برسلز میں پاکستان میں سیاحت کے فروغ کے لئے سیاحوں کی معلومات کے لئے انفارمیشن کارنر قائم،ڈاکٹر شیریں مزاری نے افتتاح کیا

اسلام آباد ۔ 2 اپریل (اے پی پی) برسلز میں پاکستانی سفارتخانے میں منگل کو پاکستان میں سیاحت کے فروغ کے لئے سیاحوں کی معلومات کے لئے انفارمیشن کارنر کھول دیا ہے۔ برسلز سے موصول بیان کے مطابق وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے معلوماتی کارنر کا افتتاح کیا۔ ڈاکٹر شیریں مزاری نے اس موقع پر اپنی تقریر میں سیاحت کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ …

اسلام آباد ۔ 2 اپریل (اے پی پی) برسلز میں پاکستانی سفارتخانے میں منگل کو پاکستان میں سیاحت کے فروغ کے لئے سیاحوں کی معلومات کے لئے انفارمیشن کارنر کھول دیا ہے۔ برسلز سے موصول بیان کے مطابق وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے معلوماتی کارنر کا افتتاح کیا۔ ڈاکٹر شیریں مزاری نے اس موقع پر اپنی تقریر میں سیاحت کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ سیاحت کسی بھی ملک کی معیشت میں اہم کردار ادا کرتی ہے اور نوجوان کو روزگار فراہم کرنے میں مدد گار ثابت ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سیاحت کے فروغ کے ساتھ ساتھ ویزہ پالیسی میں بھی آسانی پیدا کررہی ہے اور شمالی علاقہ جات جانے کے لئے پابندی ختم کردی گئی ہے جہاں جانے کے لئے باضابطہ منظوری درکار ہوتی تھی۔ انہوں نے برسلز میں پاکستانی سفارتخانے کی سیاحت کے فروغ سے متعلق اقدامات کو بھی سراہا۔ انہوں نے کہاکہ ملک کی ثقافت اور خوبصورتی کو اجاگر کرنا ہوگا جیسا کہ پاکستان جغرافیائی اعتبار سے برف پوش چوٹیوں، ساحلوں، سرسبز وادیوں اور صحراﺅں کی سر زمین ہے۔ اس موقع پر کے ٹو سر کرنے والے بیلجیم کے پہلے کوہ پیما پال ہیگی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹوکے علاوہ 8 ہزار میٹر بلند 4 چوٹیاں اور بہت سارے بڑے گلیشئرز بھی پاکستان میں موجود ہیں جو کوہ پیماﺅں کے لئے انوکھی کشش رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کی ثقافت اور لوگوں سے ملنے والے پیار کو بھی سراہا۔ اس کے علاوہ فوٹوگرافر بینوائت سنیسز جنہو ں فوٹو گرافی کے لئے ہنزہ کا 6 مرتبہ دورہ کیا نے بھی اپنی تصویریں دکھائیں ۔ افتتاحی تقریب میں بیلجیم اور یورپ سے آئے ہوئے لوگوںکی کافی بڑی تعداد کے علاوہ سیاستدانوں، ٹور آپریٹرز، میڈیا کے نمائندوں اور یورپی یونین کے عہدیداروں نے بھی شرکت کی۔ انفارمیشن کارنر میں سیاحوں کی دلچسپی سے متعلق پاکستانی کتب اور کتابچے بھی رکھے گئے تھے۔

Leave a Reply