معاون خصوصی اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کی وفاقی وزیر عمر ایوب کے ہمراہ وفاقی کابینہ اجلاس بارے بریفنگ

اسلام آباد ۔ 7 مئی (اے پی پی)وفاقی کابینہ نے پاکستان کے سعودی عرب میں افرادی قوت کا جائزہ لینے اور آزربائیجان کے ساتھ زراعت کے شعبے میں تعاون کے لئے معاہدے،وزیراعظم کفایت شعاری اورسادگی مہم کے تحت تمام وزارتوں اور ڈویژنوں کے لئے مختص انٹرینمنٹ اینڈ گفٹ بجٹ کے خاتمے ،اقبال اکیڈمی کے لئے بورڈ آف گورنرز ،کراچی ٹیکسیشن اینڈ اینٹی سمگلنگ جج کی تقرری اوروزیراعظم عمران خان کے …

اسلام آباد ۔ 7 مئی (اے پی پی)وفاقی کابینہ نے پاکستان کے سعودی عرب میں افرادی قوت کا جائزہ لینے اور آزربائیجان کے ساتھ زراعت کے شعبے میں تعاون کے لئے معاہدے،وزیراعظم کفایت شعاری اورسادگی مہم کے تحت تمام وزارتوں اور ڈویژنوں کے لئے مختص انٹرینمنٹ اینڈ گفٹ بجٹ کے خاتمے ،اقبال اکیڈمی کے لئے بورڈ آف گورنرز ،کراچی ٹیکسیشن اینڈ اینٹی سمگلنگ جج کی تقرری اوروزیراعظم عمران خان کے وعدے کے مطابق پاک چائنہ یونیورسٹی آف انجنیئرنگ کے قیام کی اصولی منظوری دی گئی ہے، اس یونیورسٹی کے لئے چین 400ارب کے فنڈز فراہم کریگا، تمام وزارتوں اور ڈویژنوں کو ہدایات دیں ہیں کہ آئندہ کسی افسر کو اضافی چارج دینے کی سمری نہ بھجوائیں ، تین ماہ کے اندر اندر تمام وزارتوں اور ڈویژنوں میں مستقل افسران کی تعینات یقینی بنائی جائے ،وزیراعظم عمران خان نے وزراءاعلی، چیف سیکرٹرز اور صنعت و پیدوار کے وزراءکو واضح ہدایات دیں ہیں کہ رمضان المبارک کے دوران ذخیرہ اندوزی ،مصنوعی بحران پیدا کرنے والے مافیا اور افسران میں شامل کالی بھیڑوں کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے ، وزیراعظم عمران خان کی ہدایات پر ملک بھر میں ماسوائے 60فیڈرز کے 8783فیڈرز پر لوڈشیڈنگ نہیں ہورہی ،سحری اور افطاری کے پانچ پانچ گھنٹے 100فیصد بجلی فراہم کی جارہی ہے ،ڈیڑھ سال تک بجلی کی قیمتوں میں بتدریج اضافہ کیا جائے گا ،31دسمبر 2020 تک گردشی قرضے صفر ہوجائیں گے ۔منگل کو وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد وزیراعظم کی معاون خصوصی اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان ، وفاقی وزیر بجلی و پٹرولیم ڈویژن عمر ایوب کے ہمراہ پی آئی ڈی میں بریفنگ دے ر ہی تھیں ۔ وزیراعظم کی معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے بتایا کہ کابینہ ا جلاس میں معاون خصوصی برائے نیشنل ہیلتھ سروسز ڈاکٹر ظفر مرزا نے بتایا کہ دوائیوں کی قیمتوں میں کمی لانے کے سلسلے میں کی جانے والی کوششوں کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔ فارما سوٹیکل کمپنیوں اور متعلقہ اداروں سے بات چیت کے نتیجہ میں دوائیوں کی قیمتوں میں کمی آئی ہے اور 7.15 ارب روپے کی مجموعی بچت ہوئی ہے۔ معاون خصوصی ندیم بابر نے کابینہ کو توانائی کے شعبہ میں کی جانے والی اصلاحات پر بریف کیا۔وزیراعظم نے کابینہ کو بتایا کہ پنجاب اور خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ اور چیف سیکرٹریز کو ہدایت کر دی گئی ہے کہ ذخیرہ اندوزی اور منافع خوری کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر سخت نظر رکھی جا رہی ہے تاکہ عام آدمی کو رمضان پیکج کے تحت دیئے گئے ریلیف کا فائدہ ہو سکے۔ کابینہ میں چینی اور گندم کی صورتحال پر بھی سیر حاصل گفتگو ہوئی۔ مشیر تجارت نے بتایا کہ چینی کی طلب و رسد اطمینان بخش ہے اور مارکیٹ میں وافر مقدار میں چینی موجود ہے۔ وزیر تعلیم کی جانب سے وفاق المدارس سے جاری مذاکرات پر کابینہ کو بریفنگ دیتے ہوئے بتا یا کہ وزارت تعلیم تمام مدارس کو رجسٹر کرے گی،لازمی مضامین درس نظامی میں شامل ہوں گے،مدارس حکومت سے منسلک ہو رہے ہیں ،وزارت تعلیم مدارس میں تکنیکی تعلیم اور مالی وسائل کی فراہمی میں معاونت فراہم کرے گی۔ معاشرے کے بچے ہماری (حکومت) کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ افسوس کہ حکومت اس ذمہ داری سے دستبردار ہو گئی۔ نظام تعلیم نے طبقاتی تفریق پیدا کی۔ پہلی دفعہ ہم یہ کوشش کر رہے ہیں کہ یکساں نظام تعلیم ہوتا کہ اس تفریق کو ختم کیا جا سکے۔ کابینہ نے ای سی سی کے اجلاس منعقدہ مورخہ 3 مئی 2019ءمیں لئے گئے فیصلوں کی توثیق کر دی۔کابینہ نے فیصلہ کیا کہ 449 ملین ڈالر پر سیلولر لائسنس کی تجدید کی جائے گی۔ اجلاس میں پاک چائنہ یونیورسٹی آف انجینئرنگ کے قیام کی اصولی منظوری دی۔ یونیورسٹی 125 ایکڑ پر محیط ہو گی۔کابینہ نے فیصلہ کیا کہ تمام خالی آسامیوں کو آئندہ تین ماہ کی مدت میں پر کیا جائے۔ کابینہ نے ایس ای سی پی کی سالانہ رپورٹ کو پارلیمنٹ کے سامنے پیش کرنے کی منظوری دی۔ کابینہ نے فیصلہ کیا کہ پاکستان سٹیل ملز کو دوبارہ فعال بنانے کے لئے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت چلایا جائے گا۔ اس سلسلے میں مشیر تجارت تمام کمپنیوں سے رابطے میں ہیں جو اس میں دلچسپی لے رہی ہیں چونکہ یہ کام پرائیویٹائزیشن کمیشن کے دائرہ کار میں آتا ہے اس لئے سٹیل مل کو فعال بنانے کا کام پرائیویٹائزیشن کے سپرد کر دیا ہے۔وزیراعظم کی معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ آج ایک سزا یافتہ مجرم سج دھج کے جیل واپس جارہا ہے،کسی بھی مجرم کو شاہانہ انداز سے پیش کرنا جرم کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجرم کی اس طرح جیل منتقلی اور تشہیر لمحہ فکریہ ہے۔انہوں نے کہا کہ جیل مینوئل کے مطابق قیدی کا ضابطہ اخلاق طے شدہ ہے،انوکھا لاڈلا قیدی تمام قوانین کی دھجیاں بکھیرکر واپس جارہا ہے،یہ چاہتے ہیں کہ قیدی کو قیدی نہیں بلکہ امام مسجد کہیں۔