اسلام آباد ۔ 9 مئی (اے پی پی) وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ اپوزیشن لیڈر اگر پارلیمان سے لاپتہ ہیں تو اس پر ہمارے تحفظات ہیں، اپوزیشن لیڈر شہباز شریف لاپتہ ہیں اس لیے اپوزیشن جماعتیں اس وقت ان گائیڈڈ میزائل ہیں جو ایک دوسرے پر چل رہے ہیں، حکومت کو یوٹرن کا طعنہ دینے والوں نے پبلک اکاﺅنٹ …
وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کی نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 9 مئی (اے پی پی) وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ اپوزیشن لیڈر اگر پارلیمان سے لاپتہ ہیں تو اس پر ہمارے تحفظات ہیں، اپوزیشن لیڈر شہباز شریف لاپتہ ہیں اس لیے اپوزیشن جماعتیں اس وقت ان گائیڈڈ میزائل ہیں جو ایک دوسرے پر چل رہے ہیں، حکومت کو یوٹرن کا طعنہ دینے والوں نے پبلک اکاﺅنٹ کمیٹی کے چیرمین اور اپوزیشن لیڈر پر خود یوٹرن لے لیا جو میڈیا سمیت سب کے سامنے ہے، اپوزیشن ہماری کارکردگی پر بات کر نی چاہیئے ، ہماری گورننس پر بات کرکے اور جہاں جہاں ہماری کمزوریاں ہیں انہیں اجاگر کریں تاکہ نظام میں مزید بہتری لائی جا سکے لیکن انہیں ہماری کامیابیوں کو بھی برداشت کرنا چاہیئے کیونکہ ہم جب اپنی کامیابیوں کا تذکرہ کرنے لگتے ہیں تو یہ لوگ پارلیمان میں شور شرابہ شروع کر دیتے ہیں جہاں بحران پیدا ہوتا ہے، پاکستانی آئین و قانون اور سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق کوئی بھی سزا یافتہ شخص پارٹی یا حکومتی عہدہ نہیں رکھ سکتا، اسی وجہ سے ہم مریم نواز شریف کے پارٹی نائب صدر بننے پر اعتراض کر رہے ہیں اور انہیں اس عہدے کے اہل نہیں سمجھتے، عوامی فلاح و بہبود اور ملکی تعمیروترقی پاکستان تحریک انصاف کی ترجیحات میں شامل ہیں جس کے لیے کوشاں ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ (ن) لیگ کو بتانا چاہیئے کہ ان کی گزشتہ حکومت کے دور میں ان کی قیادت علاج کرانے باہر کیوں نہیں گئی کیونکہ یہ لوگ سیاسی مریض ہیں، حکومت اپنا کام بہترین طریقے سے جاری رکھے ہوئے ہے اور اپوزیشن کی جانب سے رکاوٹیں کھڑی کرنے کے باوجود عوامی فلاح و بہبود کے لیے پارلیمان میں قانون سازی بھی کر رہی ہے، حکومت پارلیمان میں سات بل پیش کرنے جا رہی ہے جبکہ بتیس بل پائپ لائن میں ہیں جو حکومتی کارکردگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت کے اندر حکومت اور اپوزیشن اسی گاڑی کے دو پہیے ہیں جس کا نام پارلیمان ہے اور اگر پارلیمنٹ فنگشنل ہو گی، کام کرے گی اور ڈلیور کرے گی تو اسے عوام کا اعتماد حاصل رہے گا، اپوزیشن ہو یا حکومت عوام دونوں کی کارکردگی کو دیکھ رہے ہیں، عوام یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ وہ پارلیمان جس میں عوامی مشکلات اور مسائل کے حل کے لیے قانون سازی ہونی چاہیئے جس سے عوام کو ریلیف ملتا نظر آنا چاہیئے لیکن اگر وہاں سیاسی اکھاڑا بنا ہوا ہو جس طرح آج کل اپوزیشن کر رہی ہے تو یہ کسی صورت بھی درست عمل نہیں کیونکہ اپوزیشن میں ہمیں عوام کی مشکلات اور مسائل کے حل کے لیے بات کرنی چاہیئے اور قانون سازی کے ذریعے ان عوامی مسائل اور مشکلات کو حل کرنا چاہیئے جس کے لیے حکومت کوشاں ہے لیکن بدقسمتی سے اس سلسلے میں حزب اختلاف کا رویہ غیرذمہ دارانہ اور غیر سنجیدہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمان سے باہر اپنے اپنے حلقوں میں ہمیں سیاسی اکھاڑا لگانا چاہیئے لیکن پارلیمان کے اندر ہمیں ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیئے، حکومت کا اپنا ایک کردار ہے جبکہ اپوزیشن کا ایک اپنا کردار ہے، اپوزیشن کو حکومت پر تنقید ضرور کرنی چاہیئے لیکن اپوزیشن کی یہ تنقید مثبت اور تعمیری ہونی چاہیئے اور بہتری کی طرف جانے کے لیے اپوزیشن کو ایسی مثبت تجاویز بھی ضرور دینی چاہیئں جن سے ملک و قوم کا فائدہ ہو، تنقید برائے تنقید کا کوئی فائدہ نہیں بلکہ اس سے ملک و قوم کا نقصان ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمان کے فنکشنل اور پرامن ہونے کے لیے اپوزیشن اور حکومت کو اپنا اپنا کردار طے کرنا ہو گا اور اپوزیشن کو روایتی کردار ادا کرنے سے باز رہنا ہو گا کیونکہ پارلیمان کے اندر حکومت اور حزب اختلاف کا کردار ایک ساتھ مل کر ہی قانون سازی کے عمل کو بھی آگے بڑھائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف تو لاپتہ ہیں لیکن اپوزیشن انہیں تلاش کرنے کی بجائے پارلیمان کے اندر ایک دوسرے پر ان گائیڈڈ میزائل چلا رہی ہے حالانکہ انہیں چاہیئے کہ یہ اپنے اپوزیشن لیڈر کو تلاش کریں۔ معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان آج ان قبائلیوں کے ساتھ جا کر کھڑے ہو رہے ہیں جہاں آج تک ملک کی کوئی قیادت نہیں گئی کیونکہ ہم انہیں بھی قومی دھارے میں لانا چاہتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ آ ج ان کے حقوق کی بات کی جارہی ہے اور وہاں تعمیروترقی کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے جس سے ملکی ترقی میں بھی مدد ملے گی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کے آئین و قانون اور سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے کے مطابق کوئی بھی سزا یافتہ شخص پارٹی یا حکومتی عہدہ نہیں رکھ سکتا، اسی وجہ سے ہم مریم نواز شریف کے پارٹی نائب صدر بننے پر اعتراض کر رہے ہیں اور انہیں اس عہدے کے اہل نہیں سمجھتے۔ انہوں نے کہا کہ مریم نواز شریف ہمارے لیے کوئی خطرہ نہیں کیونکہ ہم سیاسی میدان کے کھلاڑی ہیں اور مقابلے کے لیے تیار ہیں، عوامی فلاح و بہبود اور ملکی تعمیروترقی پاکستان تحریک انصاف کی ترجیحات میں شامل ہیں جس کے لیے کوشاں ہیں۔








