مولانامسعوداظہرکے لئے بھارت نے جوجال بنایا تھا خوداس میں پھنس گیا، شاہ محمودقریشی

ملتان ۔04مئی(اے پی پی)وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ بھارت پاک چین دوستی پر پروپیگینڈا کرتا رہتا ہے۔ چین پاکستان کا دیرینہ دوست ہے اور چین پاکستان کی معاشی ترقی میں ہمارا بھرپور ساتھ دے رہا ہے۔مولانا مسعود اظہرکے لیے بھارت نے جوجال بنا یا اس میں آج خود پھنس گیا ہے۔اس کو لینے کے دینے پڑ گئے۔پلوامہ حملے پربی جے پی حکومت کوئی ثبوت پیش …

ملتان ۔04مئی(اے پی پی)وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ بھارت پاک چین دوستی پر پروپیگینڈا کرتا رہتا ہے۔ چین پاکستان کا دیرینہ دوست ہے اور چین پاکستان کی معاشی ترقی میں ہمارا بھرپور ساتھ دے رہا ہے۔مولانا مسعود اظہرکے لیے بھارت نے جوجال بنا یا اس میں آج خود پھنس گیا ہے۔اس کو لینے کے دینے پڑ گئے۔پلوامہ حملے پربی جے پی حکومت کوئی ثبوت پیش نہ کرسکی اور عالمی دنیا کے سامنے بھارت کی مکاری عیاں ہوگئی۔بھارت اور اس کی ایجنسیوں کے پروپیگنڈے پرتوجہ نہ دی جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز ملتان میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔وزیر خارجہ نے کہا کہ افغانستان میں استحکام سے پاکستان کو بھی فائدہ ہو گا۔اگر افغانستان میں امن ہوگا تو پاکستان میں بھی امن ہوگا۔ کافی عرصے سے افغانستان جنگ زدہ ہے۔ امن آنے میں وقت لگے گا۔ انہوں نے کہا پشتون محب وطن ہیں اور انہوں نے ہمیشہ پاکستان کا ساتھ دیا۔ 70 سال کی جنگ میں قبائلیوں کومشکلات کا سامنا رہا۔ کچھ شخصیات کیخلاف اداروں کے پاس ٹھوس شواہد موجود ہیں۔ کچھ لوگوں نے ”را” اور این ڈی اے سے پیسے لیے۔ سندھ حکومت پنجاب اور کے پی کے کی طرح جنگ سے متاثرہ علاقے کے لوگوں کیلئے تین فیصد فنڈ دے۔ انہوں نے کہا پنجاب میں معاملات درست طریقے سے چل رہے ہیں۔ گندم کی خریداری کا عمل شفاف طریقے سے جاری ہے اور باردانہ شفاف طریقے سے تقسیم کیا جا رہا ہے ۔ وزیر اعلیٰ عثمان بزداری نے اسلام آباد میں پنجاب کے اراکین اسمبلی سے ملاقات کی۔ ملاقات میں پنجاب حکومت کی کارکردگی اور نئے بلدیاتی نظام بارے تفصیلی گفتگو ہوئی۔ وزیراعلیٰ عثمان بزدار 8مئی کو اسلام آباد میں اراکین اسمبلی سے ملیں گے اور نئے بلدیاتی نظام پر گفتگو کی جائے گی۔ وزیراعلیٰ کو تجویز دی ہے کہ ہر ماہ پنجاب کے اراکین اسمبلی سے ملا کریں۔ انہوں نے کہا پنجاب کے نئے بلدیاتی قانون پراتحادیوں میں کوئی اختلافات نہیں۔حکومت اور اس کے اتحادی نئے بلدیاتی نظام میں ایک پیج پر ہیں۔ مسلم لیگ ق نے بلدیاتی قانون کے حق میں ووٹ دیا۔چودھری پرویز الٰہی کا بلدیاتی نظام پر بیان آچکا ہے۔ انہوں نے کہا ملکی معیشت کے بگاڑ کے ذمہ دار ہم نہیں بلکہ سابقہ حکومتیں ہیں۔ ملکی خسارہ بڑھتا ہے تو روپے کی قدر کم ہوتی ہے۔