اسلام آباد ۔ 11 مئی (اے پی پی) پاکستان اکانومی واچ کے چئیرمین برگیڈئیر محمد اسلم خان نے کہا ہے کہ ملک بھر میں منافع خوروں کے خلاف کاروائیاں خوش آئند ہیں۔اس میں تیزی لائی جائے تاکہ عوام سکھ کا سانس لے سکیں۔عوام کو لوٹنے والوں کو جرمانہ کے ساتھ ساتھ جیل بھیجا جائے۔ ملک میں مہنگائی کی شدید لہر کی تمام تر ذمہ داری آڑھتی مافیا پر عائد ہوتی …
ملک بھر میں منافع خوروں کے خلاف کاروائیاں خوش آئند ہیں، برگیڈئیر محمد اسلم خان

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 11 مئی (اے پی پی) پاکستان اکانومی واچ کے چئیرمین برگیڈئیر محمد اسلم خان نے کہا ہے کہ ملک بھر میں منافع خوروں کے خلاف کاروائیاں خوش آئند ہیں۔اس میں تیزی لائی جائے تاکہ عوام سکھ کا سانس لے سکیں۔عوام کو لوٹنے والوں کو جرمانہ کے ساتھ ساتھ جیل بھیجا جائے۔ ملک میں مہنگائی کی شدید لہر کی تمام تر ذمہ داری آڑھتی مافیا پر عائد ہوتی ہے ۔ محمد اسلم خان نے ہفتہ کو اپنے ایک بیان میں کہا کہ بینک جاگیرداروں کو قرضے دیتے ہیں مگر چھوٹے کاشتکاروں کو نظر انداز کر دیتے ہیں جسکی وجہ سے وہ آڑھتیوں سے قرضے لینے پر مجبور ہوتے ہیں۔کسان آڑھتیوں سے قرضہ لے کر بیج کھاد اور زرعی ادویات خریدتے ہیں اور اپنے گھر کا نظام چلاتے ہیں جبکہ فصل اترنے پر آڑھتی کوکم از کم ایک سو فیصد سودسمیت قرضہ واپس کرنا پڑتا ہے۔ آڑھتیوںسے قرضے لینے کے بعد کاشتکار اپنی پیداواربھی انھیں سستے داموں بیچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں اور انھیں منڈی میںبھی بے رحمی سے لوٹا جاتا ہے۔کسان آڑھتی کی مرضی کے بغیر منڈی میں قدم رکھ سکتا ہے نہ اپنی مرضی سے آڑھتی بدل سکتا ہے۔ زرعی اجناس کی قیمت کے تعین میں کسان کا کوئی کردار نہیں ہوتا جس سے انکا اور صارفین کا استحصال ہوتا ہے۔اگر بینک انھیں قرضے دیں یا انتظامیہ شہروں میں انکے لئے اپنی اشیاءکی فروخت کے لئے آڑھتیوں سے پاک مارکیٹیں بنائے تو کسانوں کا منافع بڑھ جائے گا جبکہ پھلوں سبزیوں وغیرہ کی قیمتیں کافی کم ہو جائیں گی اور شہروں کی جانب نقل مکانی کا خطرناک رجحان بھی کم ہو جائے گا اور ملک میں زرعی اشیاءکی قیمتیں نصف سے بھی کم رہ جائیں گی۔








