وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کا قومی اسمبلی میں جواب

اسلام آباد ۔ 10 اگست(اے پی پی) وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت کے برسراقتدار آنے کے بعد تین سالوں میں 2 لاکھ 37 ہزار شناختی کارڈ بلاک کئے گئے‘ ملا منصور پاکستان کا شہری نہیں تھا‘ ملا منصور کو 2005ءمیں پاسپورٹ جاری ہوا جبکہ اس کی تجدید 2011ءمیں ہوئی‘ ہم نے اس کے ذمہ داروں کے خلاف بھرپور ایکشن لیا ہے‘ قومی …

اسلام آباد ۔ 10 اگست(اے پی پی) وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت کے برسراقتدار آنے کے بعد تین سالوں میں 2 لاکھ 37 ہزار شناختی کارڈ بلاک کئے گئے‘ ملا منصور پاکستان کا شہری نہیں تھا‘ ملا منصور کو 2005ءمیں پاسپورٹ جاری ہوا جبکہ اس کی تجدید 2011ءمیں ہوئی‘ ہم نے اس کے ذمہ داروں کے خلاف بھرپور ایکشن لیا ہے‘ قومی شناختی کارڈز کی تصدیق کی نگرانی کے لئے پارلیمنٹ کی اوورسائٹ کمیٹی بنانا چاہتے ہیں‘ تصدیقی عمل میں اب تک ساڑھے تین کروڑ شناختی کارڈز کی تصدیق ہو چکی ہے‘ فیملی ٹریز سے ہزاروں غیر قانونی شناختی کارڈز کی نشاندہی ہوئی ہے۔ بدھ کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں وقفہ سوالات کے دوران وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ یہ انتہائی اہم ایشو ہے۔ جعل سازی دنیا میں ہر جگہ ہے۔ نیشنل ڈیٹا بیس اتھارٹی نے 2013ءسے قبل 525 شناختی کارڈ بلاک کئے۔ ہمارے تین سالوں میں دو لاکھ 37 ہزار بلاک ہوئے۔

Leave a Reply