کاروباری برادری اور برآمد کنندگان کیلئے سہولت کاری، برآمدی استعداد بڑھانے اور نجی شعبے کی قیادت میں معاشی نمو کے فروغ کیلئے عملی اقدامات کئے جارہے ہیں، وزیرمملکت خزانہ

وزیر مملکت خزانہ ومحصولات بلال اظہرکیانی نے کہا ہے کہ حکومت کاروباری برادری اور برآمد کنندگان کے لیے سہولت کاری، کاروباری رکاوٹیں دور کرنے، برآمدی استعداد بڑھانے اور نجی شعبے کی قیادت میں معاشی نمو کے فروغ کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے، حکومت کا بنیادی کردار کاروباری سرگرمیوں میں رکاوٹیں پیدا کرنا نہیں بلکہ انہیں دور کرکے نجی شعبے کو آگے بڑھنے کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنا …

اسلام آباد۔22ستمبر (اے پی پی):وزیر مملکت خزانہ ومحصولات بلال اظہرکیانی نے کہا ہے کہ حکومت کاروباری برادری اور برآمد کنندگان کے لیے سہولت کاری، کاروباری رکاوٹیں دور کرنے، برآمدی استعداد بڑھانے اور نجی شعبے کی قیادت میں معاشی نمو کے فروغ کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے، حکومت کا بنیادی کردار کاروباری سرگرمیوں میں رکاوٹیں پیدا کرنا نہیں بلکہ انہیں دور کرکے نجی شعبے کو آگے بڑھنے کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنا ہے۔انہوں نے یہ بات منگل کو سیالکوٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں کاروباری برادری سے خطاب کرتے ہوئے کہی ۔ وزیرمملکت نے کہاکہ سیالکوٹ کا پاکستان کی معیشت بالخصوص برآمدات کے شعبے میں ایک خصوصی مقام ہے اور حکومت اس کی برآمدی صلاحیت کو زیادہ سے زیادہ بروئے کار لانے کے لیے ضروری اقدامات کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے حکومت کے لیے واضح سمت متعین کی ہے کہ کاروباری افراد اور برآمد کنندگان کے ساتھ حکومتی رویہ خوشگوار، دوستانہ اور مکمل طور پر سہولت کاری پر مبنی ہونا چاہیے، کاروباری افراد ہی حکومت کو ٹیکس فراہم کرتے، روزگار کے مواقع پیدا کرتے اور برآمدات کے ذریعے ملک کے لیے زرمبادلہ کماتے ہیں، اس لیے حکومت کا کردار ان کے لیے رکاوٹیں دور کرنے اور ضروری پالیسی سہولیات فراہم کرنے تک محدود ہونا چاہیے

وزیراعظم نے گزشتہ ایک سال کے دوران کاروباری برادری کے ساتھ مسلسل رابطہ رکھا اور مختلف چیمبرز کے صدور اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے کاروباری رہنمائوں سے باقاعدہ ملاقاتیں کیں،ان ملاقاتوں کے نتیجے میں ٹیکس، کسٹمز، تجارت، توانائی، ریلوے، زراعت اور آئی ٹی سمیت مختلف شعبوں کے لیے ورکنگ گروپس تشکیل دیئے گئے جن کی قیادت نجی شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد نے کی جبکہ متعلقہ حکومتی حکام ان کے ارکان تھے، وزیراعظم نے ان ورکنگ گروپس کی سفارشات پر الگ الگ بریفنگز لیں اور رواں مالی سال کے بجٹ میں دستیاب مالی گنجائش کو کاروباری برادری کی تجاویز کی روشنی میں استعمال کیا گیا۔وزیر خزانہ نے کہا کہ رواں مالی سال کے بجٹ میں 15 کروڑ روپے سے 50 کروڑ روپے تک سالانہ آمدن والے کاروباروں کے لیے سپر ٹیکس ختم کر دیا گیا ہے جبکہ 50 کروڑ روپے سے زائد آمدن والے کاروباروں کے لیے سپر ٹیکس کی شرح 10 فیصد سے کم کرکے 8 فیصد کردی گئی ہے ،برآمد کنندگان کے لیے پروسیڈز پر مجموعی ٹیکس کی شرح بھی کم کی گئی ہے، ایڈوانس انکم ٹیکس اور کم از کم ٹیکس کی مد میں مجموعی شرح 2 فیصد سے کم کرکے 1.25 فیصد کردی گئی ہے جبکہ ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ فنڈ کا 0.25 فیصد سرچارج بھی ختم کردیا گیا ہے

