سرینگر ۔ 22 اگست (اے پی پی) برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے مقبوضہ کشمیر میں حالات معمول پر آنے کے بھارتی حکومت کے دعوو¿ں کی قلعی کھولتے ہوئے کہا ہے کہ ان دعووں کے برعکس سرینگر کے مقامی لوگوں کا دعویٰ ہے کہ رات کے اوقات میں کشمیری نوجوانوں کو گرفتار کرنے کا سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔وادی کی تازہ ترین صورتحال سامعین تک پہنچانے کے لیے شروع …
بی بی سی نے مقبوضہ کشمیر میں حالات معمول پر آنے کے بھارتی دعووں کی قلعی کھول دی

مزید خبریں
سرینگر ۔ 22 اگست (اے پی پی) برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے مقبوضہ کشمیر میں حالات معمول پر آنے کے بھارتی حکومت کے دعوو¿ں کی قلعی کھولتے ہوئے کہا ہے کہ ان دعووں کے برعکس سرینگر کے مقامی لوگوں کا دعویٰ ہے کہ رات کے اوقات میں کشمیری نوجوانوں کو گرفتار کرنے کا سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔وادی کی تازہ ترین صورتحال سامعین تک پہنچانے کے لیے شروع کیے جانے والے بی بی سی اردو کے خصوصی ریڈیو پروگرام ’نیم روز‘ میں بات کرتے ہوئے سرینگر سے نامہ نگار ریاض مسرور نے بتایا کہ مقامی لوگوں کے مطابق سکیورٹی اہلکار رات کے اوقات میں گھروں پر چھاپے مار کر نوجوانوں کو گرفتار کر رہے ہیں۔ خیال رہے کہ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق کشمیر میں 5 اگست بھارتی حکومت کی طرف سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق آئین کے آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد سے اب تک 4000 سے زیادہ افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے اور ان میں سے بہت سوں کو وادی کے قید خانوں میں جگہ نہ ہونے کی وجہ سے بھارت کے مختلف شہروں میں منتقل کیا گیا ہے۔ سرینگر کے رہائشی اکبر ڈار نے بی بی سی کے نامہ نگار کو بتایاکہ ”ہمارے دو لڑکے اٹھائے گئے ہیں۔








