اسلام آباد ۔ 10 مئی (اے پی پی)آزاد جموں و کشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ کئی عشروں سے مصائب و مشکلات کے اذیت ناک بھنور میں پھنسے کشمیریوں کو نجات دلانے کے لئے تنازعہ کشمیر کے حل کی طرف توجہ دے۔ ترکی کی اناطولیہ خبر رساںایجنسی کو انٹرویو دیتے ہوئے صدرآزاد کشمیر نے مسئلہ کشمیر کی تاریخ، بنیادی محرکات، بھارت …
صدرآزاد کشمیر سردار مسعود خان کا اناطولیہ خبر رساںایجنسی کو انٹرویو

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 10 مئی (اے پی پی)آزاد جموں و کشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ کئی عشروں سے مصائب و مشکلات کے اذیت ناک بھنور میں پھنسے کشمیریوں کو نجات دلانے کے لئے تنازعہ کشمیر کے حل کی طرف توجہ دے۔ ترکی کی اناطولیہ خبر رساںایجنسی کو انٹرویو دیتے ہوئے صدرآزاد کشمیر نے مسئلہ کشمیر کی تاریخ، بنیادی محرکات، بھارت کی داخلی سیاست، پاکستان اور بھارت کے درمیان ممکنہ ایٹمی جنگ، چین، ترکی اوردیگر بین الاقوامی طاقتوں کی ذمہ داری سمیت کئی اہم مسائل پر تفصیل سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ جنوبی ایشیاءمیں کشمیر ہی واحد ایسا تنازعہ ہے جس نے خطہ کے دو اہم ملکوں کو ایک دوسرے کے مقابل لا کھڑا کیا ہے اور دونوں ملکوں کے درمیان اس مسئلہ کے حل کے لئے عالمی برادری نے اپنا کردار ادا نہ کیا تو خطہ میں ہولناک ایٹمی جنگ کو خارج ازامکان نہیں قرار دیا جا سکتا۔ مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے صدر آزادکشمیر نے کہا کہ 14 فروری کے پلوامہ واقعہ کے بعد کئی سالوں سے جاری بھارتی جبر و استبداد کی کہانی نے نیا رخ اختیار کر لیا ہے۔ 26 اور 27 فروری کو بھارت اور پاکستان کے درمیان چھڑبوں کے بعد کارڈن اینڈ سرچ آپریشن (کاسو) کے نام پر مقبوضہ جموں وکشمیر میں ظلم و جبر کا ایک نیا سلسلہ شروع کر دیا ہے جس کے تحت حریت قیادت کو گرفتار کر کے جیلوں میں بند کر دیا گیا ہے۔ بھارت کی نیشنل انوسٹی گیشن ایجنسی (نیا) کشمیر کی سیاسی قیادت اور سیاسی کارکنوںکو ذہنی اور جسمانی اذیتیں دے رہی ہے اور پورے مقبوضہ کشمیر کو وہاں رہنے والوں کے لئے جہنم زار بنا دیا گیا ہے۔ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال نہایت سنگین ہے کیونکہ بھارتی سیاست دان کشمیر میں ظلم و ستم کو اپنی کارکردگی کے طور پر انتخابی سیاست کے لئے استعمال کر رہے ہیں۔ خاص طور پر بھارت کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی اور بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی بھارتی عوام کے ووٹ حاصل کرنے کے لئے کشمیر کے المیے کو اپنی حکومت کا کارنامہ بنا کر پیش کر رہے ہیں جو افسوسناک بھی ہے شرمناک بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پلوامہ واقعہ کے بعد بھارت کے انتہاءپسند ہندو بھارت کے طول و عرض میں ریاست پاکستان، کشمیریوں اور بھارتی مسلمانوں کے خلاف نفرت اور تعصب کی ایک نئی مہم پر نکل کھڑے ہوئے ہیں اور وزیر اعظم مودی نے تو یہاں تک کہہ دیا ہے کہ ان کی حکومت پاکستان کے خلاف ایٹمی ہتھیار استعمال کر کے اسے حاکم بدھن صفحہ ہستی سے مٹا دے گی۔ میں اسے بھارت کی جوہری دہشت گردی کا نام دیتا ہوں۔ صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ یہ درست ہے کہ اس سال فروری میں ہونے والے واقعات کے بعد عالمی برادری کی دلچسپی خطہ کی صورتحال کی طرف بڑھ گئی ہے لیکن اس کا افسوسناک پہلو یہ ہے عالمی برادری بھارت اور پاکستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور دونوں ملکوں کے درمیان ممکنہ بڑی جنگ کو روکنے میں تو دلچسپی رکھتی ہے لیکن وہ کشیدگی کے اصل سبب تنازعہ کشمیر کو فوری طور پر حل کرنے میں زیادہ دلچسپی کا اظہار نہیں کر رہی ہے۔ عالمی برادری کا یہ رویہ کشمیر کے انسانی المیہ سے آنکھیں چرانے کے مترادف ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں کہ کیا صرف بھارت کی حکمران جماعت بی جے پی کشمیر کو سیاسی اور انتخابی مقاصد کے لئے استعمال کر رہی ہے تو صدر نے کہا کہ بد قسمتی سے تھوڑے بہت فرق کے ساتھ اپوزیشن جماعت کانگریس سمیت تمام جماعتیں ہندو انتہاءپسندوں اور قوم پرستوں کی حمایت حاصل کرنے کے لئے ایک جیسا رویہ اختیار کئے ہوئے ہیں لیکن ان جماعتوں اور بی جے پی میں فرق یہ ہے کہ بی جے پی اور اس کے اتحادی نفرت اور تعصب کے ایسے بیج بو رہے ہیں جن کے اثرات طویل عرصے تک بھارتی معاشرے میں موجود رہیں گے۔ تنازعہ کشمیر کے سیاسی حل کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کا سیاسی حل وہی ہے جو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے گزشتہ صدی کی چوتھی اور پانچویں دہائی میں اپنی قراردادوں میں تجویز کیا تھا۔ اگرچہ اس حل پر اقوام متحدہ نے کوئی پیش رفت نہیں کی لیکن اس عالمی ادارے نے یہ بھی نہیں کہا کہ یہ حل اب قابل عمل نہیں رہا۔ اس وقت دنیا میں صرف ایک ملک بھارت ایسا ہے جو کشمیر کے سیاسی اور سفارتی حل کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ بھارت مسئلہ کشمیر کے پر امن سیاسی و سفارتی حل کے بجائے کشمیریوں پر ظلم و ستم کر کے اس تنازعہ کوفوجی طریقے سے حل کرنا چاہتا ہے جو ممکن نہیں ہے ۔ بھارت اور پاکستان کے درمیان دو طرفہ مذاکرات سے تنازعہ کشمیر کے حل پر اظہار خیال کرتے ہوئے صدر آزادکشمیر نے کہا کہ بھارت چاہتا ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر کو پاکستان کے درمیان سرحدی تنازعہ کے طور پر پیش کر کے جو تاریخی حقائق کے منافی ہے۔ عالمی برادری کو اس بات کا ادراک کرنا ہو گا کہ کشمیری اپنا حق خودارادیت چاہتے ہیں اور جب تک یہ حق انہیں نہیں دیا جاتا یہ تنازعہ خطہ کی سلامتی اور امن کے لئے مستقل خطرہ کے طور پر باقی رہے گا۔ بھارت اور پاکستان کے درمیان محدود جوہری جنگ کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے صدر نے کہا کہ اگر ایسا ہوا تو اس کے اثرات صرف بھارت اور پاکستان تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایٹمی تابکاری اثرات سے جنوبی ایشیاءکے اڑھائی ارب انسانوں میںسے 20 ملین انسان فوری طور پر اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے اور ایسی کسی جنگ کے بعد انسانوں کا ایک سمندر، یورپ، بحر الکاہل ممالک ، شمالی امریکہ، خلیجی خطہ، وسط ایشیائی ریاستوں سمیت کئی ممالک کی طرف چل پڑے گا اور یوں ایک ایسا سلسلہ شروع ہو گا جو پوری انسانی برادری کو متاثر کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ چین اور ترکی نے مختلف اوقات میں جموں وکشمیر کے تنازعہ کے لئے ثالثی کرنے کی پیشکش کی جسے پاکستان نے تو قبول کیا لیکن بھارت نے ہمیشہ مسترد کیا۔ ہمیں اب بھی امید ہے کہ ترکی کے صدر طیب اردگان امن اور انسانی سفارت کاری کے ذریعے تنازعہ کشمیرحل کرنے میں ایک اہم کردار اد کر سکتے ہیں کیونکہ ان کے دل میں کشمیریوں اور انسانیت کے لئے ایک درد موجود ہے اور وہ اخلاص کے ساتھ اس سلسلہ میں کچھ کرنا چاہتے ہیں۔ ایل او سی ٹریڈ کی معطلی اور اس حوالے سے بھارتی حکومت کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے صدر آزادکشمیر نے کہا کہ بھارت کا یہ الزام کہ کراس ایل او سی ٹریڈ کی آڑ میں پاکستان سے اسلحہ اور منشیات بھارت سمگل کی جاتی تھی لغو اور بے بنیاد ہے جس کا مقصد پاکستان کو بدنام کرنے کے سوا کچھ نہیں۔ اگر کراس ایل او سی ٹریڈ کے ذریعے اسلحہ مقبوضہ کشمیر کی طرف سمگل ہوتا تھا تو بھارت اتنے سال خاموش کیوں رہا اور یہ بات بھارتی حکمرانوں پر عین انتخابات کے وقت ہی کیوں منکشف ہوئی۔ حقیقت یہ ہے کہ بھارت کے حکمران خود ہی مدعی، منصف اور کوتوال بن کر پاکستان کو ڈکٹیٹ کرانا چاہتے ہیں جو ظاہر ہے قابل قبول نہیں ہو سکتا۔