وفاقی وزیر بجلی و پیٹرولیم ڈویژن عمر ایوب نے بتایا کہ جب پی ٹی آئی کی حکومت بنی تو اسوقت گردشی قرضے 1806روپے تک پہنچ چکی ہے ،مسلم لیگ ن حکومت جارہی تھی اسی لئے ہر شعبے میں اربوں روپے قرض چڑھا گئی ،صرف بجلی کے شعبے میں 450ارب کے گردشی قرضے تھے ۔وفاقی وزیر بجلی و پیٹرولیم ڈویژن عمر ایوب نے بتایا کہ مالی سال 2017-18ءمیں محض ایک سال میں گردشی قرضوں میں 450 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔ اکتوبر2018ءمیں موجودہ حکومت کی جانب سے چوری کی روک تھام اور واجبات کی وصولیوں کے سلسلہ میں باقاعدہ مہم شروع کی گئی جس کے مثبت نتائج برآمد ہونا شروع ہوگئے ہیں۔ پانچ ماہ کے دوران بجلی چوری کی روک تھام اور واجب الادا رقوم کی وصولیوں کی مد میں61 ارب کی اضافی رقم وصول کی گئی ہے جو کہ رواں سال کے اختتام تک 80 ارب تک پہنچ جائے گی، اضافی وصولیاں آئندہ سال110 ارب تک پہنچ جائیں گی جبکہ جون 2020ءتک 190 ارب روپے اکٹھے کئے جانے کی توقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ توانائی کے شعبہ میں چوری، تکنیکی وجوہات اور ترسیل و تقسیم کے ضمن میں ہونے والے نقصانات پر قابو پانے کی طرف خصوصی توجہ دی جا رہی ہے جس کے مثبت نتائج برآمد ہونا شروع ہو گئے ہیں، اب تک 27 ہزار سے زائد ایف آئی آر درج کرائی جا چکی ہیں اور 4225 گرفتاریاں عمل میں آئی ہیں، گرفتار شدگان میں 433 اہلکار ہیں جبکہ 1467 مزید اہلکاروں کو چارج شیٹ کیا گیا ہے۔ ترسیلی نظام کی 15 بڑی خامیوں کو دور کیا جا چکا ہے جس سے نظام کی صلاحیت میں 3000 میگاواٹ کا اضافہ ہوا ہے۔ ترسیل و تقسیم کے نظام میں بہتری کی وجہ سے ماہ رمضان میں ملک بھر میں 80 فیصد فیڈرز پر کسی قسم کی کوئی لوڈ شیڈنگ نہیں کی جائے گی، بقیہ 20 فیصد فیڈرز پر کہ جہاں بعض مقامات پر بجلی چوری کی شرح 80 فیصد سے بھی زائد ہے وہاں نقصانات کے تناسب سے لوڈ مینجمنٹ کا پلان ترتیب دیا گیا ہے تاہم اس بات کو یقینی بنایا جا رہا ہے کہ سحر و افطار میں ملک بھر میں بلاتعطل بجلی فراہم کی جائے۔انہوں نے کہا کہ سابق حکمرانوں کی جانب سے ماضی میں مختلف شعبوں کےلئے سبسڈی کا تو اعلان کیا جاتا رہا لیکن بجٹ میں مطلوبہ رقوم مختص نہیں کی گئیں جس سے شعبہ مالی مشکلات کا شکار ہوتا گیا۔انہوں نے کہا کہ ملک میں توانائی کی ضروریات کو پوراکرنے کےلئے ملکی تاریخ میں پہلی دفعہ آئندہ 25 سال کےلئے طلب و رسد کا پلان مرتب کیا گیا ہے۔ سستی بجلی کی پیداوار کے حوالہ سے بتایا گیا کہ قابل تجدید ذرائع سے بجلی کی پیداوار کی نئی پالیسی تشکیل دی جا چکی ہے۔ اس پالیسی کا مقصد 2025ءتک کل پیداوار کا 20 فیصد قابل تجدید ذرائع سے بجلی حاصل کرنا جبکہ 2030ءتک یہ شرح 30 فیصد تک لے جانا ہے۔

Leave a Reply