،وزیر خزانہ اسد عمر کی چینی سفیر یائو جنگ سے گفتگو

اسلام آباد ۔ 16 اپریل (اے پی پی) وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا ہے کہ چین پاکستان کا قابل اعتماد دوست ہے اور پاکستان کی سماجی و اقتصادی ترقی میں چین کی حکومت کا تعاون اہمیت کا حامل ہے۔ یہ بات انہوں نے منگل کو یہاں پاکستان میں عوامی جمہوریہ چین کے سفیر یائو جنگ سے کے ساتھ ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ ملاقات میں دوطرفہ اہمیت کے …

اسلام آباد ۔ 16 اپریل (اے پی پی) وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا ہے کہ چین پاکستان کا قابل اعتماد دوست ہے اور پاکستان کی سماجی و اقتصادی ترقی میں چین کی حکومت کا تعاون اہمیت کا حامل ہے۔ یہ بات انہوں نے منگل کو یہاں پاکستان میں عوامی جمہوریہ چین کے سفیر یائو جنگ سے کے ساتھ ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ ملاقات میں دوطرفہ اہمیت کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں رہنمائوں نے پہلے سے جاری دوطرفہ تعاون میں مزید اضافے کے لئے اقدامات سے اتفاق کیا۔ چینی سفیر کا خیر مقدم کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ چین پاکستان کا قابل اعتماد اور آزمودہ دوست ملک ہے، پاکستان کی سماجی اور اقتصادی ترقی میں چینی حکومت کی جانب سے تعاون ضروری اور اہمیت کا حامل ہے۔ وزیر خزانہ نے چین کے سفیر کو پاکستان میں سرمایہ کاری کے لئے سازگار ماحول فراہم کرنے کے حوالے سے کئے جانے والے اقدامات سے آگاہ کیا اور کہا کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع سے چینی سرمایہ کار اور تاجر بھی استفادہ کر سکتے ہیں۔ چینی تاجر اور سرمایہ کار بالخصوص زراعت، ہائوسنگ، صحت، تعلیم اور توانائی کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع سے استفادہ کر سکتے ہیں۔ ملاقات میں چین پاکستان اقتصادی راہداری کے تحت مختلف جاری منصوبوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔ چینی سفیر نے ان منصوبوں کی بروقت تکمیل کے حوالے سے چین کی حکومت کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ اقتصادی راہداری کے منصوبوں سے دونوں ممالک میں سماجی اور اقتصادی خوشحالی آئے گی۔ پاکستان کے وزیراعظم کے وژن کی تعریف کرتے ہوئے چینی سفیر نے کہا کہ پاکستان کی حکومت کی اقتصادی پالیسیوں کی وجہ سے چینی سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے۔ ملاقات میں وزیراعظم عمران خان کے آئندہ دورہ چین سے متعلق امور کا بھی جائزہ لیا گیا اور اس بات سے اتفاق کیا گیا کہ وزیراعظم کے دورہ چین سے دونوں ممالک کے مابین تذویراتی، اقتصادی اور صنعتی تعلقات میں مزید اضافہ ہو گا۔

Leave a Reply