اسلام آباد ۔ 25 نومبر (اے پی پی) وفاقی پارلیمانی سیکرٹری ریلوے فرخ حبیب نے کہا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی برطانیہ ار امریکا میں پارٹی کے نام پر لمیٹڈ کمپنیاں قائم ہیں جہاں سے فارن فنڈنگ اور منی لانڈرنگ کے واضح ثبوت ہیں، پی ٹی آئی کا مطالبہ ہے کہ ان جماعتوں سمیت تمام سیاسی جماعتوں کے اکاﺅنٹس کی جانچ پڑتال کی جائے، پی …
وفاقی پارلیمانی سیکرٹری ریلوے فرخ حبیب کی میڈیا کو بریفنگ

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 25 نومبر (اے پی پی) وفاقی پارلیمانی سیکرٹری ریلوے فرخ حبیب نے کہا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی برطانیہ ار امریکا میں پارٹی کے نام پر لمیٹڈ کمپنیاں قائم ہیں جہاں سے فارن فنڈنگ اور منی لانڈرنگ کے واضح ثبوت ہیں، پی ٹی آئی کا مطالبہ ہے کہ ان جماعتوں سمیت تمام سیاسی جماعتوں کے اکاﺅنٹس کی جانچ پڑتال کی جائے، پی ٹی آئی کا اکاﺅنٹ غیر ظاہر شدہ نہیں۔ وہ پیر کو یہاں پی آئی ڈی میں میڈیا کو بریفنگ دے رہے تھے۔ فرخ حبیب نے کہاکہ الیکشن کمیشن کی سکروٹنی کمیٹی سیاسی جماعتوں کی فنڈنگ کے حوالے سے سماعت کر رہی ہے۔ تاثر یہ ہے کہ صرف پی ٹی آئی کی فارن فنڈنگ کا کیس زیر سماعت ہے لیکن در حقیقت ایسا نہیں ہے۔ الیکشن کمشین گذشتہ 5 سال میں جمع کرائے گئے گوشواروں کی جانچ پڑتال اور تحقیقات شفاف طریقے سے کر سکتا ہے۔ 2017ءمیں میں نے الیکشن کمیشن میں پٹیشن دائر کی تھی کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے اکاﺅنٹس کی جانچ پڑتال کی جائے کہ ان کو پیسے بھجوانے والے کون ہیں اور کیا یہ ممنوعہ فنڈنگ کے زمرے میں آتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پی ایم ایل این کے اکاﺅنٹس میںبھی غیر ملکی آن لائن ٹرانزیکشن ہوئی ہے ۔ الیکشن کمیشن کی سکروٹنی کمیٹی کے 23 اجلاس ہوئے لیکن ابھی تک دونوں جماعتوں کی طرف سے جواب جمع نہیں کرایاگیا۔ خدشہ ہے کہ ان جماعتوں کے یہ کاﺅنٹس منی لانڈرنگ کے لئے استعمال کئے گئے ہیں۔ فرخ حبیب نے کہا کہ نواز شریف نے اپنی پارٹی کو 10 کروڑروپے عطیہ کئے اور اگلے روز 44 کروڑ اپنے ذاتی اکاﺅنٹس میں منتقل کر لئے اور اپنی پارٹی کے اکاﺅنٹس کو منی لانڈرنگ کے لئے استعمال کیا اور جو آڈٹ ہوا وہ کیو سی آر کے مطابق نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ پی ایم ایل این یو کے لمیٹڈ کمپنی کے طورپر رجسٹرڈ ہے جو کہ غیرملکی حکومت کے ساتھ معاہدہ، تجارت اور کاروبار کر سکتی ہے اور اس کے سربراہ زیبر گل ہیں۔ اس کا جواب بھی آج تک نہیں آیا۔ انہوں نے کہا کہ پاناما کیس میں بھی مسلم لیگ (ن) کے پاس کوئی منی ٹریل نہیں تھی۔ قطری خط جعلی تھا جو ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا گیا ۔ فرخ حبیب نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی یو ایس اے لمیٹد کے طور پر رجسٹرڈ ہے اس کے سربراہ مارگ سیگل ہیں۔ آصف علی زرداری اس کمپنی کے پرنسپل ہیڈ ہیں۔ یہ معاملہ 3 دہائیوں سے چل رہا ہے۔ 2008ءتا 2012ءمیں پیپلز پارٹی نے اس پلیٹ فارم کو ذاتی لابنگ کے لئے استعمال کیا۔ زرداری اور بے نظیر بھٹو کا این آر او بھی اس لابنگ کے ذریعے حاصل کیا گیاہے، پارٹی کو ان سوالات کا جواب دیناہو گا۔ جو گڑھا پی ٹی آئی کے لئے کھودنا چاہتے ہیں اس میں خود گر جائیں گے۔








