وزیر دفاع پرویز خٹک کی ایم کیو ایم پاکستان کے کنوینئر وفاقی وزیر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو

اسلام آباد ۔ 24 اکتوبر (اے پی پی) وزیر دفاع پرویز خٹک کی سربراہی میں حکومتی وفد نے جمعرات کو ایم کیو ایم پاکستان کے کنوینئر وفاقی وزیر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی سے ملاقات کی۔ وفد میں پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اسد عمر جبکہ ایم کیو ایم کی طرف سے سینیٹر بیرسٹر محمد علی سیف بھی اس موقع پر موجود تھے۔ ملاقات کے بعد وزیر دفاع پرویز خٹک نے …

اسلام آباد ۔ 24 اکتوبر (اے پی پی) وزیر دفاع پرویز خٹک کی سربراہی میں حکومتی وفد نے جمعرات کو ایم کیو ایم پاکستان کے کنوینئر وفاقی وزیر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی سے ملاقات کی۔ وفد میں پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اسد عمر جبکہ ایم کیو ایم کی طرف سے سینیٹر بیرسٹر محمد علی سیف بھی اس موقع پر موجود تھے۔ ملاقات کے بعد وزیر دفاع پرویز خٹک نے ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کے ہمراہ ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ عدالتی اور قانونی طور پر احتجاج کی اجازت دیں گے تاہم اگر اپوزیشن نے عدالتی فیصلے کی خلاف ورزی کی تو حکومت اپنا کام کرے گی۔ ایک سوال کے جواب میں پرویز خٹک نے کہا کہ جمہوریت میں بات چیت کے دروازے کبھی بند نہیں ہوتے، آج (جمعہ) کو ہماری اپوزیشن کے ساتھ ملاقات ہے، انشاء اللہ مسئلہ حل ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے راستے میں حائل رکاوٹیں دور کر لی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کے استعفیٰ پر بات نہیں ہو سکتی۔ ایک اور سوال کے جواب میں پرویز خٹک نے کہا کہ پی ٹی آئی نے دھرنا انتخابات کے معاملے پر دیا تھا۔ خالد مقبول صدیقی نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ہم نے حکومت سے یہی کہا تھا کہ کسی کو بھی اس کے جمہوری حق سے محروم نہ رکھا جائے۔ آئین کے تحت سب کو احتجاج کا حق حاصل ہے مگر عام آدمی متاثر نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان کو اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ زیادہ سے زیادہ معاملات بات چیت کے ذریعے حل کئے جائیں۔ اسد عمر نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اسلام آباد سے قومی اسمبلی کی تینوں نشستیں پی ٹی آئی کے پاس ہیں، اس سے صاف واضح ہے کہ اسلام آباد کے عوام کس کے ساتھ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والوں کی میزبانی صرف اسی صورت میں کی جا سکتی ہے جب وہ عدالتی فیصلے کی خلاف ورزی نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے ہمیشہ عدالتی فیصلے کا احترام کیا ہے، ہم نے ماضی میں کبھی بھی عدالتی فیصلے کی خلاف ورزی نہیں کی۔