وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت قابل تجدید توانائی کے حوالے سے نئی تشکیل دی جانے والی پالیسی پر اعلیٰ سطح کا بریفنگ اجلاس

اسلام آباد ۔ 30 اگست (اے پی پی) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ قابل تجدید توانائی کے شعبے کو ملک میں خاطر خواہ صلاحیت کے باوجود بھی ماضی میں یکسر نظر انداز کیا گیا، اس سے نہ صرف مہنگی بجلی پیدا ہو رہی ہے بلکہ ماحول بھی آلودہ ہو رہا جبکہ وزیراعظم کو نئی قابل تجدید توانائی پالیسی کے مسودہ پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ …

اسلام آباد ۔ 30 اگست (اے پی پی) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ قابل تجدید توانائی کے شعبے کو ملک میں خاطر خواہ صلاحیت کے باوجود بھی ماضی میں یکسر نظر انداز کیا گیا، اس سے نہ صرف مہنگی بجلی پیدا ہو رہی ہے بلکہ ماحول بھی آلودہ ہو رہا جبکہ وزیراعظم کو نئی قابل تجدید توانائی پالیسی کے مسودہ پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ اس وقت انرجی مکس میں قابل تجدید توانائی کا حصہ چھ فیصد ہے، نئی پالیسی کے تحت 2025ءمیں یہ حصہ 20 فیصد تک کیا جائے گا۔ انہوں نے یہ بات قابل تجدید توانائی کے حوالے سے نئی تشکیل دی جانے والی پالیسی پر اعلیٰ سطح کے بریفنگ اجلاس کے دوران کہی۔ اجلاس میں وزیرِ اقتصادی امور محمد حماد اظہر، وزیرِ توانائی عمر ایوب خان، وزیرِ اعظم کے معاون خصوصی برائے توانائی ندیم بابر، معاون خصوصی شہزاد قاسم، معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان، سیکرٹری پاور ڈویژن عرفان علی و دیگر سینئر افسران شریک تھے۔ معاون خصوصی برائے توانائی ندیم بابر نے قابل تجدید توانائی کے حوالے سے نئی پالیسی کا مسودہ وزیراعظم کو پیش کیا اور مجوزہ نئی پالیسی کے خدوخال سے آگاہ کیا۔ معاون خصوصی ندیم بابر نے بتایا کہ اس وقت ملک میں توانائی کے موجود وسائل (انرجی مکس)میں قابل تجدید توانائی کا حصہ محض چھ فیصد ہے۔ مجوزہ نئی پالیسی کا مقصد انرجی مکس میں قابل تجدید توانائی کا حصہ 2025تک 20%جبکہ 2030تک 30%تک بڑھانا ہے تاکہ ملکی توانائی وسائل کا زیادہ حصہ کلین توانائی پر مشتمل ہو۔ نئی پالیسی کا مقصد ان قابل تجدید ذرائع سے بجلی کی پیداوار ہے

مزید خبریں