انہوں نے کہا ڈالرکی قدر کم ہونے سے مہنگائی بھی کم ہوجائے گی۔انہوں نے کہا کابینہ اجلاس میں پیٹرولیم مصنوعات زیر بحث آئیں ۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھنے سے پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔ انہوں نے کہا غربت کے خاتمے کیلئے عوام دوست پالیسیاں لا رہے ہیں۔ انصاف صحت کارڈ، نیا پاکستان ہائوسنگ سکیم اور غریبوں کیلئے احساس کے نام سے پروگرام لا رہے ہیں۔انہوں نے کہا ہماری حکومت کو 5پانچ سال کیلئے مینڈیٹ ملا ۔ عوامی مینڈیٹ کا احترام کرنا چاہئے ۔5سال بعد عوام جو فیصلہ کریں گے ہمیں قبول ہوگا۔ وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ گورنراسٹیٹ بینک اور چیئرمین ایف بی آر کو آئی ایم ایف کی شرائط پر نہیں ہٹایا گیا بلکہ دونوں کو ان کی کارکردگی کی بنیاد پر ہٹایا گیا۔ وزیراعظم نے کہا تھا کہ جو اچھی کارکردگی دکھائے گا وہی کام کرے گا۔وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا شاہد خاقان عباسی کو اپوزیشن لیڈربنانے کے بارے میں سوچا جا رہا ہے۔ اور نئی تقرریوں پر پارٹی کا بہت بڑا حصہ معترض ہے۔ ن لیگی قیادت میں حالیہ تبدیلیاں اس بات کی غماز ہیں کہ پارٹی انتشار کا شکار ہے۔ میں نے کچھ عرصہ قبل پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ ن لیگ انتشار کا شکار ہے۔ ن لیگ کی قیادت بتائے راتوں رات تبدیلی کیوں لائی گئی؟ مسلم لیگ (ن) کے لوگ بھی تبدیلی سے لاعلم تھے۔حکومت کی طرف سے شہبازشریف کو واپس لانے کے بارے میں سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ابھی بہت کنفیوژن ہے چند دنوں میں صورتحال مزید واضح ہو جائے گی اس کے بعد دیکھیں گے۔کہا جارہا ہے شہباز شریف کی طبعیت واپس آنے کی اجازت نہیں دے رہی اور شہباز شریف بظاہر کہہ رہے ہیں واپس آ جائینگے۔ اگرشہبازشریف کو لیڈرآف دی اپوزیشن کام کرنے کی اجازت دیتی ہے تو پبلک اکاؤنٹ کمیٹی کیوں نہیں؟اگر ن لیگ نے شہبازشریف کو چیئرمین پبلک اکاؤنٹ کمیٹی سے ہٹانا تھا تو پہلے ہی وزیراعظم عمران خان کی بات مان لیتے۔ اتنے اصرار اور ضد پر شہباز شریف پی اے سی کے چیئرمین بنے تھے۔مسلم لیگ (ن) کے لوگوں نے کہا گینگ آف فور تمام فیصلے کر رہا ہے۔ پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما خورشید شاہ بھی کہہ رہے ہیں رانا تنویر حسین کی نامزدگی پر مشاورت نہیں کی گئی۔رانا تنویر کی نامزدگی پر پیپلز پارٹی اور اپوزیشن کی دیگر جماعتوں سے مشاورت نہیں کی گئی ۔ ن لیگ کو رانا تنویر کی نامزدگی پر اپوزیشن کی دیگر جماعتوں اور قوم کو اعتماد میں لینا چاہئے تھا۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جس تبدیلی کاطنزکررہی ہے اس کے وجوہات تو دیکھے، بلاول بھٹوزرداری کو طنز کے بجائے وجوہات دیکھنی چاہئیں۔

Leave a Reply