سینٹ آف پاکستان نے 16ویں پارلیمانی سال کے دوران قانون سازی میں اہم کردار ادا کیا

اسلام آباد ۔ 31 مارچ (اے پی پی) سینٹ آف پاکستان نے 12 مارچ 2018ء تا 11 مارچ 2019 میں 16ویں پارلیمانی سال کے دوران قانون سازی کی موثر نگرانی، قومی اہمیت کے مسائل پر تقاریر اور اراکین کی اجلاس میں حاضری سمیت قانون سازی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ سینیٹ سیکرٹریٹ کی رپورٹ کے مطابق 16 پارلیمانی سال کے دوران سینیٹ کے 13 ریگولر سیشنز (275-287) منعقد ہوئے …

اسلام آباد ۔ 31 مارچ (اے پی پی) سینٹ آف پاکستان نے 12 مارچ 2018ء تا 11 مارچ 2019 میں 16ویں پارلیمانی سال کے دوران قانون سازی کی موثر نگرانی، قومی اہمیت کے مسائل پر تقاریر اور اراکین کی اجلاس میں حاضری سمیت قانون سازی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ سینیٹ سیکرٹریٹ کی رپورٹ کے مطابق 16 پارلیمانی سال کے دوران سینیٹ کے 13 ریگولر سیشنز (275-287) منعقد ہوئے اور اس دوران پارلیمان کے دو مشترکہ اجلاس بھی انعقاد پذیر ہوئے۔ ان اجلاسوں کے دوران 111 دنوں میں 203 گھنٹے اور دس منٹ سینیٹ کی کارروائی جاری رہی۔12 مارچ 2018 کو سینیٹ کے 275ویں سیشن کے دوران 104 رکنی سینیٹ میں حاضری 103 رہی جو سب سے زیادہ ہے جبکہ 20 جولائی 2018ء کو 280ویں سیشن میں سب سے کم حاضری ریکارڈ کی گئی جس میں 25 قانون ساز شریک تھے۔ دوران سال سینٹ اراکین کی اوسط حاضری کی شرح 64.46 فیصد رہی جبکہ ہر اجلاس کا اوسط دورانیہ دو گھنٹے اور چھتیس منٹ رہا ہے اس کے ساتھ ساتھ دوران سال سینیٹ کے اجلاسوں کا آغاز وقت پر ہونے کی نئی روایت قائم ہوئی اور سینیٹ کے اجلاس اوسطا ایک منٹ سے بھی کم وقت کی تاخیر سے شروع ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق 16ویں پارلیمانی سال کے دوران سینٹ میں اراکین سینٹ اور قومی اسمبلی کے درمیان سماجی رابطوں کے استحکام پر خصوصی توجہ بھی دی۔ سینیٹ سیکرٹریٹ کے مطابق دوران سال 28 پرائیویٹ ممبرز بل اور 15 گورنمنٹ بل متعارف کرائے گئے۔ ہائوس نے پانچ سرکاری بلز کی منظوری دی جبکہ پانچ پرائیویٹ ممبر بلز کو بھی منظور کیا، مزید براں سینٹ میں سات آرڈیننسز جبکہ متعارف کرائے گئے چھ پرائیویٹ ممبر بلز کو بھی ایکٹ کا درجہ دیا، قومی اسمبلی سے سینٹ کو سات حکومتی بل وصول ہوئے جو منظور ہوئے اسی طرح قومی اسمبلی سے دیگر سات موصول ہونے والے بلز کو پاس کیا گیا۔

Leave a Reply