سرینگر ۔ 4 ستمبر (اے پی پی) مقبوضہ کشمیر میںکرفیو، راستوں اور مواصلاتی نظام کی بندش کے باعث صحافیوں کو اپنی ذمہ داریاں سرانجام دینے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے، اخبارات، ٹی وی اور ریڈیو سے وابستہ صحافیوں کے لئے معلومات کے حصول اور فراہم کرنے میں دشواریوں کے ساتھ ساتھ ایک جگہ سے دوسری جگہ سفر کرنا بھی خطرے سے خالی نہیں۔ برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے …
مقبوضہ کشمیر میں رپورٹنگ تو دور صحافیوں کے لیے باہر نکلنا بھی مشکل ہے‘ کشمیر کی صورتحال پر رپورٹ کرنا مقامی اور بین الاقوامی اداروں کے صحافیوں کے لیے بھی مشکل ہوتا جارہا ہے، برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ

مزید خبریں
سرینگر ۔ 4 ستمبر (اے پی پی) مقبوضہ کشمیر میںکرفیو، راستوں اور مواصلاتی نظام کی بندش کے باعث صحافیوں کو اپنی ذمہ داریاں سرانجام دینے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے، اخبارات، ٹی وی اور ریڈیو سے وابستہ صحافیوں کے لئے معلومات کے حصول اور فراہم کرنے میں دشواریوں کے ساتھ ساتھ ایک جگہ سے دوسری جگہ سفر کرنا بھی خطرے سے خالی نہیں۔ برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق کشمیر میں صحافی گذشتہ ایک ماہ کی بندشوں کے باوجود رپورٹنگ کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔کشمیری صحافی ریاض مسرور کے مطابق کشمیر کی صورتحال پر رپورٹ کرنا نہ صرف مقامی صحافیوں کے لیے مشکل ہے بلکہ باہر سے آنے والے بین الاقوامی اداروں کے صحافیوں کے لیے بھی بہت مشکل ہوتا جارہا ہے۔کشمیر میں ایک ماہ سے بھارت کی جانب سے بندشیں، پابندیاں اور قدغنیں عائد ہیں، تجارتی اور تعلیمی سرگرمیاں معطل ہیں جس کے باعث صحافیوں کو سب سے بڑا مسئلہ یہ پیش آتا ہے کہ وہ اپنا کام بھیج نہیں پاتے ہیں کیونکہ انٹرنیٹ، ٹیلی فون بند ہیں۔ بھارتی ریاست کیرالا کے فری لانس صحافی شون ستیش کا کہنا ہے کہ میں صحت کے حوالے سے درپیش مسائل جاننے کے لیے سرینگر کے لال چوک گیا اور میں نے سوچا کہ جامع مسجد جا کر دیکھتے ہیں کہ وہاںکیا ہو رہا ہے، ایک نوجوان نے اپنے موٹرسائیکل پرمجھے لفٹ دی، ہم جا رہے تھے تو نوہٹہ میں ہمیں بھارتی نیم فوجی پولیس فورس (سی آر پی ایف ) نے روکا۔ انھوں نے روک کر اس نوجوان سے کافی سوال پوچھے اور اس کی تلاشی لی لیکن اس سے صرف ایک صفائی کرنے والا کپڑا ملا لیکن اس پر الزام لگایاگیا کہ وہ پتھراو¿ کرنے میں ملوث ہے اور انھوں نے میرا فون دیکھا، پھر انھوں نے کہا کہ یہ تو بہت گڑبڑ انسان ہے، میری ایک جہاز کی تصویر پر انھوں نے کہا کہ تصاویر کھینچنا تو منع ہے اور غیر قانونی ہے اور آپ کو اس پر قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ وہ اس نوجوان کو زد و کوب کر رہے تھے تو میں نے کہا کہ میں نے ہی ان سے لفٹ مانگی تھی، ان کی غلطی نہیں، آپ ان کو چھوڑ دیں۔صحافی نے بتایا کہ میرا کیمرہ فوجیوں نے لے لیا اور جب میں نے اپنا کارڈ دکھایا تو انھوں نے کہا کہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، اور پھر وہ مجھے نوہٹہ پولیس سٹیشن لے گئے اور وہاں جا کہ بولا کہ ہم بغیر اجازت گھوم رہے ہیں، پھر انھوں نے مجھے زیرِ حراست رکھا۔








