ آف سٹریٹجک سٹڈیز کے زیر اہتمام سی پیک کانفرنس سے خطاب ، میڈیا سے گفتگو

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 6 مارچ (اے پی پی) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ امریکا ،روس،چین سمیت کئی ممالک نے پرائیویٹ ڈپلومیسی کے ذریعے پاک بھارت کشیدگی کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔دنیا نے ہمارے نقطہ نظر کو تسلیم کیا اور سراہا ہے۔ بھارت کے اشتعال انگیز اور جارحانہ بیانات کے باوجود صبرو تحمل اور برداشت کا مظاہرہ کیا اور ہمارا رد عمل محتاط تھا۔پاکستان بھارت کے ساتھ تمام تصفیہ طلب معاملات مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کا خواہاں ہے۔ پاکستان امن پسند ملک ہے اور علاقائی استحکام و ترقی اور افغانستان میں امن چاہتا ہے۔بدھ کو یہاں اسلام آباد انسٹی ٹیوٹ آف سٹریٹجک سٹڈیز کے زیر اہتمام سی پیک کے حوالے سے کانفرنس سے خطاب اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ وزارت خارجہ پاک چین تعلقات میں اضافے کی تجاویز کو خوش آمدید کہتی ہے۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ چین کے ساتھ تعلقات پاکستان کی خارجہ پالیسی کا مرکزی ستون ہے، سی پیک خطے کی ترقی کے لئے دونوں ملکوں کی خواہش کا ثبوت ہے۔پلوامہ واقعے کے بعد چینی قیادت نے پاکستان اور بھارت کو بات چیت کے ذریعے مسائل کے حل کا مشورہ دیا۔اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ ملٹری آپریشنز ڈائریکٹوریٹ سطح پر ہفتہ وار رابطے بحال کر نے کیلئے تیار ہے جبکہ نئی دہلی میں تعینات پاکستان کے ہائی کمشنر سہیل محمود مشاورت مکمل ہونے کے بعد ایک دو روز میں بھارت واپس جائیں گے۔اس طرح حسب وعدہ کرتار پور راہداری سے متعلق معاہدے کے مسودے پر بات چیت کیلئے پاکستانی وفد 14مارچ کو نئی دہلی جبکہ بھارتی وفد 28مارچ کو اسلام آباد آئے گا۔حالیہ پاک بھارت کشیدگی سے متعلق ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکی سیکرٹری خارجہ پومپیو کے ترجمان نے بھی برملا کہ دیا ہے کہ پرائیویٹ ڈپلومسیی کو بروئے کار لاتے ہوئے امریکا نے بڑا مثبت کردار ادا کیا ہے۔چین، روس، سعودی عرب، ترکی یو اے ای اور اردن سمیت دیگر ممالک نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ان ممالک نے کوشش کی کہ پاک بھارت کشیدگی کو سفارتکاری کے ذریعے ختم کیا جائے۔ان ممالک نے بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج اور مجھ سے مسلسل رابطے کئے جبکہ میں نے ان کے سامنے پاکستان کا نقطہ نظر پیش کیا۔مجھے خوشی ہے کہ دنیا نے ہمارے نقطہ نظر کو تسلیم کیا ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ تمام تصفیہ طلب معاملات مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کا خواہاں ہے۔دنیا نے دیکھ لیا کہ بھارت کے اشتعال انگیز اور جارحانہ بیانات کے باوجود صبرو تحمل اور برداشت کا مظاہرہ کیا اور ہمارا رد عمل محتاط تھا۔عالمی برادری نے دہشت گردی کے خاتمے اور مذاکرات کے ذریعے معاملات حل کرنے کے عزم کو تسلیم کیا۔ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان امن پسند ملک ہے اور علاقائی استحکام اور ترقی چاہتا ہے۔پاکستان افغانستان مین امن چاہتا ہے اور افغان مصالحتی عمل کی مکمل حمایت اور سہولت فراہم کر رہے ہیں۔عالمی برادری نے ہمارے ذمہ دارانہ کردار کو تسلیم اور سراہا۔قبل ازیں کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاک چین تعلقات پاکستان کی خارجہ پالیسی کا مرکزی ستون ہیں۔پلوامہ واقعے کے بعد چینی قیادت نے پاکستان اور بھارت کو بات چیت کے ذریعے مسائل کے حل کا مشورہ دیا۔وزیر خارجہ نے کہا کہ سی پیک دونوں ملکوں کے خطے کی ترقی کی خواہش کا ثبوت ہے جبکہ پاکستان سائنس و ٹیکنالوجی، زراعت، توانائی اور عوامی روابط کے شعبوں میں سی پیک کے تحت تعاون کو بڑھانا چاہتا ہے تاکہ پاکستان میں سماجی و اقتصادی ترقی کے نئے دور کا آغاز ہوسکے۔انہوں نے کہا کہ جب تحریک انصاف کی حکومت برسر اقتددار آئی تو ہمیں اقتصادی مشکلات وراثت میں ملیں تاہم موجودہ حکومت کی کوششوں سے ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں اور کاروباری افراد کے اعتماد میں اضافہ کیا جس سے ملکی اقتصادی صورتحال ترقی کے راستے پر گامزن ہو چکی ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کی قیادت میں حکومت ملک میں سرمایہ کاری کے فروغ کی پالیسیوں پر عمل پیرا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت ملک میں عام آدمی کے معیار زندگی میں بہتری پر مبنی سماجی و اقتصادی ترقی کے لئے اقدامات کررہی ہے۔








