سرینگر ۔ 24 مارچ (اے پی پی)مقبوضہ کشمیر میں آزادی پسند سرگرمیوں میں حصہ لینے پر محمد یاسین ملک کی زیر قیادت جموںوکشمیر لبریشن فرنٹ پر بھارتی حکومت کی طرف سے پابندی عائد کئے جانے کے خلاف آج مکمل ہڑتال کی گئی۔ کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق ہڑتال کی کال مشترکہ حریت قیادت نے دی تھی۔ہڑتال کے باعث علاقے میں تمام دکانیں اور کاروباری مراکز بند جبکہ سڑکوں پر گاڑیوں کی …
مقبوضہ کشمیر میںلبریشن فرنٹ پر پابند ی کے خلاف مکمل ہڑتال

مزید خبریں
سرینگر ۔ 24 مارچ (اے پی پی)مقبوضہ کشمیر میں آزادی پسند سرگرمیوں میں حصہ لینے پر محمد یاسین ملک کی زیر قیادت جموںوکشمیر لبریشن فرنٹ پر بھارتی حکومت کی طرف سے پابندی عائد کئے جانے کے خلاف آج مکمل ہڑتال کی گئی۔ کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق ہڑتال کی کال مشترکہ حریت قیادت نے دی تھی۔ہڑتال کے باعث علاقے میں تمام دکانیں اور کاروباری مراکز بند جبکہ سڑکوں پر گاڑیوں کی آمدورفت معطل رہی۔ احتجاجی مظاہروں کو روکنے کے لیے پولیس اور پیراملٹری فورسز کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی۔ محمد یاسین ملک اس وقت کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت جموں کی کوٹ بھلوال جیل میں نظربند ہیں۔قابض انتظامیہ نے پارٹی رہنما?ں اور کارکنوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈا?ن آپریشن شروع کررکھا ہے۔ میرواعظ عمرفاروق، آغا سید حسن الموسوی الصفوی، ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی، دختران ملت اور ہائی کورٹ بارایسوسی ایشن سمیت حریت رہنمائوں اور تنظیموںنے اپنے الگ الگ بیانات میں جموںوکشمیرلبریشن فرنٹ پر پابندی کی شدید مذمت کی ہے۔ میرواعظ عمرفاروق نے کہاکہ اس طرح کے کشمیر دشمن ہتھکنڈوں سے نہ تنازعہ کشمیرکی حقیقت تبدیل کی جاسکتی ہے اورنہ اس کو حل کرنے کی اہمیت کم ہوسکتی ہے۔ ہائی کورٹ بارایسوسی ایشن نے پابندی کو اظہار رائے کی آزادی کے مسلمہ اصولوں کے منافی قراردیا۔ دریں اثناء ضلع بارہمولہ کے علاقے سوپور میں ہزاروں لوگوں نے شہیدنوجوان طاہر احمد ڈار کی نماز جنازہ میں شرکت کی۔ جنازے میں خواتین سمیت لوگوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ شہید نوجوان کو ان کے آبائی قبرستان میں آزادی کے حق میں اور بھارت کے خلاف فلک شگاف نعروں کی گونج میںسپردخاک کیاگیا۔طاہر احمد ڈار اور ایک اور نوجوان کی لاشیںگزشتہ روز سوپور کے علاقے وارہ پورہ میں بھارتی فورسز کی طرف سے تین روزہ محاصرے اور تلاشی کی کارروائی کے بعد ایک مکان کے ملبے سے برآمد کی گئی تھیں۔بھارتی فوجیوں نے جمعرات کو علاقے میںآپریشن شروع کیا تھا۔ نوجوانوں کی شہادت پر سوپور میں زبردست احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ قابض انتظامیہ نے بانڈی پورہ اور شوپیان اضلاع میں جماعت اسلامی کے دو رہنمائوں اور ایک سکول پرنسپل پرکالا قانون پبلک سیفٹی ایکٹ لاگو کرکے انہیں جموں کی جیلوں میںمنتقل کردیا ہے۔گرفتار ہونے والوں میں جماعت اسلامی ضلع بانڈی پورہ کے امیر حافظ محمد سکندر ملک ، تحصیل کے امیر شیخ علی محمد اور شوپیان میں جماعت اسلامی کی سرپرستی میں چلنے والے سکول کے پرنسپل مبشر حسین شامل ہیں۔ ادھر بھارتی ریاست کرناٹک کے دارالحکومت بنگلورو میں ہندو انتہا پسندوں کے ایک گروپ نے 24سالہ کشمیری طالب علم پر لوہے کی سلاخوں سے حملہ کیا۔حملے کے دوران سرینگر سے تعلق رکھنے والا طالب علم ابصار ظہور دھرشدید زخمی ہوا ہے۔








