اسلام آباد ۔ 30 اگست (اے پی پی) کشمیر کمیٹی کے چیئرمین سیّد فخر امام نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر اس وقت عالمی سطح پر فلیش پوائنٹ بن چکا ہے، اس حوالہ سے ہر پاکستانی یکمشت اور متحد ہے، سلامتی کونسل، اقوام متحدہ سمیت اس معاملہ پر ہر فورم سے رجوع کریں گے، سلامتی کونسل کے پانچ مستقل رکن ممالک ہمارا ساتھ دیں۔ جمعہ کو پارلیمنٹ ہاﺅس کے سبزہ …
مسئلہ کشمیر پر سلامتی کونسل، اقوام متحدہ سمیت ہر فورم سے رجوع کریں گے، چیئر مین کشمیر کمیٹی سید فخر امام کا پارلیمنٹ ہاﺅس کے سبزہ زار میں منعقدہ تقریب سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 30 اگست (اے پی پی) کشمیر کمیٹی کے چیئرمین سیّد فخر امام نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر اس وقت عالمی سطح پر فلیش پوائنٹ بن چکا ہے، اس حوالہ سے ہر پاکستانی یکمشت اور متحد ہے، سلامتی کونسل، اقوام متحدہ سمیت اس معاملہ پر ہر فورم سے رجوع کریں گے، سلامتی کونسل کے پانچ مستقل رکن ممالک ہمارا ساتھ دیں۔ جمعہ کو پارلیمنٹ ہاﺅس کے سبزہ زار پر یوم یکجہتی کشمیر کے حوالہ سے منعقدہ احتجاجی مظاہرہ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نریندر مودی نے گجرات میں اڑھائی ہزار مسلمانوں کو شہید کیا اور آج اس نے مقبوضہ کشمیر پر چڑھائی کر دی ہے، ہم بابائے قوم کے فرمان کے تحت کشمیر کو اپنی شہ رگ سمجھتے ہیں، ہر پاکستانی یکمشت اور متحد ہو کر کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کر رہا ہے، دنیا میں ایسی جیل کی مثال نہیں ملتی کہ نہتے کشمیری 9 لاکھ بھارتی فوجیوں کے حصار میں گھرے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 54 سال بعد سلامتی کونسل نے کشمیر کے مسئلہ پر دوبارہ غور کیا ہے، 1948ءاور 1949ءکی قراردادوں کے تحت آج بھی کشمیر متنازعہ مسئلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا دیکھے گی کہ کشمیری کسی سے نہیں ڈرتے، وقت آ گیا ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے ہمیں دنیا میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی، سلامتی کونسل سمیت جس فورم پر بھی جانا پڑا، جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس ستمبر کے آخری ہفتہ میں شروع ہونے والا ہے، پاکستان اس مسئلہ کو بھرپور انداز میں اٹھائے گا۔ انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل کے پانچ مستقل رکن ممالک ہمارا ساتھ دیں۔ انہوں نے کہا کہ ترکی، ایران اور ملائیشیا تین اسلامی ممالک کے شکر گزار ہیں جن کے صدور اور وزراءاعظم نے اس مسئلہ پر ہماری حمایت کی اور اپنی اپنی پارلیمنٹس میں قراردادیں منظور کرائیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے آگاہ ہو چکی ہے اور ہر پاکستانی بھارت کا مقابلہ کرنے کیلئے تیار ہے۔