یوں مجموعی کٹوتی ایک سال قبل کے 2.25 فیصد کے مقابلے میں اب 1.25 فیصد رہ گئی ہے۔وزیرمملکت نے کہاکہ حکومت نے تنخواہ دار طبقے کو بھی بجٹ میں ریلیف فراہم کیا ہے اور کوشش کی گئی ہے کہ مختلف آمدنی کے سلیب میں شامل ملازمین کو مناسب ٹیکس کمی کا فائدہ پہنچے، وزیراعظم پہلے ہی یہ عزم ظاہر کرچکے تھے کہ تنخواہ دار طبقہ زیادہ ٹیکس بوجھ کا شکار ہے اور مالی گنجائش پیدا ہونے پر اسے ترجیحی بنیادوں پر ریلیف دیا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ آئی ٹی سیکٹر کے لیے 0.25 فیصد فائنل ٹیکس ر جیم بھی جاری رکھا گیا ہے جو رواں سال ختم ہونے والی تھی ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے برآمد کنندگان کی تجاویز کی روشنی میں ایکسپورٹ فنانس سکیم کی یوٹیلائزیشن مدت بھی بڑھائی ہے، پہلے یہ مدت نو ماہ تھی جسے علاقائی بینچ مارکس اور برآمد کنندگان سے مشاورت کے بعد 18 ماہ کردیا گیا ہے جبکہ مزید چھ ماہ کی توسیع بھی حاصل کی جاسکتی ہے، اس طرح عملی طور پر مجموعی مدت دو سال تک ہوسکتی ہے، طویل یوٹیلائزیشن مدت خصوصاً چھوٹے اور درمیانے درجے کے برآمد کنندگان کے لیے اہم ہے کیونکہ ان کے آرڈرز نسبتاً چھوٹے ہوتے ہیں اور انہیں خام مال بڑی مقدار میں درآمد کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی،سیالکوٹ جیسے برآمدی مرکز کے لیے اس سہولت کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ای ایف ایس کے تحت گارنٹیز کے بجائے پوسٹ ڈیٹڈ چیکس کے معاملے کو بھی متعلقہ حکام کے ساتھ مل کر حل کیا گیا ہے۔ قواعد کی تشریح سے متعلق معاملے کے حل کے بعد 80 فیصد سے زائد برآمدات کرنے والے برآمد کنندگان کے لیے پوسٹ ڈیٹڈ چیک کی سہولت نافذ کردی گئی ہے جس سے بالخصوص سیالکوٹ کے بیشتر برآمد کنندگان مستفید ہوسکیں گے۔وزیرمملکت نے کہاکہ برآمد کنندگان کے مسائل کے فوری حل کے لیے ایکسپورٹ فیسلیٹیشن کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں جن میں برآمد کنندگان اور ایف بی آر کے نمائندے باقاعدگی سے اجلاس کرکے مسائل کو ایجنڈے کے تحت زیر بحث لائیں گے۔ ایک اہم اصلاح یہ ہے کہ کسی بھی برآمد کنندہ کے خلاف آڈٹ کا آغاز متعلقہ ایکسپورٹ فیسلیٹیشن کمیٹی کے عمل سے گزرے بغیر نہیں کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ حکومت ٹڈاپ میں اصلاحات کے لیے بھی وزیراعظم کی تشکیل کردہ کمیٹی کے ذریعے کام کر رہی ہے،حکومت کی خواہش ہے کہ ٹی ڈی اے پی برآمد کنندگان کے لیے ون سٹاپ شاپ کا کردار ادا کرے اور تجارت کے فروغ سمیت برآمد کنندگان کے مسائل کو متعلقہ ملکی اداروں اور بیرون ملک پاکستانی مشنز تک موثر انداز میں پہنچائے۔

