اسلام آباد ۔ 12 مئی (اے پی پی)وزیرا عظم کے مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے کہا ہے کہ پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ ( آئی ایم ایف) کے درمیان ایک معاہدہ طے پاگیا جس کے تحت آئی ایم ایف پاکستان کو تین سال کے عرصے کے دوران 6 ارب ڈالر کے توسیع فنڈ کی سہولت فراہم کرے گا، پاکستان کو 3سال میں 6 ارب ڈالر کی امداد ملے گی …
پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان معاہدہ طے پاگیا، آئی ایم ایف پاکستان کو تین سال کے عرصے کے دوران 6 ارب ڈالر کے توسیع فنڈ کی سہولت فراہم کرے گا،معاہدے پرعملدرآمدآئی ایم ایف کے ایگزیکٹوبورڈ کی توثیق کے بعد کیا جائے گا، عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بنک سے اضافی دو سے تین ارب ڈالر کم شرح منافع پر ملنے کی توقع ہے، مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 12 مئی (اے پی پی)وزیرا عظم کے مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے کہا ہے کہ پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ ( آئی ایم ایف) کے درمیان ایک معاہدہ طے پاگیا جس کے تحت آئی ایم ایف پاکستان کو تین سال کے عرصے کے دوران 6 ارب ڈالر کے توسیع فنڈ کی سہولت فراہم کرے گا، پاکستان کو 3سال میں 6 ارب ڈالر کی امداد ملے گی جبکہ عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بنک سے اضافہ دو سے تین ارب ڈالر کم شرح منافع پر ملنے کی توقع ہے، معاہدے پرعملدرآمدآئی ایم ایف کے ایگزیکٹوبورڈ کی توثیق کے بعد کیا جائے گا۔حکومت اور آئی ایم ایف مشن کی ٹیکنکل ٹیم کے درمیان مذاکرات کے بعد سرکاری میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ معاہدہ سے ہمارے قرضوں کی ادائیگی کی صورتحال میں بہتری آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہماری درآمدات اور برآمدات کا فرق گزشتہ سال 20 ارب ڈالر تک پہنچ گیا تھا تھا، ہمارے ذخائر میں پچھلے دو سالوں میں تقریبا 50 فیصد کمی آئی،ہمارے غیر ملکی قرضے 90 ارب ڈالر تک پہنچ گئے۔ڈاکٹر حفیظ شیخ نے کہا کہ اخراجات میں کمی ہمارے اپنے مفاد میں ہے، خسارے میں چلنے والے اداروں کو بہتری کرنا ہمارے مفاد میں ہے،امیر لوگوں کو ملنے والی سبسڈی کو ختم کرنا ہمارے اپنے مفاد میں ہے، امیر لوگوں سے زیادہ ٹیکس وصولی سے پورے ملک کا فائدہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان طویل عرصے سے بہت ساری چیزیں درست نہیں کی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ پروگرام کے تحت ڈھانچہ جاتی مسائل کو حل کرنا کا بہترین موقع ہے ، پاکستان میں برآمدات میں اضافہ کا تسلسل کبھی نہیں رہا ، بیرونی سرمایہ کاری نہیں آ سکی، ریاستی اداروں کی صورتحال جوں کی توں ہے ، محصولات میں بھی بہتر انداز میں اضافہ نہیں ہوسکا ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں غور کرنا ہے کہ ڈھانچہ جاتی اصلاحات ہمارے مفاد ہے جس کے ذریعے ہم مستقبل میں اپنے عوام کو خوشحالی کی جانب لے جا سکتے ہیں اور ان کے معیار زندگی کو بہتر بنا سکتے ہیں ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کو مسلسل پائیدار ترقی و خوشحالی کی طرف لے جانے کےلئے یہ اصلاحات ناگزیر ہیں۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کئی ایسے شعبے ہیں جہاں ہم اپنی صلاحیت سے زیادہ خرچ کرتے رہے ہیں ، ہم نے دنیا کو مالیاتی نظم و ضبط کا اشارہ دینا ہے اور ساتھ ساتھ بگڑی ہوئی مالی صورتحال کو بھی درست کرنا ہے ۔ اس کےلئے ہمیں کچھ شعبوں میں چند اشیاءکی قیمتیں بڑھانی ہوں گی ۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی ترجیح ہے کہ عام آدمی پر زیادہ بوجھ نہ ڈالا جائے ۔ا نہوں نے کہا کہ اگر بجلی کی قیمت بڑھتی ہے تو 300 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین پر کسی قسم کا کوئی اثر نہیں پڑے گا اور بجلی کے تقریباً 75 فیصد صارفین اس زمرے میں آجاتے ہیں جس کے لیے تقریباً 216 ارب روپے سبسڈی کی مد میں رکھے جا رہے ہیں جو پہلے کی نسبت 50 ارب روپے اضافی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس پروگرام کے تحت احساس پروگرام یا بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کےلئے آنے والے بجٹ میں 80 ارب روپے اضافی رکھے جارہے ہیں جس سے اس کا بجٹ تقریباً دگنا ہوجائےگا جس کا مقصد عام آدمی کو مشکل دور سے نکالنا ہے تاکہ اسے ریلیف ملے دیا جا سکے ۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ امید ہے کہ پاکستان کےلئے آئی ایم ایف کا یہ پروگرام آخری پروگرام ہو گا لیکن اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ ہم اس پروگرام کو کتنی کامیابی سے نافذ کرتے ہیں ۔








