اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ڈاکٹر ملیحہ لودھی کی سلامتی کونسل کی صدر، انڈر سیکرٹری جنرل فار ہیومینیٹیرین افیئرز اور یونیسیف کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کے ساتھ ملاقاتیں

اقوام متحدہ ۔ 30 اگست (اے پی پی) اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی صدر جوانا رونیکا سے ملاقات کی اور انہیں مقبوضہ کشمیر میں ہر گذرتے دن کے ساتھ سنگین تر ہوتے بحران سے آگاہ کیا۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے انڈر سیکرٹری جنرل فار ہیومینیٹیرین افیئرز مارک لوکاک اور یونیسیف کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر حنان سلیمان کو بھی …

اقوام متحدہ ۔ 30 اگست (اے پی پی) اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی صدر جوانا رونیکا سے ملاقات کی اور انہیں مقبوضہ کشمیر میں ہر گذرتے دن کے ساتھ سنگین تر ہوتے بحران سے آگاہ کیا۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے انڈر سیکرٹری جنرل فار ہیومینیٹیرین افیئرز مارک لوکاک اور یونیسیف کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر حنان سلیمان کو بھی گذشتہ پچیس دن سے جاری بھارت کے فوجی لاک ڈاﺅن میں زندگی گذارنے پر مجبور کشمیریوں کی حالت زار پر بریفنگ بھی دی۔ ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے اقوام متحدہ کے انڈر سیکرٹری جنرل فار ہیومینیٹیرین افیئرز مارک لو کاک کو بریفنگ کے دوران بتایا کہ بھارتی حکومت کی طرف سے پانچ اگست کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمہ کے بعد وہاں ایک بحران پیدا ہوچکا ہے جس میں ایک کروڑ چالیس لاکھ سے زیادہ کشمیری انتہائی خوفناک صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں۔ بھارتی حکومت کے ڈریکولائی اقدامات کے نتیجہ میں لاکھوں کشمیریوں کے لئے خوراک، ادویات اور دیگر ضروری اشیاءکی قلت پیدا ہوچکی ہے اور اس صورتحال کے ختم ہونے کا دور دور تک کوئی امکان نظر نہیں آتا۔ پاکستانی مندوب نے بتایا کہ مقبوضہ کشمیر کی اصل صورتحال اسی وقت سامنے آئے گی جب وہاں بھارتی حکومت کی طرف سے عائد پابندیاں ہٹائی جائیں گی۔ مقبوضہ خطے میں بحران پیدا ہونے کا محض خدشہ موجود نہیں بلکہ وہاں ایک بہت بڑا بحران اچانک سامنے آنے والا ہے۔ بھارتی حکومت اور فوج نے مقبوضہ خطے کو ایک بہت بڑی اوپن ایئر جیل میں تبدیل کردیا ہے جہاں بڑے پیمانے پر لوگوں کے بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں جاری ہیں۔ مقبوضہ کشمیر سے آنے والی رپورٹس کے مطابق وہاں ہزاروں تاجر رہنماﺅں، حقوق انسانی کے کارکنوں، منتخب نمائندوں، اساتذہ، طلبہ اور 14 ، 14سال تک کے بچوں کو گرفتار کرکے مقبوضہ کشمیر سے باہر متنقل کردیا گیا ہے اور اب ان کے بارے کسی کو کچھ پتا نہیں۔ ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے یونیسیف کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر حنان سلیمان کو بریفنگ کے دوران بتایا کہ بھارتی مسلح افواج مقبوضہ کشمیر میں منظم انداز میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کررہی ہیں۔ کم عمر بچوں کو ان کے گھروں سے اغوا کرکے ان پر تشدد کیا جارہا ہے اور خواتین اور لڑکیوں کو جنسی طور پر ہراساں کیا جا رہا ہے حتیٰ کہ انہیں جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔کشمیر میں بچوں پر مظالم کے خاتمے کی کوئی امید نظر نہیں آرہی، بھارتی فوجیوں کی طرف سے پیلٹ گن کے استعمال کے نتیجہ میں سینکڑوں بچے جن میں چار سال کی عمر کے بچے بھی شامل ہیں بینائی کے ساتھ ساتھ اپنے مستقبل اور خوابوں سے بھی محروم ہوچکے ہیں۔ پاکستانی مندوب نے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کی رپورٹس برائے 2018ءاور2019ءمقبوضہ کشمیر میں کمسن بچوں کی پبلک سکیورٹی ایکٹ (پی ایس اے) اور آرمڈ فورسز سپیشل پروٹیکشن ایکٹ (افسپا) جیسے کالے قوانین کے تحت گرفتاریاں یونیورسل ڈکلریشن آف ہیومن رائٹس، انٹرنیشنل کوونینٹس آن سول اینڈ پولیٹکل رائٹس اور کنونشن آن رائٹس آف دی چائلڈ جیسے بین الاقوامی معاہدوں اور کنونشنز کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں جنسی ہراسانی، اغواءاور جنسی زیادتی کے واقعات کھلے عام جاری ہیں۔ مقبوضہ کشمری کے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے گذشتہ ماہ خود یہ بتایا کہ ریاست میں 1989ءسے ریپ کے 5,125 اور مولیسٹیشن کے 14,953کیسز کا اندراج کیا گیا۔بھارت میں انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والے ادارے کی رپورٹ کے مطابق 2003ءسے 2017ءتک قتل کئے جانے والے318 بچوں میں سے 72 لڑکیاں تھیں۔ بھارتی حکومت مقبوضہ علاقے میں جنسی تشدد کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہوئے ریاست میں بھارتی جبر اور انسانیت سوز مظالم کے خلاف آواز بلند کرنے والوں کو اجتماعی سزا دے رہی ہے۔

مزید خبریں