اسلام آباد ۔ یکم اپریل (اے پی پی) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن کے دور میں آصف علی زرداری پر کرپشن کے مقدمات قائم کیے گئے ،ن لیگ نے اچھی تحقیقات کیں امید ہے کہ اب بھی مسلم لیگ ن ان کیسز کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے نیب کے ساتھ تعاون کریگی ،بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا …
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین کی میڈیا سے گفتگو

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ یکم اپریل (اے پی پی) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن کے دور میں آصف علی زرداری پر کرپشن کے مقدمات قائم کیے گئے ،ن لیگ نے اچھی تحقیقات کیں امید ہے کہ اب بھی مسلم لیگ ن ان کیسز کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے نیب کے ساتھ تعاون کریگی ،بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا نام تبدیل نہیں کر رہے بلکہ اسے غربت مٹاﺅ پروگرام "احساس اور کفالت” کی چھتری تلے لا رہے ہیں،غربت کی شرح کے جائزہ کے لئے سروے شروع ہوگیا ہے ،ستمبر میں سروے کے نتائج جاری کیے جائیں گے ،فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع ہونی چاہیے ،وزیراعظم عمران خان نے اتفاق رائے پیدا کرنے کے لئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو ٹاسک سونپا ہے ،سخت فیصلے لیکر ملک کو پاﺅں پر کھڑا کر رہے ہیں ۔وہ پیر کو یہاں میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے ۔آصف علی زرداری کے خلاف کیسز کے مستقبل کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں وفاق وزیر اطلاعات ونشریات چوہدری فواد حسین نے کہا کہ آصف علی زرداری کے خلاف مقدمات موجودہ حکومت کے بنائے ہوئے نہیں ہیں ،یہ سارے کیسز نواز شریف کے دور میں شروع ہوئے تھے ،2015میں زرداری کے خلاف مقدمات شروع ہوئے تھے اور 2016میں اس وقت کے وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے پریس کانفرنس کر کے بتایا گیا تھا کہ کس طرح ان اکاﺅنٹس کو استعمال کیا گیا تھا، بلاول ہاﺅس کے اخراجات ، ایان علی اور اس سے منسلک دیگر لوگوں کے ٹکٹوں کے لئے ادائیگیاں ان اکاﺅنٹس سے ہوئیں ،یہ باتیں سب کے سامنے ہیں ، پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت نے آصف علی زرداری کے کیسز کی اچھی تحقیقات کیں ،ہمیں امید ہے کہ اب بھی مسلم لیگ ن ان مقدمات کو آگے بڑھانے کے لئے نیب کی حمایت کریگی ۔امید ہے کہ زرداری نواز شریف کی طرح جیل آتے جاتے رہیں گے ۔بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے نام کی تبدیلی پر پیپلز پارٹی کے شور سے متعلق سوال کے جواب میں وفاقی وزیر چوہدری فواد حسین نے کہا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا نام کی تبدیلی اس طرح سے نہیں ہورہی ہے ، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام ،زکوٰة اوربیت المال ایسے ادارے ہیں جن کے ذریعے مستحقین کو براہ راست فنڈز فراہم کررہے ہیں ان کا اپنا اپنا دائرہ کار تھا لیکن موجود حکومت نے غربت مٹاﺅ پرگرام کے تحت احساس اور کفالت کے پروگرام متعارف کرائے ہیں جس میں بے روز گار نوجوانوں کو قرض کی فراہمی، جن کے سر پر چھت نہیں انھیں چھت کی فراہمی ،روزگار اور کارروبار کے مواقع فراہم کیے جائیں گے ،یہ پروگرام مرکزی سطح کا ہے اس لئے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام ،بیت المال ،زکوٰة کے ادارے اس کے ماتحت کام کرینگے ۔ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر چوہدری فواد حسین نے کہا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت ہر پانچ سال بعد ایک سروے ہونا ہوتا ہے ،جس میں غربت کی شرح کو اپ ڈیڈ کرتے ہیں ،یہ سروے شروع ہوگیا ہے ستمبر میں اس کے نتائج آئیں گے ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بریگیڈئر(ر) اعجاز شاہ نے وفاقی وزیر پارلیمانی امور کی ذمہ داریاں سنبھال لیں ہیں ۔پیٹرولیم کی قیمتوں میں اضافے کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر چوہدری فواد حسین نے کہا کہ پاکستان میںپیٹرولیم مصنوعات کی پیداوار نہیں ہے اس لئے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیںعالمی سطح کی قیمتوں سے جڑی ہوئی ہیں ،نواز شریف کے دور میں پیٹرولیم کی قیمت 38تا 40ڈالر فی بیرل آگیا تھا ،اب عالمی سطح پر بھی پیٹرولیم کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے ۔ نواز شریف دور حکومت میں بیرونی قرضے 30ٹریلین ڈالر تک پہنچئے،ہمارے لئے آسان تھا کہ ہم بھی اسی رفتار سے قرضے لیتے لیکن وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں پی ٹی آئی حکومت نے ایسا کوئی قدم نہیں اٹھایا اور ہر ممکن کوشش کی گئی کہ عام آدمی پر بوجھ نہ پڑے ۔ فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں وزیر اطلاعات چوہدری فواد حسین نے کہا کہ ہر ملک اپنے ملکی مفاد میں فیصلے کرتا ہے ،قومی ایکشن پلان کے تحت تمام سیاسی جماعتوں کے اتفاق رائے سے فوجی عدالتوں کا قیام عمل میں آیا تھا ،فوجی عدالتوں کی بدولت دہشت گردی میں کافی حد تک کمی آئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لئے فوجی عدالتوں کی مدت میں اضافہ ہونا چاہیے ،فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کے لئے اتفاق رائے ضروری ہے ،وزیراعظم نے شاہ محمود قریشی کو یہ ٹاسک سونپا ہے ،اگر اتفاق رائے ہوا تو فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع ہوگی ۔انہوں نے کہا کہ سخت فیصلے لیکر پاکستان کو اپنے پاﺅں پر کھڑا کر رہے ہیں ۔








