اسلام آباد ۔ 22 مئی (اے پی پی)وزیراعظم کے مشیر برائے موسمیاتی تبدیلی ملک امین اسلم نے کہا ہے کہ بلین ٹری سونامی دنیا میں پہلا منصوبہ بن گیا ہے جس نے جنگلات کی بحالی اور توسیع کے حوالے سے اپنے تمام مقاصد مکمل کئے ہیں، منصوبے کے تحت نہ صرف خیبرپختونخوا بلکہ پورے پاکستان میں حیاتیاتی تنوع کے تحفظ و فروخت میں مدد ملی ہے، جنگلات میں اضافے سے …
بلین ٹری سونامی دنیا میں پہلا منصوبہ بن گیا ہے جس نے جنگلات کی بحالی کے تمام مقاصد مکمل کئے ہیں، ملک امین اسلم

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 22 مئی (اے پی پی)وزیراعظم کے مشیر برائے موسمیاتی تبدیلی ملک امین اسلم نے کہا ہے کہ بلین ٹری سونامی دنیا میں پہلا منصوبہ بن گیا ہے جس نے جنگلات کی بحالی اور توسیع کے حوالے سے اپنے تمام مقاصد مکمل کئے ہیں، منصوبے کے تحت نہ صرف خیبرپختونخوا بلکہ پورے پاکستان میں حیاتیاتی تنوع کے تحفظ و فروخت میں مدد ملی ہے، جنگلات میں اضافے سے فضاءمیں کاربن کی مقدار کم ہو گی۔ وہ بدھ کو یہاں بلین ٹری پراجیکٹ کے حیاتیاتی تنوع پر اثرات کے بارے میں رپورٹ کے اجراءکی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ یہ رپورٹ انٹرنیشنل یونین فار کنزرویشن آف نیچر (آئی یو سی این) نے جاری کی۔ ملک امین اسلم نے اپنے خطاب میں کہا کہ بلین ٹری سونامی حیاتیاتی تنوع کا حقیقی عکاس اور قدرت کا تحفہ ہے، ہمیں عالمی حیاتیاتی تنوع کے لئے مقامی طریقہ کار اختیار کرنے کی ضرورت ہے، بلین ٹری سونامی پہلا منصوبہ ہے جو مقررہ اہداف سے بڑھ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ پراجیکٹ سائیکل۔ 1 کے ساتھ 20 ارب روپے کے تخمینے کے ساتھ شروع کیا گیا جبکہ اس پر 12 ارب روپے خرچہ آیا اور اس مد میں قومی خزانے کو 8 ارب روپے کی بچت ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلین ٹری سونامی کا مقصد 3 لاکھ 50 ہزار ہیکٹرز جنگلات کی بحالی کرنا ہے جس میں سے 6 لاکھ ہیکٹرز رقبہ پر جنگلات بحال کئے گئے ہیں۔ حیاتیاتی تنوع کے عالمی دن کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ہمیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ جب ہم پودے لگاتے ہیں تو در اصل ہم قدرتی مسکن کو وسعت دیتے ہیں، اس سے ایکو سسٹم کی بحالی میں مدد ملتی ہے جس کا فائدہ سب کو ہے۔ ملک امین اسلم نے کہا کہ بلین ٹری سونامی منصوبے کے تحت پودوں کی نگہبانی کے کام کے لئے 5 لاکھ ملازمتیں پیدا ہوئیں جبکہ دو سو خواتین گروپ بھی تیار کئے گئے ہیں جو ماحول سے متعلق لوگوں میں آگاہی پیدا کرنے میں معاون کردار ادا کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلین ٹری سونامی سے حیاتیاتی تنوع بارے کنونشن کے تحت چھ اہداف حاصل ہوئے ہیں، یہ منصوبہ نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا کے ماحول میں بہتری کا ذریعہ بن رہا ہے۔ وزیراعظم کے مشیر نے آئی یو سی این کی جانب سے رپورٹ مرتب کرنے کو سراہا اور کہا کہ اتنے بڑے منصوبہ کے حیاتیاتی تنوع پر اثرات کو جانچنا ایک بڑا کام تھا کیونکہ یہ اثرات ایک دن کا عمل نہیں بلکہ یہ مختصر مدتی اور طویل المدتی اثرات ہیں۔ آئی یو سی این کے کنٹری ریپریزنٹیٹیو محمود اختر چیمہ نے اس موقع پر کہا کہ درخت زمین کی روح ہیں لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں جنگلات کا رقبہ عالمی معیار سے کم ہے، ہمیں درختوں کے فوائد کا مکمل ادراک نہیں، اس میں بہتری لانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے بلین ٹری سونامی کے حیاتیاتی تنوع پر اثرات کے بارے میں پیش کی جانے والی رپورٹ کے بارے میں بتایا کہ اس میں تمام پہلوﺅں کو مدنظر رکھا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی تحفظ اور اس سلسلے میں کئے جانے والے اقدامات کے بارے میں آگاہی پیدا کرنے کے لئے میڈیا کے کردار کو اجاگر کیا۔ اس موقع پر اقوام متحدہ کے ادارہ ایف اے او کی کنٹری ریپریزنٹیٹیو مینا ڈولاوچائی نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے مطابقت و ہم آہنگی کے لئے حیاتیاتی تنوع کلیدی حیثیت رکھتا ہے، اس سے ایکو سسٹم کے تحفظ میں بھی مدد ملتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں حیاتیاتی تنوع کے تحفظ اور بالخصوص ماحولیات کے حوالے سے آگاہی پیدا ہو رہی ہے، اس سلسلے میں وزارت موسمیاتی تبدیلی قائدانہ کردار ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلین ٹری سونامی منصوبہ ایک کامیاب منصوبہ اور اچھی مثال ہے، نیوزی لینڈ جیسے ممالک اس منصوبے کو آزما رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غذائی قلت اور حیاتیاتی تنوع میں براہ راست تعلق ہے۔ اس موقع پر خیبرپختونخوا کے سیکرٹری جنگلات سید نذر حسین شاہ نے کہا کہ اس منصوبے کو سیاسی مقاصد کے لئے بدنام کرنے کی کوشش کی گئی، عوام منصوبے کے مقامات کا خود دورہ کریں، محکمہ جنگلات انہیں سہولت فراہم کرے گا، لوگ خود اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے کہ اس منصوبے کی کامیابی کا اعتراف کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ وقت معاشرے کا ہر طبقہ ماحولیاتی تحفظ کے پروگرام میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔ اس موقع پر آئی یو سی این کے پروگرام آفیسر عاصم جمال نے رپورٹ کے بارے میں جامع پریزنٹیشن دی۔ انہوں نے کہا کہ یہ رپورٹ در اصل خیبرپختونخوا میں بلین ٹری سونامی کے حیاتیاتی تنوع پر اثرات کا جائزہ پیش کرتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق خیبرپختونخوا میں اس منصوبے کے تحت پانچ سالوں میں جنگلات کے رقبے میں دو فیصد اضافہ ہوا ہے، 516 ایکڑ اراضی پر درخت لگائے گئے جبکہ پورے خیبرپختونخوا میں 165 ملین پودے تقسیم کئے گئے۔








