صدر آزاد جموں و کشمیر سردار مسعود خان کا منگلا ڈیم کے دورے کے دوران واپڈا حکام کی بریفنگ کے بعد اظہار خیال

اسلام آباد ۔ 7 اپریل (اے پی پی) صدر آزاد جموں و کشمیر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ منگلا ڈیم سے میر پور کے عوام کو پانی کی فراہمی اور ڈیم کے پانی کو آزادکشمیر میں آبپاشی کے مقاصد کے لئے استعمال کے معاملے کو وفاقی حکومت کے سامنے اٹھایا جائے گا، وطن عزیز کی ترقی اور خوشحالی کے لیے اپنے گھر بار اور کھیتوں کھلیانوں کی قربانی …

اسلام آباد ۔ 7 اپریل (اے پی پی) صدر آزاد جموں و کشمیر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ منگلا ڈیم سے میر پور کے عوام کو پانی کی فراہمی اور ڈیم کے پانی کو آزادکشمیر میں آبپاشی کے مقاصد کے لئے استعمال کے معاملے کو وفاقی حکومت کے سامنے اٹھایا جائے گا، وطن عزیز کی ترقی اور خوشحالی کے لیے اپنے گھر بار اور کھیتوں کھلیانوں کی قربانی دینے والے میر پور کے عوام کے جذبہ ایثار کو سلام پیش کرتے ہیں، واپڈا آزادکشمیر کے اندر پن بجلی کے نئے منصوبے شروع کرنے سے پہلے علاقے کے ماحولیاتی مسائل کا تدارک اور عوام کے ذہنی تحفظات دور کرے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگلا ڈیم کے دورے کے دوران واپڈا کے اعلیٰ حکام کی طرف سے دی جانے والی بریفنگ کے بعد اظہار خیال کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر آزادکشمیر کے وزیر تعمیرات عامہ چوہدری محمد عزیز ، وزیر اطلاعات وسیاحت مشتا ق منہاس ، واپڈا کے اعلیٰ افسران اور ضلعی انتظامیہ کے حکام بھی موجود تھے۔ صدر آزادکشمیر نے کہا کہ اگرچہ حکومت نے متاثرین منگلا ڈیم کی دلجوئی کے لیے معاوضوں کی ادائیگی اور رہائش کے لئے متبادل زمین مہیا کی لیکن اپنی جائے پیدائش کی قربانی کا کوئی معاوضہ ادا نہیں کیا جا سکتا۔ صدر آزادکشمیر اور کابینہ کے ارکان کو بریفنگ دیتے ہوئے منگلا پاور ہاؤس کے ایڈیشنل چیف انجینئر کریم نواز نے بتایا کہ پاکستان کاکثیر المقاصد منگلا ڈیم منصوبہ ملک کی معاشی اور سماجی ترقی و خوشحالی کے لئے گزشتہ نصف صدی سے اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ پاکستان کا یہ سب سے بڑاآبی ذخیرہ جہاں پنجاب کے نشینی علاقوں کو آبپاشی کے لئے پانی مہیا کر رہا ہے وہاں انتہائی کم لاگت پر بجلی کی پیدوار اور سیلابوں کی روک تھام کا بھی ایک بڑا ذریعہ ہے۔ منگلا ڈیم کی تاریخ پر روشنی ڈالتے ہوئے ایڈیشنل چیف انجینئر نے بتایا کہ یہ ڈیم جب 1967ء میں مکمل ہوا تو اس میں پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش 1200فٹ تک تھی جو اب منگلا توسیع منصوبے کے بعد 1242فٹ ہو گئی ہے اور اس منصوبے سے بجلی کی پیداوار کی گنجائش ایک ہزار میگا واٹ سے بڑھ کر 1120میگاواٹ ہوگئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ منگلا ڈیم اپ ریزنگ منصوبے پر 2004ء میں کام شروع کیا گیا تھا جو 2009ء میں مکمل ہوا اور اس کے نتیجے میں منگلا ڈیم پاکستان کا سب سے بڑا آبی ذخیرہ بن گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 1960ء کی دہائی میں دریا جہلم پر بننے والے منگلا ڈیم کے بارے میں ماہرین کا اندازہ تھا کہ اس ڈیم کی عمر 100 سے 115سال ہے لیکن واپڈا کی واٹر شیڈ پالیسی اور منگلا ڈیم اپ ریزنگ منصوبے کی تکمیل کے بعد ڈیم کی عمر 269 سال تک بڑھ گئی ہے۔ منگلا پاور ہاؤس کی بجلی کی پیداوار کا تذکرہ کرتے ہوئے ایڈیشنل چیف انجینئر نے بتایا کہ منصوبے کے ابتدائی چار یونٹ سے چار سو میگاواٹ بجلی حاصل ہوتی تھی لیکن بجلی پیدا کرنے کی یہ گنجائش مزید یونٹس کے اضافے کے بعد 1994ء میں ایک ہزار میگاواٹ تک پہنچ گئی،نئی مشینری کی تنصیب اور دریا میں پانی کی اضافی فراہمی کی صورت میں بجلی کی پیدوار 1300ء میگا واٹ تک جا سکتی ہے۔ صدر سردار مسعود خان اور وفد کے ارکان نے منگلا پاور ہاؤس کے مختلف حصوں کا بھی دورہ کیاجہاں انہیں ٹربائن ، جنریٹر ، سرج ٹینک وغیرہ کے افعال کے بارے میں بتایا گیا۔ صدر آزادکشمیر ، کابینہ کے ارکان اور دیگر حکام نے منگلا قلعہ اور منگلا میوزیم کا دورہ بھی کیا۔ مہمانوں کی کتاب میں اپنے تاثرات درج کرتے ہوئے صدر سردار مسعود خان نے منگلا ڈیم منصوبے کو ملکی انجینئروں اور منصوبہ سازوں کی مہارت اور ویژن کا شاہکار اور پاکستان اور آزادکشمیر کی تیز ترین ترقی کے لئے قوم کے عزم کی علامت اور کامیاب بین الاقوامی تعاون اور شراکت داری کا مظہر قرار دیا۔ انہوں نے اس عظیم قومی منصوبے کے لئے میر پور کے عوام کی قربانیاں اور ایثار کی تعریف کرتے ہوئے اس منصوبے کو ملک کے انجینئروں اور منتظمین کے لئے نرسری بھی قرار دی۔

Leave a Reply