توانائی کی لاگت کے حوالے سے وزیر مملکت خزانہ نے کہا کہ حکومت نے صنعتی کراس سبسڈی ختم کی ہے اور بجلی کے ٹیرف میں مزید کمی کے لیے کوششیں جاری ہیں، جہاں ممکن ہو صنعتوں میں سولر اور متبادل توانائی کے نظام اپنانے میں بھی سہولت فراہم کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ پالیسی ریٹ بھی حکومت میں آنے کے وقت تقریباً 22 فیصد تھا جو اب 11.5 فیصد ہے۔ حالیہ علاقائی کشیدگی کے باعث افراط زر کے خدشات پیدا ہونے پر سٹیٹ بینک نے حال ہی میں شرح سود میں تبدیلی کی ہے ۔بلال اظہرکیانی نے کہاکہ حکومت نجی شعبے کی قیادت میں معاشی نمو کے لیے نجکاری کے عمل کو بھی آگے بڑھا رہی ہے۔ پی آئی اے کی نجکاری مکمل کی جاچکی ہے جبکہ تین ڈسکوز کی نجکاری پر کام جاری ہے اور ممکنہ خریداروں سے اظہار دلچسپی بھی طلب کیا جاچکا ہے،پاور ڈویژن اور نجکاری کمیشن مارکیٹ کی رائے کو مدنظر رکھتے ہوئے اس عمل کو اس انداز میں آگے بڑھا رہے ہیں کہ نجکاری کے بعد تقسیم کار کمپنیاں زیادہ موثر، بہتر خدمات فراہم کرنے والی اور مناسب نرخوں پر بجلی فراہم کرنے کے قابل ہوں۔انہوں نے کہا کہ ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ فنڈ کے بورڈ میں بھی اصلاحات کی گئی ہیں اور اسے نجی شعبے کی قیادت میں لایا گیا ہے۔

اب بورڈ کی سربراہی نجی شعبے سے تعلق رکھنے والا رکن کر رہا ہے جبکہ ملک کے بڑے ٹیکسٹائل اور نان ٹیکسٹائل برآمد کنندگان، متعلقہ چیمبرز اور دیگر شعبوں کی نمائندگی یقینی بنائی گئی ہے اور حکومت کا کردار سہولت کاری تک محدود رکھا گیا ہے۔وزیرمملکت نے بنیادی ڈھانچے کی بہتری کو بھی برآمدات کے فروغ کے لیے اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ کراچی سے روہڑی ریلوے سیکشن کے لیے فنانسنگ کا انتظام کرلیا گیا ہے اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے تعاون سے منصوبے کو عملی مرحلے تک پہنچانے کے لیے تکنیکی کام جاری ہے۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ آئندہ سال اس منصوبے پر عملی کام نظر آئے گا جبکہ بعد ازاں کراچی سے پشاور تک ایم ایل ون کی اپ گریڈیشن سے ریلوے لائن کی رفتار اور مال برداری کی گنجائش میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ حکومت نے ریٹیل سیکٹر کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے دکانداروں کی مشاورت سے آسان ٹیکس سکیم بھی متعارف کرائی ہے جس کے تحت سادہ اردو فارم کے ذریعے سالانہ ٹرن اوور ظاہر کیا جائے گا اور اس پر ایک فیصد فائنل ٹیکس عائد ہوگا جبکہ ودہولڈنگ ٹیکس کو ایڈجسٹ کرنے کی سہولت بھی حاصل ہوگی۔

 

مزید خبریں