مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کا وزیراعظم عمران خان کے ہمراہ نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو

اسلام آباد ۔ یکم جولائی (اے پی پی) وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے کہا ہے کہ ایکسچینج ریٹ پر آئی ایم ایف کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں ہوا، برآمدی شعبہ پر کوئی ٹیکس نہیں لگایا گیا اور نہ ہی ایسا کوئی ارادہ ہے، بجلی، گیس اور قرضوں کی مد میں حکومت سبسڈی دے رہی ہے جبکہ خام مال پر ٹیکس میں کمی کی گئی ہے، برآمدات مقدار …

اسلام آباد ۔ یکم جولائی (اے پی پی) وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے کہا ہے کہ ایکسچینج ریٹ پر آئی ایم ایف کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں ہوا، برآمدی شعبہ پر کوئی ٹیکس نہیں لگایا گیا اور نہ ہی ایسا کوئی ارادہ ہے، بجلی، گیس اور قرضوں کی مد میں حکومت سبسڈی دے رہی ہے جبکہ خام مال پر ٹیکس میں کمی کی گئی ہے، برآمدات مقدار میں بڑھنا شروع ہو گئی ہیں۔ وہ پیر کو وزیراعظم عمران خان کے ہمراہ ایک نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو دے رہے تھے۔ اس موقع پر چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی بھی موجود تھے۔ مشیر خزانہ نے کہا کہ جب موجودہ حکومت آئی تو ملک کو ساڑھے 19 ارب ڈالر کے کرنٹ اکاﺅنٹ خسارے کا سامنا تھا۔ ہماری کوششوں سے یہ کم ہو کر 13 ارب ڈالر رہ گیا ہے۔ موجودہ بجٹ میں اسے 13 سے 7 ارب ڈالر تک لانے کے لئے اقدامات کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک چیز واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ آئی ایم ایف کے ساتھ ایکسچینج ریٹ کی سطح کے تعین کے لئے کوئی معاہدہ نہیں کیا گیا۔ایک سوال کے جواب میں عبدالحفیظ شیخ نے کہا کہ برآمدی شعبہ پر کوئی ٹیکس نہیں لگایا اور نہ لگے گا، ہمارا ایسا کوئی ارادہ نہیں۔ موجودہ حکومت نے برآمدات کے شعبہ کی ترقی کے لئے مختلف اقدامات کئے ہیں ان میں برآمدی شعبہ کو بجلی، گیس اور قرضوں پر حکومت کی جانب سے سبسڈی دینا شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ خام مال میں شامل ہزاروں اشیاءپر ٹیکس کم کیا گیا ہے۔ حکومتی اقدامات کی بدولت تعداد و مقدار کے لحاظ سے ملکی برآمدات میں اضافہ ہو رہا ہے

Leave a Reply