اسلام آباد ۔ 24 اکتوبر (اے پی پی)مقبوضہ کشمیر پر بھارتی ناجائز قبضہ کے خلاف 27 اکتوبر کو یوم سیاہ منانے کے حوالہ سے تیاریوں کو حتمی شکل دینے کیلئے اعلیٰ سطحی اجلاس جمعرات کو یہاں وفاقی وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان علی امین خان گنڈاپور کی سربراہی میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں پارلیمانی سیکرٹری اُمور کشمیر و گلگت بلتستان ثوبیہ کمال خان کے علاوہ وزارت اُمور کشمیر، وزارت …
ستائیس اکتوبر کو یوم سیاہ منانے کے حوالہ سے تیاریوں کو حتمی شکل دینے کیلئے اعلیٰ سطحی

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 24 اکتوبر (اے پی پی)مقبوضہ کشمیر پر بھارتی ناجائز قبضہ کے خلاف 27 اکتوبر کو یوم سیاہ منانے کے حوالہ سے تیاریوں کو حتمی شکل دینے کیلئے اعلیٰ سطحی اجلاس جمعرات کو یہاں وفاقی وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان علی امین خان گنڈاپور کی سربراہی میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں پارلیمانی سیکرٹری اُمور کشمیر و گلگت بلتستان ثوبیہ کمال خان کے علاوہ وزارت اُمور کشمیر، وزارت خارجہ، وزارت اطلاعات، آل پارٹیز حریت کانفرنس، ریڈیو پاکستان، پاکستان ٹیلی ویژن، پیمرا، آرٹ کونسل، لوک ورثہ، ایویشن ڈویژن، وزارت داخلہ، چاروں صوبوں کے ساتھ ساتھ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں 27 اکتوبر کو اندرون و بیرون ملک یوم سیاہ منانے کے حوالہ سے تیاریوں کو حتمی شکل دی گئی۔ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام ایک عظیم حوصلے اور عزم کا مظاہرہ کرتے ہوئے سات دہائیوںسے اپنے حق خود ارادیت کیلئے جانوں کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 27 اکتوبر کو مقبوضہ کشمیر پر بھارتی ناجائز قبضہ کے خلاف یوم سیاہ کو اندرون و بیرون ملک اس انداز سے منایا جائے گا تاکہ ایک طرف پوری دُنیا پر مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے انسانیت سوز مظالم بے نقاب ہوں اور دوسری طرف اس دن کی تاریخی حیثیت کے حوالے سے حقائق کو دُنیا کے سامنے مزید واضح کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ 5 اگست کے بھارتی اقدامات کے بعد مقبوضہ کشمیر کے حالات انتہائی گھمبیر صورت حال اختیار کر چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام پچھلے 81 دنوں سے کرفیو کے باعث بدترین حالات سے دوچار ہیں۔ انہوں نے بھارت کو خبردار کیا کہ وہ ان ظالمانہ ہتھکنڈوں سے کشمیریوں کو اپنے حق خود ارادیت کے مطالبہ سے کسی صورت بھی دستبردار نہیں کرا سکتا۔ انہوں نے اس موقع پر ایل او سی پر بھارتی جارحیت کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے پر آزاد کشمیر کے عوام اور پاک افواج کو زبردست خراج عقیدت بھی پیش کیا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت کی متحرک اور مؤثر سفارتکاری کے باعث بھارت عالمی سطح پر بے نقاب ہو چکا ہے اور آج دُنیا کے ہر فورم پر مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بدترین پامالی اور عالمی امن کے حوالہ سے اس مسئلہ کی اہمیت پر کھل کر بات چیت ہو رہی ہے۔ اجلاس میں تمام اداروں کے نمائندوں نے وزیر اُمور کشمیر کو 27 اکتوبر کو یوم سیاہ منانے کے حوالے سے کی گئی اپنی اپنی تیاریوں سے متعلق بریفینگ دی۔ وفاقی وزیر نے حکام کی طرف سے بریفنگ پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں ان تیاریوں کو ایک قومی فریضہ سمجھ کر سرانجام دینا ہے۔ انہوں نے اندرون و بیرون ملک رہنے والے پاکستانیوں اور کشمیریوں سے اپیل کی کہ وہ یوم سیاہ کے حوالے سے ریلیوں میں بھرپور شرکت کریںتاکہ ایل او سی کے دونوں اطراف کے کشمیری یہ محسوس کریں کہ پاکستان کے عوام حق خود ارادیت کے حصول کی اس پرُ امن جدوجہد میں اُن کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اجلاس میں موجود آل پارٹیزز حریت کانفرنس کے وفد نے 27 اکتوبر کو یوم سیاہ منانے کے حوالے سے تیاریوں پر اطمینان اظہار کرتے ہوئے کہاکہ وہ موجودہ حکومت اور وزیر اعظم عمران خان کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے مسئلہ کشمیر کے حل سے متعلق ایک قومی ذمہ داری کا ثبوت دیتے ہوئے متحرک پالیسی اپنائی ہے انہوںنے کہاکہ وہ وزیر اعظم کے جنرل اسمبلی سے خطاب نے مقبوضہ کشمیر کے عوام نے بڑی حوصلہ افزائی کی ہے اور مقبوضہ کشمیر کے عوام اُمید کرتے ہیں کہ ان کی کوششوں سے مسئلہ کشمیر جلد حل ہو گا۔ اجلاس کے آخر میں مقبوضہ کشمیر کے شہداء اور حق خودارادیت کی جدوجہد کی کامیابی کے لیے دُعا بھی کی گئی۔اجلاس میں 24 اکتوبر کو آزادکشمیر کے یوم تاسیس کے حوالے سے بھی اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ پوری پاکستانی اور کشمیری قوم اپنے مقبوضہ کشمیر کے بھائیوں کے حق خود ارادیت کے حصول تک اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔







