سپریم کورٹ نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا نوٹیفکیشن معطل کر دیا

اسلام آباد ۔ 26 نومبر (اے پی پی) سپریم کورٹ نے آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کے حوالے سے جاری نوٹیفکیشن معطل کرتے ہوئے آرمی چیف ،وزارت دفاع اور اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کردیئے اور کیس کی مذیدسماعت آج بدھ تک ملتوی کردی۔منگل کوچیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں جسٹس مظہرعالم میاں خیل اورجسٹس منصورعلی شاہ پرمشتمل تین رکنی بنچ نے کیس …

اسلام آباد ۔ 26 نومبر (اے پی پی) سپریم کورٹ نے آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کے حوالے سے جاری نوٹیفکیشن معطل کرتے ہوئے آرمی چیف ،وزارت دفاع اور اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کردیئے اور کیس کی مذیدسماعت آج بدھ تک ملتوی کردی۔منگل کوچیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں جسٹس مظہرعالم میاں خیل اورجسٹس منصورعلی شاہ پرمشتمل تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی۔ اس موقع پردرخواست گزار حنیف راہی کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ وہ اپنی درخواست واپس لینا چاہتے ہیں، اس لئے انہیںاس حوالے سے اجازت دی جائے، تاہم عدالت نے ان کی استدعا مسترد کرتے ہوئے کہا کہ درخواست گزار کا بیان حلفی درخواست کے ساتھ منسلک نہیں دوسری جانب مقدمہ میںایڈوکیٹ آن ریکارڈ پیش ہوئےنہ درخواست گزار خود عدالت میںحاضرہوئے ہیں۔سماعت کے دوران اٹارنی جنرل انور منصورعدالت میں پیش ہوئے تو چیف جسٹس نے ان سے استفسارکیاکہ وزیراعظم کوآرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کرنے کااختیار حاصل نہیں،بلکہ یہ اختیار صدرمملکت کوحاصل ہے پھرکس بنیاد پر آرمی چیف کی مدت ملازمت میںتوسیع دی گئی ہے جس پر اٹارنی جنرل نے بتایاکہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع صدر مملکت کی منظوری کے بعد کی گئی ہے، اوراس کیلئے کابینہ سے سمری کی منظوری بھی لی گئی ہے ۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ وزیراعظم نے کابینہ کی منظوری کے بعد سمری پر دستخط کئے تھے ،چیف جسٹس نے ان سے کہا کہ قانون کے مطابق توحتمی منظوری صدر نے دینا ہوتی ہے اب یہاں سوال یہ ہے کہ 19اگست کو وزیراعظم کو بتایا جاتا ہے کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع دیناآپ کااختیار نہیں، پھرپتہ چلاکہ توسیع دیناصدر اور وزیراعظم دونوں کا اختیار نہیں.بلکہ یہ فیصلہ کابینہ نے کرنا ہوتاہے جس کے بعد 21 اگست کو معاملہ منظوری کیلئے کابینہ کو بھجوا دیا گیا،اب یہ نہیں کہا جا سکتا کہ مدت ملازمت میں توسیع کے بارے میںکابینہ کی اکثریت نے منظوری دی تھی کیونکہ کابینہ کے 25 میں گیارہ ارکان نے توسیع دینے پررضامندی ظاہرکی تھی چیف جسٹس نے مذید کہاکہ جمہوریت میں فیصلے اکثریت رائے سے ہوتے ہیںاورکابینہ کے جن ارکان نے اس معاملے میںجواب نہیں دیا, انکا انتظار کرنا چاہئیے تھا ان ارکان نے نفی میں بھی جواب نہیں دیا تھا اب عدالت کوبتایا جائے کہ کیا حکومت کابینہ ارکان کی خاموشی کو "ہاں” سمجھتی رہی ہے،سوال یہ ہے کہ کیا کہ نوٹیفیکیشن کابینہ سے منظوری کے بعد وزیراعظم سے ہوتے ہوئے صدر تک نہیں جانا چاہئیے تھا، اس معاملے میںآرٹیکل 255 کے تحت ازسر نو تقرری کا نہیں البتہ توسیع کا اختیار ہے ۔