اسلام آباد ۔ 26 نومبر (اے پی پی) حکومت چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار سمیت ملک میں کاروبار اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لئے جامع اقدامات کررہی ہے، سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز اتھارٹی (سمیڈا) کے لئے بنائی گئی نئی پالیسی کے نتیجہ میں ملک میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کے فروغ میں نمایاں اضافہ ہوگا، کاروبار کے لئے ساز گار ماحول کی عالمی رینکنگ میں …
وفاقی وزیرحماد اظہر، کا پاکستان انوویٹو فنانس فورم سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 26 نومبر (اے پی پی) حکومت چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار سمیت ملک میں کاروبار اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لئے جامع اقدامات کررہی ہے، سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز اتھارٹی (سمیڈا) کے لئے بنائی گئی نئی پالیسی کے نتیجہ میں ملک میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کے فروغ میں نمایاں اضافہ ہوگا، کاروبار کے لئے ساز گار ماحول کی عالمی رینکنگ میں پاکستان کی پوزیشن میں نمایاں بہتری آئی ہے، ایف بی آر چھوٹے اور درمیانے درجے کے فروغ کے لئے اپنا کردار ادا کررہا ہے، ٹیکس دوست ماحول کی فراہمی ہمارا عزم ہے، ایف بی آر اور ایس ایم ایز کے شعبے میں اعتماد کے فقدان کو ختم کرنے پر توجہ مرکوز کررہے ہیں، مائیکرو پیمنٹ پلیٹ فارم اور فنانشل انکلوژن کو فروغ دینے کے لئے پاکستان کی حکومت کے اقدامات قابل تعریف ہیں جس کے بہتر نتائج سامنے آئیں گے۔ ان خیالات کا اظہار وفاقی وزیراقتصادی امور حماداظہر،فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے چیئرمین سید شبر زیدی،ہالینڈ کی ملکہ میکسیما ، پاکستان میں برطانیہ کے ڈپٹی ہائی کمشنر رچرڈ کراوڈر اورڈپٹی گورنرسٹیٹ بنک محمد جمیل احمد نے منگل کو یہاں پاکستان انوویٹو فنانس فورم سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ فورم کا اہتمام کارانداز پاکستان، بل اینڈ ملینڈا گیٹس فاﺅنڈیشن، یو کے ایڈ اور ایشیائی ترقیاتی بینک نے مل کر کیا تھا۔ وفاقی وزیرحماد اظہر نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کا شعبہ اقتصادی میدان میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ شعبہ ملک میں روزگار کی فراہمی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ ملک کی مجموعی قومی پیداوار میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کا حصہ 30 فیصد کے قریب ہے جس سے اس شعبے کی اہمیت اجاگر ہوتی ہے۔ حماد اظہر نے کہا کہ ماضی کی حکومتوں نے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کے فروغ پر کوئی توجہ نہیں دی جس کی وجہ سے اس شعبے میں وہ ترقی نہیں ہوئی جو ہونی چاہیے تھی۔ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کا شعبہ ملک کے مجموعی قرضے کا 7 فیصد وصول کرتا ہے۔ موجودہ حکومت نے اس شعبے کا قرض پرائیویٹ سیکٹر کے 7 فیصد سے بڑھا کر 17 فیصد تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی اور انہیں بااختیار بنانے کے لئے کامیاب جوان سکیم کے تحت آسان قرضے فراہم کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سمیڈا کے لئے بنائی گئی نئی پالیسی سمال اینڈ میڈیم سیکٹر کے فروغ کے لئے اہمیت کا حامل ہے۔ حماد اظہر نے کہا کہ حکومت ملک میں کاروبار اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لئے جامع اقدامات کر رہی ہے جس کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں ۔عالمی بینک نے کاروبار میں آسانیوں کے حوالے سے حالیہ رینکنگ میں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اس رینکنگ میں پاکستان میں کاروبار میں آسانیوں کے حوالے سے عالمی رینکنگ میں 28 پوائنٹس کی بہتری آئی ہے، امید ہے کہ آئندہ سال اس میں مزید اضافہ ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی اقدامات کے نتیجے میں وصولیوں کی شرح میں بہتری آئی ہے، ٹیکس فائلر کی تعداد میں رواں سال 7 لاکھ کا اضافہ ہوا ہے جو خوش آئند ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ملکی معیشت کا 30 فیصد حصہ ایس ایم ایز میں کام کرتا ہے ۔ بنگلہ دیش میں یہ شرح 25 جبکہ ترکی میں یہ شرح 39 فیصد ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ مالیات میں ویلیو ایڈیشن کا فروغ اہمیت کا حامل ہے، حکومت اس ضمن میں کام کررہی ہے۔ حکومت کریڈٹ بیوروز کو لائسنس کے اجراءکے طریقہ کار کو بہتر بنا رہی ہے، قرضوں کے علاوہ ایس ایم ایز کو دیگر بہتر سہولیات میں اضافہ کے ذریعے ترقیاتی مواقع فراہم کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کے ساتھ ساتھ غیر مالیاتی مشاورتی خدمات کی فراہمی پر بھی کام کررہے ہیں ۔اس ضمن میں ترقیاتی شراکتداروں سے مل کر حکمت عملی بنارہے ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ پاک چین اقتصادی راہداری کے تحت توانائی، بنیادی ڈھانچے اور صنعتی ترقی کے منصوبوں پر بھی پیشرفت جاری ہے۔ حکومت ایس ایم ایز کی ضروریات سے پوری طرح آگاہ ہے اور اس ضمن میں اپنی ذمہ داریاں نبھا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ملک نے ترقی کرنی ہے تو 90 فیصد انٹرپرائزز پر توجہ دینا ہوگی۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے چیئرمین سید شبر زیدی نے فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ایف بی آر چھوٹے اور درمیانے درجے کے فروغ کے لئے اپنا کردار ادا کررہا ہے، ٹیکس دوست ماحول کی فراہمی ہمارا عزم ہے، ایف بی آر اور ایس ایم ایز کے شعبے میں اعتماد کے فقدان کو ختم کرنے پر توجہ مرکوز کررہے ہیں۔ چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ ملک کی معیشت میں چھوٹے اور درمیانے درجے کی صنعتوں اور کاروبار کا حصہ 30 فیصد کے قریب ہے لیکن اس کا زیادہ تر حصہ دستاویزی نہیں ہے جس کی وجہ سے اس شعبے کو مالیاتی خدمات کی مناسب انداز میں فراہمی نہیں ہو رہی ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ اس کو ٹیکس کے نظام کا حصہ بنایا جائے۔ چیئرمین ایف بی آر کا کہنا تھا کہ بجلی کے صنعتی اور تجارتی صارفین کی تعداد31 لاکھ ہے جن میں سے صرف 43 ہزار سیلز ٹیکس ادا کررہے ہیں، جب تک وہ دستاویزی معیشت کا حصہ نہیں بنتے اس وقت تک انہیں بہتر مالیاتی خدمات فراہم نہیں ہوسکتیں۔ سید شبر زیدی نے کہا کہ ایس ایم ایز اور ایف بی آر کے درمیان اعتماد کے فقدان کو ختم کرنے کے لئے ہم اپنی کوشش جاری رکھے ہوئے ہیں، اعتماد کے فقدان کی وجہ سے ایس ایم ایز ٹیکس نظام کا حصہ نہیں بنتے۔ انہوں نے کہا کہ مینوفیکچرنگ کے شعبے سے منسلک ایس ایم ایز ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں، ماضی میں ان کے ٹیکس کے نظام میں پالیسیوں کی وجہ سے وہ ٹیکس نیٹ سے باہر رہنا پسند کرتے ہیں، سنگل ٹیکس کا قانون بھی ایک اہم مسئلہ رہا ہے جو بڑے اور چھوٹے دونوں کاروبار پر لاگو ہوتا ہے۔ اس وجہ سے ٹیکس دوست ماحول فراہم نہیں ہوسکاہے۔ ایف بی آر اس ضمن میں اپنا کردار ادا کررہا ہے، ہم چھوٹے اور درمیانے درجے کی صنعت اور کاروبار کے لئے ٹیکس قوانین کو آسان بنا رہے ہیں، ماضی میں چھوٹے اور درمیانے درجے کی صنعتوں کے لئے ساز گار ٹیکس ریگولیٹری ماحول نہیں بنایا گیا، ہم اس کو سازگار بنا کر ایس ایم ایز کی حوصلہ افزائی کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایف بی آر اور ایس ایم ایز کے درمیان اعتماد کے فقدان کا خاتمہ اور ایس ایم ایز کے لئے کھاتوں کے نظام کو آسان بنانا ہمارا ہدف ہے، اس ضمن میں ایس ایم ایز کے لئے اکاﺅنٹنگ کا آسان نظام اپنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کے لئے قرضہ جات کی فراہمی میں مشکلات کی ایک وجہ دستاویزات کا نہ ہونا ہے ۔ایس ایم ایز کے شعبہ سے وابستہ افراد جب قرضے کے لئے بینکوں کے پاس جاتے ہیں بینک ان سے اکاﺅنٹس اور دیگر دستاویزات طلب کرتے ہیں۔ اس کی وجہ سے ایس ایم ایز کو وہ قرضے نہیں مل رہے جو ملنا چاہیے۔ چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ ٹیکس کے نظام کو آسان بنانا اور اس کی بنیاد میں وسعت ہمارا ہدف ہے، ٹیکس قوانین کو آسان بنائے بغیر ہم زیادہ سے زیادہ لوگوں کو ٹیکس کے نظام میں نہیں لا سکتے، حکومت اس حوالے سے اصلاحات کے ایک جامع پروگرام پر عمل پیرا ہے جس کے مثبت نتائج برآمد ہوں گے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سٹیٹ بینک کے ڈپٹی گورنر محمد جمیل احمد نے کہا کہ کارانداز پاکستان اور ایشیائی ترقیاتی بینک کی جانب سے فورم کا انعقاد انتہائی خوش آئند ہے۔ انہوں نے کہا کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کے فروغ کے لئے سٹیٹ بینک آف پاکستان اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔ سٹیٹ بینک نے 2016ءمیں ایس ایم ایز کو قرضہ جات کی فراہمی کا پراجیکٹ شروع کیا، کمرشل بینکوں کو بھی اس حوالے سے انتظامات کا کہا گیا۔ اس کے نتیجے میں ایم ایس ایم ایز کے شعبے کو 530 ارب سے زائد قرضے فراہم کئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے شعبہ کی ترقی کے لئے اہم اقدامات اٹھائے ہیں جن میں اس حوالے سے پالیسی کانفاذ، رسک میٹیگیشن حکمت عملی ایس ایم ایز کے لئے قرضوں کی فراہمی، ایس ایم ایز کے لئے لین دین کا محفوظ نظام، ایس ایم ایز کی استعداد کار میں بہتری، لیکویڈٹی کی فراہمی، شریعہ کمپلائنس ایپلیکیشنز اور لین دین میں ٹیکنالوجی کا استعمال شامل ہے جس سے کاروباریوں اور صارفین دونوں کو فائدہ پہنچے گا۔ اس کے علاوہ ریگولیٹری اقدامات بھی شامل ہیں۔ اس موقع پر مائیکرو پیمنٹ گیٹ وے کے ضمن میں مفاہمت کی دستاویزات پر دستخط کئے گئے ۔ معاہدے پر کارانداز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر علی سرفراز اور سٹیٹ بینک آف پاکستان کے سہیل جاوید نے دستخط کئے۔ مفاہمت کی دستاویز سے ایس ایم ایز کی فنانشل انکلوژن اور ادائیگیوں کے ڈھانچے میں نمایاں بہتری آئے گی۔ اس موقع پر ہالینڈ کی ملکہ میکسیما اور پاکستان میں برطانیہ کے ڈپٹی ہائی کمشر بھی موجود تھے۔ ہالینڈ کی ملکہ میکسیما نے کہا ہے کہ مائیکرو پیمنٹ پلیٹ فارم اور فنانشل انکلوژن کو فروغ دینے کے لئے پاکستان کی حکومت کے اقدامات قابل تعریف ہیں جس کے بہتر نتائج سامنے آئیں گے۔ ملکہ میکسیما فنانشل انکلوژن کے لئے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی خصوصی نمائندہ بھی ہیں انہوں نے کہا کہ مائیکرو پیمنٹ پلیٹ فارم اور معیشت کو ترقی دینے کے لئے پاکستان کی حکومت کے اقدامات انتہائی خوش آئند ہیں جس سے بالخصوص خواتین کو زیادہ فائدہ پہنچے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں فنانشل انکلوژن کی شرح 17 سے بڑھ کر 31 فیصد ہوگئی ہے جوبات خوش آئند ہے۔ انہوں نے کہاکہ اس ضمن میں جو اہداف مقرر کئے ہیں ہمیں امید ہے کہ ان کو حاصل کرنے پر بھرپور توجہ دی جائے گی۔ ملکہ میکسیما نے کہا کہ سپلائی چین میں نجی شعبہ کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اسی طرح ای کامرس کا فروغ بھی وقت کی ضرورت ہے لیکن اس حوالے سے آگاہی کو بڑھانا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ مائیکرو پیمنٹ پلیٹ فارم اور فنانشل انکلوژن کو فروغ دینے کے لئے پاکستانی اقدامات قابل تعریف اور حوصلہ افزا ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ اس کے بہتر نتائج سامنے آئیں گے۔قبل ازیں وفاقی وزیراقتصادی امورحماداظہر نے ملکہ میکیسما کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہاکہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی خصوصی ایڈوکیٹ کی حیثیت سے آج کی تقریب میں ملکہ میکیسما کی شرکت ہمارے لئے باعث مسرت ہے۔انہوں نے کہاکہ پاکستان فنانشل انکلوژن کے حوالہ سے پرعزم ہے۔ ہم حکومتی ادائیگیوں کو 100 فیصد ڈیجیٹل بنانے کیلئے کام کررہے ہیں۔ اس موقع پر پاکستان میں برطانیہ کے ڈپٹی ہائی کمشنر رچرڈ کراﺅڈر نے کہا کہ پاکستان اور برطانیہ کے درمیان خصوصی تعلقات قائم ہیں ۔ برطانیہ میں مقیم پاکستانی برطانیہ کی ترقی اور خوشحالی میں اپنا کلیدی کردار ادا کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور برطانیہ کے درمیان تجارتی اور ثقافتی تعلقات قائم ہیں ۔ برطانیہ پاکستانی مصنوعات کی ایک بہت بڑی منڈی ہے۔ انہوں نے کہا کہ برطانیہ پاکستان کے لئے ایشیائی ترقیاتی بینک اور دیگر اداروں کے ساتھ تعاون کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کی ترقی اہمیت کی حامل ہے۔ اس ضمن میں برطانیہ اپنا کردار ادا کرے گا۔








