میگا کرپشن کے مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچانا نیب کی اولین ترجیح ہے،چیئرمین نیب

اسلام آباد ۔ 7 مئی (اے پی پی) قومی احتساب بیورو کے چیئرمین جسٹس جاوید اقبال نے کہا ہے کہ میگا کرپشن کے مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچانا نیب کی اولین ترجیح ہے، ملک میں بدعنوانی دیمک سے بڑھ کر ناسور کی صورت اختیار کر چکی ہے جس کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب ملک سے بدعنوانی کے خاتمہ کیلئے …

اسلام آباد ۔ 7 مئی (اے پی پی) قومی احتساب بیورو کے چیئرمین جسٹس جاوید اقبال نے کہا ہے کہ میگا کرپشن کے مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچانا نیب کی اولین ترجیح ہے، ملک میں بدعنوانی دیمک سے بڑھ کر ناسور کی صورت اختیار کر چکی ہے جس کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب ملک سے بدعنوانی کے خاتمہ کیلئے بھرپور اقدامات کر رہا ہے، منی لانڈرنگ کی روک تھام کیلئے اقدامات کئے جا رہے ہیں، بدعنوانی سے لوٹی گئی اور منی لانڈرنگ سے بیرون ملک بھیجی گئی رقوم کو پاکستان واپس لایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ نیب کا کسی گروہ، سیاست اور سیاسی جماعت سے تعلق نہیں، ہمارا تعلق صرف پا کستان سے ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب نے گزشتہ 18 ماہ کے دوران 610 افراد کو گرفتار کرنے کے علاوہ 600 افراد کے خلاف بدعنوانی کے ریفرنس معزز عدالتوں میں دائر کئے جو کہ پہلے کسیگزشتہ 18 ماہ کے دوران نیب نے اتنے بدعنوانی کے ریفرنس منطقی انجام تک نہیں پہنچائے اور متعلقہ معزز احتساب عدالتوں میںگزشتہ 18 ماہ کے دوران اتنے بدعنوانی کے ریفرنس دائر نہیں کئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے نیب کو مزید مو¿ثر بنانے کےلئے انسداد بدعنوانی کی فعال حکمت عملی مرتب کی ہے جس کے شاندار نتائج سامنے آئے ہیں، نیب کو ملک سے بدعنوانی کے خاتمہ کے لئے دوبارہ فعال بنا دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب افسران کی انتھک محنت قابل تعریف ہے۔ قوم پیشہ واریت، شفافیت اور قانون کے مطابق اپنے فرائض ادا کرنے والے نیب افسران پر فخر کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب نے گزشتہ 18 ماہ کے دوران بدعنوان عناصر سے لوٹے گئے 4300 ملین روپے وصول کرلئے ہیں۔ نیب نے اپنے قیام سے لے کر اب تک 303 ارب روپے وصول کر کے قومی خزانے میں جمع کرائے ہیں جو کہ پاکستان کے انسداد بدعنوانی کے ادارے کی ریکارڈ کامیابی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب میگا کرپشن وائٹ کالر کرائم کو منطقی انجام تک پہنچانے کو ترجیح دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب نے مقدمات کو تیزی سے نمٹانے کے لئے شکایت کی جانچ پڑتال، انکوائری، انوسٹی گیشن، متعلقہ احتساب عدالتوں میں بدعنوانی کے ریفرنس دائر کرنے کے لئے زیادہ سے زیادہ 10 ماہ کا وقت مقرر کیا ہے۔ نیب نے سینئر سپروائزری افسران کی اجتماعی دانش سے فائدہ اٹھانے کے لئے ڈائریکٹر، ایڈیشنل ڈائریکٹر، انوسٹی گیشن آفیسر اور سینئر لیگل کونسل پر مشتمل مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کا نظام وضع کیا ہے۔ اس سے نہ صرف نیب کی کارکردگی میں بہتری آئی ہے بلکہ کوئی بھی فرد نیب کی تحقیقات پر اثر انداز نہیں ہو سکتا۔ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے نتائج بہت حوصلہ افزاءہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیب کے 1230بدعنوانی کے ریفرنس اس وقت مختلف معزز احتساب عدالتوں میں تقریباً مالیت 901 ارب روپے کے بدعنوانی کے ریفرنس زیر سماعت ہیں۔ نیب نے گزشتہ گزشتہ 18 ماہ کے دوران بلا امتےاز کاروائیاں کرتے ہوئے 1713 شکاےا ت کی جانچ پڑتال ، 877 انکوائرےاں اور 227 انوسٹی گیشنز کی منظوری دی۔ اس کے علاوہ نیب نے وائٹ کالر مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچانے کےلئے 10 ما ہ کا وقت مقرر کےا ہے جو کہ کسی بھی دوسرے اینٹی کرپشن کے ادارے نے مختص نہیںکےا کےونکہ وائٹ کالر مقدمات کی تحقیقات سالہاسال تک چلتی رہتی ہیں مگر نیب نے وائٹ کالر کے میگا کرپشن کے مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے سائنسی بنےادوں پر نہ صرف تحقیقات کےلئے 10 ما ہ کا وقت مقرر کےا ہے بلکہ اسلام آباد میں اسٹیٹ آف دی آرٹ فرانزک لیبارٹری قائم کی ہے جس سے دستاویزات کی تصدیق ، موبائل ڈیٹا، فنگر پرنٹس کی شناخت کی وجہ سے میگا کرپشن کے مقدمات میں ٹھوس شواہد کے حصول میںمدد ملتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب ملک سے بدعنوانی کے خاتمہ کےلئے ”احتساب سب کےلئے“ کی پالیسی پر سختی سے عمل پیرا ہے۔ نیب بدعنوانی کے خاتمہ کو نہ صرف اپنی قومی زمہ داری سمجھتا ہے بلکہ کرپشن فری پاکستان کےلئے بھرپور کاوشےں کر رہا ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ بدعنوان عناصر کے خلاف شکایات کی جانچ پڑتال ، انکوائرےوں اور انویسٹی گیشنز کو قانون، میرٹ، شفافیت اور ٹھوس شوائد کی بنیا د پر مقررہ وقت کے اندر منطقی انجام تک پہنچایا جائے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ اشتہاری اور مفرور ملزمان کی گرفتاری کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل، ورلڈ اکنامک فورم، پلڈاٹ، مشال پاکستان نے نیب کی کاوشوں کی بدولت پاکستان میں بدعنوانی کی شرح میںمسلسل کمی کو سراہا ہے جبکہ گیلانی اینڈ گیلپ کے حالیہ سروے کے مطابق59 فیصد لو گ نیب پر اعتماد کرتے ہیں جو کہ قومی احتساب بیورو کی چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال کی قےادت میں نیب کی پاکستان سے بدعنوانی کے خاتمہ کا عملی ثبوت ہے۔

مزید خبریں

Leave a Reply