چیف جسٹس نے کہاکہ سمری میں توسیع کا لفظ استعمال کیا گیا جبکہ یہاںازسر نو تقرری کی جا رہی ہے ، توسیع کی منظور ی پہلے صدرسے لینے کی بجائے کابینہ سے لی گئی،جس نے جاری شدہ نوٹیفکیشن کی تاریخ سے توسیع کی منظوری دی، سماعت کے دوران جسٹس منصور علی شاہ نے استفسارکیاکہ کیاقانون میں مدت ملازمت میں توسیع کے لئے کوئی ایسی شق موجود ہے، کیونکہ کابینہ اجلاس میں بھی توسیع سے متعلق وجوہات زیر بحث نہیں آئیں،جس کی وجہ سے یہ سوال اٹھتاہے کہ کیا کابینہ نے توسیع کی منظوری دیتے ہوئے اپنا ذہن استعمال کیا تھاجبکہ چیف جسٹس کاکہنا تھاکہ توسیع کی منظوری سرکولیشن کے ذریعے کابینہ سے لی گئی ہے ، عدالت کوبتایا جائے کہ آرمی چیف کی توسیع کیمدت کس طرح متعین اورکس طرح یہ اندازہ لگایا گیا ہے کہ ہنگامی حالات تین سال تک رہیں گے، یہی وجہ ہے کہ عدالت آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کانوٹیفیکشن معطل کررہی ہے بعدازاں عدالت نے آرمی چیف سمیت تمام فریقین کونوٹس جاری کرتے ہوئے جنرل قمرجاوید باجوہ کوکیس میں باضابطہ فریق بنا لیااورمزید سماعت آج بدھ کی صبح تک ملتوی کرتے ہوئے اپناحکم نامہ جاری کردیا جس میں کہا گیا ہے کہ اٹارنی جنرل کی جانب سے عدالت کو آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کی سمری پیش کی گئی جس کے مطابق وزیراعظم نے 19 اگست کو اپنے طور پرجنرل قمرجاوید باجوہ کی دوبارہ تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا تاہم نوٹیفکیشن کے اجراءکے بعد غلطی کا احساس ہو نے پر وزیراعظم نے صدر کو سمری بھجوائی جنہوں نے 19 اگست کو ہی سمری کی منظوری دیدی تھی عدالتی حکم کے مطابق کیس کی سماعت کے دوران عدالت کو بتایا گیا کہ علاقائی سکیورٹی کی صورتحال کے پیش نظر آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کی جا رہی ہے، حالانکہ علاقائی سیکورٹی سے نمٹنا کسی ایک افسر کی نہیں بلکہ بطور ادارہ پوری فوج کی ذمہ داری ہے ، اوراگرعلاقائی سیکورٹی کی صورتحال کومدت ملازمت میں توسیع کی وجہ مان لیا جائے تو فوج کا ہر افسر دوبارہ تعیناتی چاہے گا، ،عدالت نے مزید کہا کہ اس اہم ترین مقدمہ میںسامنے آنے والے نکات کا تفصیلی جائزہ لینے کی ضرورت ہے کیونکہ وفاقی کابینہ کے 25 میں سے 11 ارکان نے مدت ملازمت میں توسیع کی منظوری دی تھی اس طرح صدر کی منظوری کے بعد یہ معاملہ کابینہ میں پیش توکیا گیا لیکن کابینہ کی منظوری کے بعد سمری وزیراعظم اور صدر کو پیش نہیں کی گئی، اس حوالے سے اٹارنی جنرل کے مطابق سروسز چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کرنا وفاقی حکومت کااختیار ہے ،لیکن انہوں نے عدالت کو قانون کی کوئی ایسی شق نہیں بتائی جس میں آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کرنے یادوبارہ تعیناتی کی اجازت دی گئی ہو، بلکہ اس معاملے میں وزیر اعظم نے خود حکم جاری کرکے موجودہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کی ہے، حالانکہ آرٹیکل 243 کے تحت اس معاملے میں صدرمملکت ہی مجاز اتھارٹی ہوتا ہے ،عدالت نے مزید کہا کہ عدالت نے درخواست گزار کی جانب سے عدم پیروی کے باوجود اس مقدمہ کو مفاد عامہ کا معاملہ قرار دیتے ہوئے 184(4) کے تحت قابل سماعت قرار دے کراس کی سماعت کی ۔