بھارت مقبوضہ کشمیر سے کرفیو فوری ہٹائے، لوگوں کے حقوق بحال کیے جائیں تو مذاکرات ہو سکتے ہیں، وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی

اسلام آباد ۔ 31 اگست (اے پی پی) وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھارت کو مذاکرات کی مشروط پیشکش کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کو دو طرفہ مذاکرات پر کوئی اعتراض نہیں جبکہ کسی تیسرے فریق کی معاونت یا ثالثی کو بھی خوش آمدید کہا جائے گا۔ہفتہ کو برطانوی نشریاتی ادارے(بی بی سی اردو) کو دیے گئے ایک انٹرویو میں وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان نے …

اسلام آباد ۔ 31 اگست (اے پی پی) وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھارت کو مذاکرات کی مشروط پیشکش کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کو دو طرفہ مذاکرات پر کوئی اعتراض نہیں جبکہ کسی تیسرے فریق کی معاونت یا ثالثی کو بھی خوش آمدید کہا جائے گا۔ہفتہ کو برطانوی نشریاتی ادارے(بی بی سی اردو) کو دیے گئے ایک انٹرویو میں وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان نے مذاکرات سے کبھی انکار نہیں کیا لیکن انڈیا کی جانب سے مذاکرات کا ماحول دیکھائی نہیں دے رہا۔انہوں نے کہا کہ ان کا اگر بھارت مقبوضہ کشمیر سے کرفیو فوری ہٹائے، لوگوں کے حقوق بحال کیے جائیں، پوری کشمیری قیادت جو پابند سلاسل ہے اس کو رہا کیا جائے اور انھیں (شاہ محمود) کشمیری قیادت سے ملنے کی اجازت دی جائے تو مذاکرات ہو سکتے ہیں۔وزیر خارجہ نے کہ اس جھگڑے کے تین فریق ہیں۔ انڈیا، پاکستان اور کشمیر۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر انڈیا سنجیدہ ہے تو پہلے کشمیری رہنماوں کو رہا کرے اور مجھے اجازت دے کہ میں کشمیری قیادت سے مل پاو¿ں اور مشاورت کر سکوں۔ مجھے ان (کشمیری قیادت) کے جذبات دیکھنا پڑیں گے۔ ان کے جذبات کو پامال کر کے اور کشمیریوں کے جذبات کو روند کر مذاکرات کی میز پر نہیں بیٹھا جا سکتا ۔

مزید خبریں