وزیراعظم عمران خان کا قوم سے خطاب

اسلام آباد ۔ 26 اگست (اے پی پی) وزیراعظم عمران خان نے دوٹوک اعلان کیا ہے کہ دنیا ساتھ دے یا نہ دے پاکستان کی حکومت اور عوام آخری سانس تک کشمیر کے ساتھ رہیں گے، جمعہ کو پاکستانی قوم دوپہر 12 سے ساڑھے 12 بجے تک گھروں سے باہر نکل کر کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرے گی، 27 ستمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس تک …

اسلام آباد ۔ 26 اگست (اے پی پی) وزیراعظم عمران خان نے دوٹوک اعلان کیا ہے کہ دنیا ساتھ دے یا نہ دے پاکستان کی حکومت اور عوام آخری سانس تک کشمیر کے ساتھ رہیں گے، جمعہ کو پاکستانی قوم دوپہر 12 سے ساڑھے 12 بجے تک گھروں سے باہر نکل کر کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرے گی، 27 ستمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس تک ہفتہ میں ایک دن کشمیریوں پر بھارتی ظلم و تشدد کے خلاف پاکستانی قوم یک زبان ہو کر آواز بلند کرے گی، نریندر مودی نے تکبر میں آ کر بہت بڑی غلطی کی جس سے کشمیریوں کو آزادی حاصل کرنے کا موقع مل گیا ہے، پاکستان مسئلہ کشمیر کو بین الاقوامی توجہ دلانے میں کامیاب ہوا ہے، بروقت سفارت کاری اور دفاعی تیاریوں سے بھارت کے جھوٹے فلیگ آپریشن کے عزائم بے نقاب ہو گئے ہیں، اقوام متحدہ پر بہت بڑی ذمہ داری ہے، اس نے کشمیریوں کے ساتھ وعدہ کیا تھا کہ وہ ریفرنڈم کرائے گی، دنیا کے سوا ارب مسلمان اقوام متحدہ کی جانب دیکھ رہے ہیں، انہوں نے اپنا آخری حربہ استعمال کرلیا ہے، اب جو کریں گے ہم کریں گے، اگر یہ مسئلہ جنگ کی طرف چلا گیا تو دونوں ممالک جوہری طاقتیں ہیں، ایٹمی جنگ کوئی نہیں جیتے گا اور اس سے یہ خطہ ہی نہیں بلکہ پوری دنیا پر اس کے اثرات مرتب ہوں گے، اس حوالے سے عالمی برادری پر بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے، کیا بڑے بڑے ملک صرف اپنی مارکیٹس کی طرف ہی دیکھتے رہیں گے۔ پیر کو قوم سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ آج میں آپ سے صرف کشمیر کے معاملہ پر بات کرنا چاہتا ہوں اور یہ بتانا چاہتا ہوں کہ کشمیر کی آج کیا صورتحال ہے، اب تک ہم نے کیا کیا ہے اور آگے کیا کرنے جا رہے ہیں۔ ہم اس موڑ پر کھڑے ہیں جو پاکستان کی کشمیر پالیسی کا ایک فیصلہ کن وقت ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ میں ساری قوم کو اعتماد میں لوں اور اصل صورتحال سے آگاہ کروں کہ ہماری قوم کیا کرنے جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب ہماری حکومت آئی تو ہماری پہلی کوشش تھی کہ ہم ملک میں امن پیدا کریں اور لوگوں کے لئے روزگار کے مواقع اور ملکی تجارت بڑھائیں۔ ہمارے بھی وہی مسائل ہیں جو ہندوستان کے ہیں، وہاں بھی بے روزگاری ہے اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات جیسے مسائل درپیش ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے سب سے دوستی کرنے کی کوشش کی، افغانستان میں بھی فوجی حل کی بجائے سیاسی حل کے لئے کوششیں کیں اور اﷲ کا شکر ہے کہ وہاں امن کی طرف کافی تیزی سے پیشرفت ہوئی ہے۔ ہم نے کہا تھا کہ ہندوستان ایک قدم آگے بڑھائے تو ہم دو قدم آگے بڑھائیں گے، ہم مسئلہ کشمیر کو مذاکرات کے ذریعے حل کرلیں گے لیکن ابتداءسے ہی اس حوالے سے مسائل پیدا ہونا شروع ہو گئے۔ ہم جب بھی ڈائیلاگ کی بات کرتے تھے تو وہ کوئی نئی بات شروع کر دیتے تھے اور موقع ڈھونڈتے تھے کہ کسی نہ کسی طرح پاکستان پر دہشت گردی کا الزام لگایا جائے۔ وزیراعظم نے کہا کہ بھارت میں انتخابات اور بی جے پی کی اینٹی مسلم اور اینٹی پاکستان مہم چل رہی تھی، اس کے بعد پلوامہ کا واقعہ سامنے آ گیا، یہ کشمیر میں بھارتی مظالم کے خلاف ردعمل تھا اور ایک کشمیری نوجوان نے خود کش حملہ کیا۔ ہندوستان نے اس کی وجوہات کا جائزہ لینے کی بجائے موقع ڈھونڈا اور پاکستان کو مورد الزام ٹھہرایا۔

مزید خبریں