پارلیمانی سیکرٹری وزارت ترقی منصوبہ بندی واصلاحات کنول شوذب کا سیمینارسے خطاب

اسلام آباد ۔ 8 اپریل (اے پی پی)حکومت خواتین کے آئینی حقوق یقینی بنانے اور ان کی معاشی و سماجی حالت بہتر بنانے کے لئے ٹھوس اقدامات کر رہی ہے ، جلد اس کے نتائج سامنے آئیں گے۔ ان خیالات کا اظہار پارلیمانی سیکرٹری وزارت ترقی منصوبہ بندی واصلاحات کنول شوذب نے اسلام آباد میں منعقدہ سیمینار میں کیا۔ اقوام متحدہ کے ادارے یو این پاپولیشن فنڈ کے سروے کے …

اسلام آباد ۔ 8 اپریل (اے پی پی)حکومت خواتین کے آئینی حقوق یقینی بنانے اور ان کی معاشی و سماجی حالت بہتر بنانے کے لئے ٹھوس اقدامات کر رہی ہے ، جلد اس کے نتائج سامنے آئیں گے۔ ان خیالات کا اظہار پارلیمانی سیکرٹری وزارت ترقی منصوبہ بندی واصلاحات کنول شوذب نے اسلام آباد میں منعقدہ سیمینار میں کیا۔ اقوام متحدہ کے ادارے یو این پاپولیشن فنڈ کے سروے کے مطابق صوبہ پنجاب میں 15 سے 64 سال تک کی ہر تین میں سے ایک خاتون کو کسی نہ کسی قسم کے تشدد کا سامنا ہے۔ یہ سروے برطانیہ کے ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی (ڈی ایف آئی ڈی) کے مالی تعاون سے کرایا گیا۔ یہ سروے اقوام متحدہ کے ادارے یواین پاپولیشن فنڈ نے ادارہ برائے شماریات اور پنجاب کمیشن آن دی سٹیٹس آف وومین کے تعاون سے کرایا۔ سروے کے لئے پنجاب بھر میں 36 اضلاع کے 32 ہزار گھرانوں کے انٹرویوز کرائے گئے۔ پارلیمانی سیکرٹری کنول شوذب نے اس موقع پر کہا کہ حکومت خواتین کے لئے قانون سازی پر بھرپور توجہ دے رہی ہے لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ فرسودہ رسم ورواج، ناکافی وسائل، عملدرآمد میں مسائل اور اعداو شمار کا میسر نہ ہونا، تعلیم، روزگار صحت کے شعبوں میں رائج صنفی امتیاز ان اقدامات کو غیر موثر کرتا ہے۔ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے پنجاب کے ادارہ برائے ترقی نسواں آشفہ ریاض کا کہنا تھا کہ ہم نہ صرف صنفی بنیادوں پر تشدد اور ہراسگی کے خوف اور واقعات میں کمی کے لئے کوششیں کر رہے ہیں بلکہ تشدد کا شکار خواتین کو موثر مدد فراہم کرنے کے لئے پرعزم ہیں خواتین کو انصاف اور برابری ان کے حق کے طور پر حاصل ہونی چاہیے۔ برطانوی ادارے ڈی ایف آئی ڈی پاکستان کی سربراہ جوانا ریڈ نے کہا کہ ترقی یافتہ پاکستان کے لئے خواتین کی ترقی کے عمل میں شرکت اور انہیں بااختیار بنانا نہایت ضروری ہے ہمیں امید ہے کہ سروے کے اعدادوشمار سے حکومت، معاشرے، خاندانوں اور بذات خود خواتین کو ایک ایسا پاکستان تشکیل دینے میں مدد ملے گی جہاں خواتین کو برابر کے حقوق حاصل ہونگے۔ شمولیتی پالیسی اور خواتین کے حقوق کو حاصل کرنے میں درپیش مسائل سیمینار کے اہم موضوعات تھے جبکہ سروے کے نتائج کے تحت خواتین کی سماجی ومعاشی حیثیت سے متعلق اہم مسائل بھی سیمینارمیں زیر غور آئے۔

Leave a Reply