ارکان سینیٹ کا ایوان بالا میں مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر بحث میں اظہار

اسلام آباد ۔ 30 اگست (اے پی پی) سینیٹ کے ارکان نے کہا ہے کہ بھارت کا سیکولر جمہوری ملک ہونے کا دعویٰ بے نقاب ہو گیا ہے، بھارت کے اندر سے بھی مودی اور آر ایس ایس کی انتہاءپسندانہ سوچ کے خلاف آوازیں اٹھ رہی ہیں، مسئلہ کشمیر بین الاقوامی اہمیت اختیار کر چکا ہے، مقبوضہ کشمیر کے عوام 25 دنوں سے محصور ہیں، 1998ءکے ایٹمی دھماکوں کے بعد …

اسلام آباد ۔ 30 اگست (اے پی پی) سینیٹ کے ارکان نے کہا ہے کہ بھارت کا سیکولر جمہوری ملک ہونے کا دعویٰ بے نقاب ہو گیا ہے، بھارت کے اندر سے بھی مودی اور آر ایس ایس کی انتہاءپسندانہ سوچ کے خلاف آوازیں اٹھ رہی ہیں، مسئلہ کشمیر بین الاقوامی اہمیت اختیار کر چکا ہے، مقبوضہ کشمیر کے عوام 25 دنوں سے محصور ہیں، 1998ءکے ایٹمی دھماکوں کے بعد پاکستان کے لئے ایک اور فیصلے کا وقت آ گیا ہے، پاکستانی عوام مظلوم کشمیری بھائیوں کا ساتھ کبھی نہیں چھوڑیں گے، ہمیں ان ممالک کی طرف اب نہیں دیکھنا چاہئے جنہوں نے اقتصادی مفادات کے لئے نسل کشی اور قتل عام جیسے جرائم کو بھی پس پشت ڈال دیا ہے، مودی کا دماغ ٹھیک کرنے کے لئے ہمیں کچھ کرنا ہوگا۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار جمعہ کو یہاں ایوان بالا میں مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے کیا۔ مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ مودی مسلمانوں کا قاتل ہے، گجرات میں بھی اس کی سرپرستی میں بے گناہ مسلمانوں کا خون بہا، مقبوضہ کشمیر کے حالات بہت خراب ہیں اور تمام سیاسی جماعتوں نے تمام اختلافات بالائے طاق رکھتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کے مظلوم عوام کو آزادی دلانے کے لئے حکومت کا ساتھ دیا ہے اور حکومت اور اپوزیشن کا اس معاملہ پر موقف ایک ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کشمیریوں کی آواز کو طاقت کے ذریعے نہیں دبا سکتا، وہ دن دور نہیں جب کشمیری آزادی حاصل کر کے رہیں گے۔ سینیٹر نگہت مرزا نے کہا کہ امت مسلمہ ہمیشہ سے مسلمانوں کو درپیش مسائل کے حوالے سے بے حسی کا مظاہرہ کرتی رہی ہے۔ کشمیریوں کی آزادی کی جدوجہد اب اپنے منطقی انجام کی طرف بڑھ رہی ہے، ہمیں اب متحد ہو کر مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے ملکی اور بین الاقوامی سطح پر آواز اٹھانی چاہئے اور اتحاد کے ذریعے بھارت کی متعصبانہ اور کشمیر دشمن سوچ کو شکست دینا ہوگی۔

مزید خبریں