چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال کا فیروزپور سٹی ہائوسنگ سوسائٹی کے متاثرین میں73 کروڑ روپے کی رقم تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب

لاہور ۔ 17 اپریل (اے پی پی) قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا ہے کہ میگا کرپشن کے وائٹ کالر مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچانا اور ہائوسنگ سوسائٹیوں کے متاثرین کی رقوم کی واپسی نیب کی اولین ترجیح ہے، ہم نے ڈبل شاہ کو سنگل شاہ بنا دیا اور اب کسی کو مستقبل میں ڈبل شاہ نہیں بننے دیں گے۔ ان خیالات کا …

لاہور ۔ 17 اپریل (اے پی پی) قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا ہے کہ میگا کرپشن کے وائٹ کالر مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچانا اور ہائوسنگ سوسائٹیوں کے متاثرین کی رقوم کی واپسی نیب کی اولین ترجیح ہے، ہم نے ڈبل شاہ کو سنگل شاہ بنا دیا اور اب کسی کو مستقبل میں ڈبل شاہ نہیں بننے دیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے نیب لاہور میں فیروزپور سٹی ہائوسنگ سوسائٹی کے متاثرین میں تقریباً 73 کروڑ روپے کی رقم تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ بدعنوانی تمام برائیوں کی جڑ ہے جو ملک کی ترقی و خوشحالی کی راہ میںبڑی رکاوٹ ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب احتساب سب کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے بدعنوان عناصر کو پکڑنے کیلئے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب کی انسداد بدعنوانی کی مؤثر حکمت عملی اور شاندار کارکردگی کی بدولت پاکستان کے کرپشن پرسپشن انڈیکس میں مسلسل کمی آ رہی ہے۔ پلڈاٹ، مشعال، گیلانی اینڈ گیلپ سروے، ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل اور عالمی اقتصادی فورم جیسے معتبر عالمی اور قومی اداروں نے نیب کی کوششوں کی تعریف کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب نے گزشتہ ایک سال کے دوران مکمل پیشہ واریت، شفافیت، جذبہ، عزم اور میرٹ پرکام کیا ہے جس کیلئے نیب افسران نے اپنی بہترین صلاحیتوں کا استعمال کیا ہے جس کے باعث نیب ایک فعال اینٹی کرپشن کا ادارہ بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب کے مقدمات میں ٹرائل کورٹ میں مجموعی سزا کی شرح 70 فیصد سے زائد ہے، 2018ء کے دوران دیگر اینٹی کرپشن اداروں کے مقابلہ میں نیب کی کارکردگی شاندار رہی ہے۔ نیب نے اپنے قیام سے لے کر اب تک لوٹے گئے303 ارب روپے بدعنوان عناصر سے وصول کرکے قومی خزانہ میں جمع کرائے ہیں جو کہ ریکارڈ کامیابی ہے۔ نیب کے 900 ارب روپے مالیت کے 1210 بدعنوانی کے ریفرنس مختلف معزز احتساب عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیب سارک اینٹی کرپشن فورم کا پہلا چئیرمین ہے۔ نیب نے چین پاکستان اقتصادی راہداری کے تحت منصوبوں میں بدعنوانی کی روک تھام اور نگرانی میں تعاون کیلئے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیب نے راولپنڈی بیورو میں پہلی فرانزک سائنس لیبارٹری قائم کی ہے جس میں ڈیجیٹل فرانزک، سوالیہ دستاویزات اور فنگر پرنٹ کے تجزیہ کی سہولت موجود ہے۔ نیب نے مقدمات کو مؤثر انداز میں نمٹانے کیلئے شکایات کی جانچ پڑتال، انکوائری، انویسٹی گیشن اور احتساب عدالت میں ریفرنس دائر کرنے کیلئے 10 ماہ کا عرصہ مقرر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سینئر سپروائزری افسران کی اجتماعی دانش سے فائدہ اٹھانے کیلئے ڈائریکٹر، ایڈیشنل ڈائریکٹر، انویسٹی گیشن آفیسر اور لیگل کونسل پر مشتمل مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کا نظام وضع کیا گیا ہے، اس سے نہ صرف نیب کی کارکردگی میں بہتری آئی ہے بلکہ کوئی بھی فرد تحقیقات پر اثر انداز نہیں ہو سکتا، مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے نتائج حوصلہ افزاء ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیب نے بدعنوانی کے خاتمہ کیلئے فیس نہیں بلکہ کیس کو دیکھنے کی پالیسی اپنائی ہے، نیب کا کسی سیاسی جماعت، گروہ اور فرد سے تعلق نہیں، نیب ہر شخص کی عزت نفس کا احترام کرتا ہے۔ چیئرمین نیب نے سختی سے ہدایت کی ہے کہ نیب کی تحویل میں کسی کو ہتھکڑی نہیں لگائی جائے گی، نیب احتساب سب کیلئے کی پالیسی پر کاربند ہے اور زیرو ٹالرنس اور خود احتسابی ہماری اولین ترجیح ہے۔ چیئرمین نیب کے کہا کہ نجی ہائوسنگ سوسائٹیوں کے پرکشش اشتہارات کا ریگولیٹرز کو بخوبی جائزہ لینا چاہئے، بعض ہائوسنگ سوسائٹیوں کے پاس زمین تک نہیں ہوتی اور نہ ہی متعلقہ سوسائٹی نے این او سی یا پھر لے آئوٹ پلان منظور کرایا ہوتا ہے مگر وہ سادہ لوح عوام کو جعلی بروشرز اور فارمز کے ذریعے لوٹتے ہیں جس کا ریگولیٹرز کو نوٹس لینا چاہئے اور غیر قانونی ہائوسنگ سوسائٹیوں کے خلاف قانون کے مطابق بروقت کارروائی عمل میں لانا ان کے فرائض میں شامل ہے۔ انہوں نے عوام سے بھی کہا کہ وہ پورے اطمینان اور تسلی کے بعد صرف اور صرف قانون کے مطابق کام کرنے والی ہائوسنگ سوسائٹیوں میں اپنی سرمایہ کاری کریں۔ انہوں نے کہا کہ رزق حلال میں ہمیشہ برکت ہوتی ہے، چند دنوں میں کروڑ پتی بننے والوںکو سوچنا چاہئے کہ کفن کی کوئی جیب نہیں ہوتی اور جو لوگ بھی اس دنیا سے گئے ہیں وہ خالی ہاتھ ہی گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جنہوں نے عوام کی عمر بھر کی جمع پونجی لوٹ کر ان کو نہ پلاٹ دیئے ہیں اور نہ ہی رقوم واپس کی ہیں، اب نیب ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر قانون کے مطابق کارروائی کر رہا ہے۔ نیب قانون، میرٹ، شفافیت اور ٹھوس شواہد کی بنیاد پر بلاامتیاز احتساب پر یقین رکھتا ہے اور ملک سے بدعنوانی کے خاتمہ کیلئے کسی دبائو یا سفارش کو خاطر میں نہیں لایا جائے گا۔ قبل ازیںڈی جی نیب لاہور شہزاد سلیم نے اپنے خطاب میں کہا کہ نیب لاہور جسٹس جاوید اقبال چیئرمین نیب کی قیادت میں عوام کی نجی ہائوسنگ سوسائٹیوں کے ہاتھوں لوٹی گئی رقم واپس متاثرین کو دلانے کیلئے دن رات کوشاں ہے۔ نیب لاہور نے اپنے قیام سے2017 ء تک تقریباً 10 ارب روپے متاثرین میں تقسیم کئے جبکہ2018 ء سے تاحال موجودہ چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال کی قیادت میں 6 ارب 62 کروڑ روپے برآمد کرکے متاثرین میں تقسیم کئے جا چکے ہیں جبکہ بلاواسطہ ریکوری اس کے علاوہ ہے جس کی مالیت تقریباً 5 ارب 33 کروڑ روپے ہے، وہ بھی متاثرین میں تقسیم کئے جا چکے ہیں۔ نیب نے ان تمام کیسز میں215 ملزمان کو گرفتار کیا۔ نیب لاہور نے چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال کے وژن کے مطابق نیب لاہورمیں ایک پریوینشن کمیٹی کا قیام عمل میں لایا جا چکا ہے جس میں ایل ڈی اے، ٹائون مینجمنٹ اتھارٹیز، سوسائٹیز ممبران اور نیب افسران مل کر غیر قانونی ہائوسنگ سوسائٹیوں کے خلاف بھرپور اقدامات کر رہے ہیں۔ چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال نے ڈی جی نیب لاہور شہزاد سلیم کی سربراہی میں نیب لاہور کی کارکردگی کو سراہا اور امید ظاہر کی کہ نیب لاہور مستقبل میں بھی بدعنوان عناصر سے عوام کی لوٹی گئی رقوم برآمد کر کے متعلقہ متاثرین میں بروقت تقسیم کرے گا۔

Leave a Reply